تیسری شہادت
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہواقعہ غار کے متعلق تیسری شہادت شیعہ کی مستند کتاب ”تفسیرِ قمی“ (صفحہ 157) میں یوں پائی جاتی ہے۔
قوله: اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا فانه حدثنی ابی عن بعض رجاله دفعه الى ابی عبدالله عليه السلام قال لما كان رسول اللهﷺ فی الغار قال لابی بکرؓ کانی انظر الى سفينة جعفر واصحابه تقوم فى البحر وانظر الى الانصار مختبین فى افتيتهم فقال ابوبكرؓ تراهم يا رسول اللهﷺ قال نعم فارينهم فمسح عنييه وراهم فقال له رسول اللهﷺ انت الصديق
ترجمہ: (قوله اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ) راوی کہتا ہے کہ مجھ سے میرے باپ نے حدیث بیان کی اس نے بعض رجال سے جنہوں نے امام صادق تک روایت پہنچائی۔ امام نے فرمایا جب کہ تھے رسولِ پاکﷺ غار میں ابوبکرؓ کو فرمایا: "گویا کہ میں جعفر اور اُس کے ساتھیوں کی کشتی دیکھ رہا ہوں جو دریا میں کھڑی ہے اور میں انصارِ مدینہ کو بھی دیکھ رہا ہوں جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی:
یا رسول اللہﷺ! آپﷺ ان کو دیکھ رہے ہیں؟
آپﷺ نے فرمایا: ہاں!
حضرت ابوبکرؓ نے کہا:
مجھے بھی دکھائیے۔
حضورﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کی آنکھوں کو اپنے دست مبارک سے مس فرمایا تو اس کو وہ تماشا نظر آیا۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ "تو صدیق ہے۔"
اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ غار میں جو اسرار حضورِ انورﷺ مشاہدہ فرما رہے تھے، ان کے مشاہدہ میں حضرت ابوبکرؓ کو بھی شریک فرمایا اور آنکھوں کو دست مبارک سے مس فرمایا، تو سب کچھ نظر آنے لگا۔ پھر آپﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ "بے شک تو صدیقؓ ہے۔"
جب حضورﷺ کے دست مبارک نے حضرت ابوبکرؓ کے چہرہ کو منور فرمایا اور کشف اسرار غیبیہ ہوا، تو پھر اُس چہرہ کو نارِ دوزخ سے کیا خطرہ؟ جب کہ ایک رومال دست مال جو حضرت انسؓ کو عنایت ہوا تھا، آگ میں ڈالتے تو پہلے سے زیادہ شفاف و صاف نظر آنے لگتا اور آگ اس کو نہ جلا سکتی بلکہ اور جلا بخشتی تھی۔ پھر دست مبارک کی برکت سے جو کشف اسرار غیبیہ حضرت ابوبکرؓ کو حاصل ہو گیا پھر یہ عطیہ عظمیٰ اُن سے کون چھین سکتا تھا؟
سیدنا صدیق اکبرؓ کو کلید اسرارِ غیبی بہ صلہ رفاقتِ غار عطا ہوئی، علاوہ ازیں یہ حدیث اس بات میں نص ہے کہ حضرت ابوبکرؓ بہ صلہ خدمات سفرِ ہجرت و مصاحبتِ غار لقبِ "صدیق" بارگاہ رسالت مآبﷺ سے عطا ہوا تھا۔ جس کی شہادت کتبِ شیعہ صراحت سے دے رہی ہیں۔ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ
این سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشنده
اسی مضمون کی حدیث فروع کافی: جلد 3، صفحہ 123 میں اور حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 244 میں درج ہے اگرچہ ان میں مصنفین نے حسبِ عادت کسی قدر نیش زنی کی ہے لیکن واقعہ جوں کا توں نقل کر دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔