حج کا موسم
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ موسم حج کو اپنی رعایا اور والیان ریاست کی صحیح معلومات حاصل کرنے کا ایک بہترین موقع شمار کرتے تھے اور اسے حکومتی کارکردگی کے جائزہ و محاسبہ اور مختلف حکومتی امور و شعبہ جات میں تبادلہ خیال کا موسم قرار دیتے تھے چنانچہ اس میں وہ لوگ اکٹھے ہوتے جنہیں حکومت سے کوئی شکایت ہوتی یا مظالم کے شکار ہوتے اور وہ لوگ بھی ہوتے جو آپؓ کی طرف سے ملک کے مختلف علاقوں میں اعمال و والیان ریاست کی نگرانی پر مامور ہوتے تھے۔ خود والیان اپنی کارکردگی کا حساب پیش کرنے کے لیے وہاں آتے تھے گویا حج کا موسم موجودہ دور کی ترقی یافتہ جنرل اسمبلیوں سے کہیں زیادہ بہتر جنرل اسمبلی کا منظر پیش کرتا تھا۔
(عبقریۃ عمر: العقاد: صفحہ 82، الدولۃ الإسلامیۃ: حمدی شاہین: صفحہ 138) سیدنا عمرؓ حج کے موسم میں رعایا کے سامنے اپنے اعمال کی ذمہ داریوں کو مختصراً بیان کرتے تھے اور پھر کہتے: ’’جس کے ساتھ اس کے خلاف برتاؤ ہوا ہو وہ کھڑا ہو جائے اور بتائے۔‘‘ اس وقت پورے حجاج کے جم غفیر سے صرف ایک آدمی کے علاوہ کوئی دوسرا کھڑا نہ ہوا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ والیان ریاست عدل پرور و انصاف پسند تھے اور ان کی رعایا ان سے خوش تھی اور جو آدمی کھڑا ہوا تھا اس نے کہا کہ: آپؓ کے فلاں عامل نے مجھے سو کوڑے مارے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے عامل سے اس کی وجہ دریافت کی، لیکن عامل سے کوئی جواب نہ بن پڑا، آپؓ نے اس آدمی سے کہا: اٹھو اور ان سے بدلہ لو۔ درمیان میں حضرت عمرو بن عاصؓ کھڑے ہو گئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپؓ نے ایسا کیا تو ایسے معاملات کی کثرت ہو جائے گی اور ایک سنت چل پڑے گی جسے آپؓ کے بعد آنے والے نافذ کریں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا میں بدلہ نہ دلواؤں حالانکہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے کہ آپؓ نے خود اپنی ذات سے بدلہ دلوایا؟ حضرت عمرو بن عاصؓ نے کہا: ہمیں اجازت دیجئے ہم اسے راضی کر لیں۔ آپؓ نے فرمایا: لے جاؤ اسے راضی کر لو۔ چنانچہ دو سو دینار یعنی ہر کوڑے پر دو دینار کے بدلے اس آدمی کو راضی کر لیا۔
(الطبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 222)