فتح اسکندریہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتح اسکندریہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

جس وقت مسلمانوں نے اسکندریہ پر فتح کا پرچم لہرایا اس وقت اسے دارالحکومت کی حیثیت حاصل تھی اور قسطنطنیہ کے بعد بارنطینی رومی بادشاہت کا دوسرا بڑا شہر مانا جاتا تھا، نیز دنیا کا سب سے پہلا تجارتی شہر تھا، بارنطینی یہ بات اچھی طرح جان چکے تھے کہ اگر اس شہر پر مسلمانوں کا غلبہ ہوگیا تو اس کے بہت بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔ یہی غم انہیں کھائے جا رہا تھا حتیٰ کہ پریشانی کے عالم میں ہرقل نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اسکندریہ پر عرب غالب ہوگئے تو رومی بادشاہت کا سقوط اور اس کی ہلاکت یقینی ہے۔ 

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 226 )

بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ اسکندریہ میں مسلمانوں سے لڑنے کے لیے اس نے بہ نفس نفیس تیاری کی تھی، لیکن جب تیاری مکمل کر چکا تو اسے مرگی کا دورہ پڑگیا اور مر گیا اور اللہ مسلمانوں کی طرف سے اس کے لیے کافی ہوگیا۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: حمدی شاہین: صفحہ 226۔ بحوالۂ ابن عبدالحکم)

 ہرقل کے مر جانے کے بعد بیزنطی حکومت لڑکھڑانے لگی، تو اس کے دونوں بیٹوں، قسطنطین اور ہرقل دوم (ہرقلیانوس) نے مل کر اس کی باگ ڈور سنبھالی اور ماضی کی وراثت کو برقرار رکھنے کی خاطر ’’ہرقلیانوس‘‘ کی ماں ’’مارٹینا‘‘ ان دونوں کی شریک کار رہی، لیکن ہرقل کو مرے ہوئے ابھی پورے سو دن بھی نہ گزرے تھے کہ اس کا لڑکا قسطنطین بھی اس دنیا سے چل بسا، اس کے مرجانے کے بعد شکوک وشبہات کی انگلیاں ہرقلیانوس کی ماں مارٹینا کی طرف اٹھنے لگیں کہ شاید تنہا اپنے لڑکے کو بادشاہت کی گدی پر بٹھانے کے لیے اس نے ایسا کیا ہے، جس کے نتیجہ میں مارٹینا کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی اور کئی مہینے شہر فتنوں کے شعلوں میں جلتا رہا، بالآخر ملک میں اس وقت امن بحال ہوا جب قسطنطین کا لڑکا کونسٹانس اپنے چچا ہرقلیانوس کی مشارکت سے بیزنطی بادشاہت کی قیادت کرنے لگا۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: حمدی شاہین: صفحہ 227)

اسکندریہ اپنی فصیلوں کی استواری، ضخامت، محل وقوع اور محافظوں کی کثرت کی وجہ سے دفاعی اعتبار سے اپنا منفرد مقام رکھتا تھا۔ اس کے شمال میں (بحرمتوسط) بہتا تھا، جو اس وقت رومیوں ہی کے قبضہ میں تھا۔ جنوب میں بحیرئہ مریوط تھا، جس کا عبور کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن تھا، یہ قدیم زمانے میں دریائے نیل کی شاخوں میں سے ایک شاخ کا نام (نزعۃ الثعبان) تھا، مغرب سے اسکندریہ کو اپنی لپیٹ میں لیے تھا۔ صرف مشرق کی سمت باقی تھی جہاں سے ایک راستہ اسکندریہ کو جاتا تھا، وہ یہی راستہ تھا جو کریون سے اسکندریہ تک ملا ہوا تھا۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: حمدی شاہین: صفحہ 225)

جب محاصرہ کئی مہینوں تک طویل ہوگیا تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ اندیشے پیدا ہونے لگے کہ کہیں آپ کی فوج اکتا تو نہیں گئی یا دشمن سے مقابلہ کرنے کی اس میں ہمت نہیں رہی۔ اس لیے آپ نے چند فوجی دستے تیار کیے اور ڈیلٹائے نیل اور صعید کے گاؤں اور بستیوں میں انہیں ترکتازی کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا، لیکن دوسری طرف یہ محاصرہ جوں جوں طویل ہوتا جا رہا تھا خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ناراض ہو رہے تھے اور اسلامی لشکر کی تیاریوں اور جنگی کارروائی کے بارے میں مختلف قسم کے شبہات و بدگمانیاں آپ کے دل میں پیدا ہو رہی تھیں۔ سیدنا عمرؓ سوچنے لگے تھے کہ شاید تاخیر کی وجہ اسلامی فوج کی عیش پرستی ہے۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: حمدی شاہین: صفحہ 227)

اس بات کو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے نام تحریر کیے ہوئے خط میں صراحت سے لکھا: حمد وصلاۃ کے بعد! میں حیران ہوں کہ اب تک تم مصر فتح نہیں کر سکے، حالانکہ دو سال سے لڑ رہے ہو۔ اس کی وجہ اس بات کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے کہ تمہارے دلوں میں بزدلی پیدا ہوگئی ہے یا تم دنیا کی محبت میں اس طرح پھنس گئے ہو جس طرح تمہارا دشمن مبتلا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی صرف اسی وقت مدد کرتا ہے جب ان کے دلوں میں سچی لگن ہو۔ میں نے چار مرد آہن (زبیر اور ان کے ساتھی) تمہاری مدد کے لیے بھیجے تھے اور تمہیں مطلع کیا تھا کہ میرے علم کے مطابق ان میں سے ہر ایک ہزار مردوں کے برابر ہے، یہ اور بات ہے کہ ان کو بھی دنیا کی محبت نے اسی طرح بدل دیا ہو جس طرح دوسروں کو بدل دیا ہے۔ جب تمہیں میرا یہ خط ملے فوراً لوگوں کو جمع کر کے تقریر کرو اور لوگوں کو ترغیب دو کہ سچی لگن اور پامردی سے لڑیں، ان چاروں مرد آہن کو فوج کے سامنے رکھو اور فوج کو حکم دو کہ تن واحد کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ یہ حملہ جمعہ کے دن زوال آفتاب کے وقت ہو کیونکہ اس وقت اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس وقت لوگ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں اور اس سے فتح کے لیے دعائیں مانگیں۔ جب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ خط آیا تو آپؓ نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور انہیں خط پڑھ کر سنایا پھر چاروں بہادروں کو بلایا اور انہیں فوج کے آگے کیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ غسل کر کے دو رکعت نماز پڑھ لیں، پھر خلوص و للہیت سے اللہ کی طرف دست بدعا ہوں اور فتح کی درخواست کریں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے انہیں فتح نصیب کی۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، صفحہ 228)

صفحہ 2 از 3