حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 7
میں نے کہا تم یہاں رہو، میں خود اس شخص کو دیکھ کر آتا ہوں پھر میں مکہ آیا اور کمزور و ناتواں شخص کو مکہ والوں میں چھانٹا (اس لیے کہ طاقت ور شخص سے پوچھنے پر مجھے تکلیف پہنچنے کا امکان تھا اور کمزور شخص سے کوئی خطرہ نہیں تھا) اور اس سے پوچھا، وہ شخص کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو۔ ( یعنی دین بدلنے والا) عرب کے کفار معاذاللہ حضرت محمد رسول اللہﷺ کو صابی کہتے تھے۔ اس نے میری طرف اشارہ کرکے لوگوں کو بھڑکایا اور کہا یہ صابی شخص ہے، یہ سن کر اہلِ مکہ ڈھیلے، ہڈیاں لے کر مجھ پر ٹوٹ پڑے اور اس قدر مارا کہ میں چکرا کر گر پڑا، جب میں ہوش میں آکر اٹھا تو میں نے اپنے آپ کو لال بت (خون میں نہانے کی بناء پر) کی مانند دیکھا، اسی وقت زمزم پر آیا، پانی پیا اور خون دھویا، تیس دن وہاں رہا، زمزم کے پانی کے علاؤہ اور کوئی کھانا میرے پاس نہ تھا، جب بھوک لگتی تو اسی کو پی لیتا، یہاں تک کہ (موٹاپے سے) میرے پیٹ کی بٹیں لٹک گئیں، اور میں نے اپنے کلیجہ میں بھوک کی توانائی قطعاً محسوس نہیں کی۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 297 جلد، 2)
ان ہی دنوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رات میں کعبہ شریف سے گزر ہوا، تو دیکھا کہ ایک پردیسی مسافر ہے، ان کو اپنے گھر لے آئے، میزبانی فرمائی، لیکن اس کے پوچھنے کی کچھ ضرورت نہ سمجھی کہ تم کون ہو، کیوں آئے ہو؟ مسافر نے بھی کچھ ظاہر نہیں کیا، صبح کو پھر مسجد حرام میں آ گئے، اپنی زنبیل اور مشک رکھ کر مکہ مکرمہ کے کوچہ و بازار میں شام تک مصروفِ جستجو رہے لیکن کامیابی نہیں ہوئی، پھر حرم شریف لوٹ آئے، آج کے دن بھی شام کو سیدنا علیؓ حرم کے پاس سے گزرے، انہیں دیکھ کر فرمایا کیا آدمی کے لیے اپنی فرودگاہ تک جانے کا وقت نہیں آیا، یہ کہہ کر انہیں اپنے ساتھ لیا اور گھر لے آئے، آج بھی میزبانی کی مگر اس رات بھی پوچھنے کی نوبت نہ آئی اور صبح سویرے حرم شریف میں آ دھمکے۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 545 جلد، 1 حدیث نمبر، 3861)
آج کی رات عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جسے خود نقل کرتے ہیں
فبینما أہل مکۃ في لیلۃ قمراء اضحیان إلخ۔
ترجمہ: چاندنی رات خوب روشن تھی، اہلِ مکہ اپنے کاموں میں مصروف تھے کہ یکایک اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت نے تھپکیاں دے کر انہیں سلا دیا، اس وقت بیت اللہ شریف کا طواف کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ صرف دو عورتیں اُساف اور نائلہ کو دُہائی دے رہی تھیں، یہ عورتیں طواف کرتے کرتے میرے سامنے آئیں، میں نے کہا ایک کا نکاح دوسرے سے کر دو، یہ سن کر بھی وہ اساف و نائلہ کو پکارنے سے باز نہ آئیں،
اس دفعہ میں نے صاف کہہ دیا ان کے فلاں میں لکڑی۔ یہ عورتیں اپنے معبود کے بارے میں کھلم کھلا گالی سن کر چلائیں اور یہ کہتی ہوئی چلیں، کاش! اس وقت میری جماعت کا کوئی آدمی یہاں ہوتا تو اس کی خبر لیتا، راستہ میں ان عورتوں کو رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ پہاڑ کی جانب سے آتے ہوئے ملے، رسول اللہﷺ نے ان عورتوں سے پوچھا کیا ہوا؟ وہ بولیں! ایک صابی کعبہ شریف کے پردوں میں چھپا ہوا ہے، انہوں نے پھر دریافت کیا! وہ صابی کیا بولا؟ وہ بولیں! زبان تک لانے کی بات نہیں ہے وہ بہت بُری بات بک رہا ہے۔ اس گفتگو کے بعد وہ تو گھر روانہ ہو گئیں۔اور رسول اللہﷺ اپنے ساتھی کے ساتھ کعبہ شریف تشریف لائے، حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور طواف کیا پھر نماز پڑھی، جب نماز پڑھ چکے تو سیدنا ابوذرؓ نے کہا میں نے ہی اول اسلام کی سنت ادا کرتے ہوئے السلام علیک یا رسول اللہ کہا آپﷺ نے فرمایا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ پھر آپﷺ نے دریافت فرمایا من أنت؟ تو کون ہے؟
میں نے عرض کیا من غفاری قبیلہ غفار کا ایک شخص ہوں۔ یہ سنتے ہی پیغمبر اسلامﷺ نے اپنے ہاتھ کو پیشانی کی طرف جھکایا اور سر پکڑ لیا میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید غفاری کی جانب میرے انتساب کو آپﷺ نے نا پسند فرمایا۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 297 جلد، 2)
رسول اللہﷺ کے سر پکڑنے کی طبقات سیدنا ابنِ سعد رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں یہ وجہ لکھی ہے! عجب النبيﷺ أنہم یقطعون الطریق فجعل النبيﷺ یرفع بصرہ فیہ ویصوّبہ تعجباً من ذلک لِما کان یعلم منہم۔
نبی اکرمﷺ کو تعجب ہوا کہ قبیلہ غفار تو رہزنی کرتے اور ڈاکہ ڈالتے ہیں (ان میں ایسا شخص کیوں کر پیدا ہو سکتا ہے) رسول اللہﷺ نے پھر متعجب ہو کر اپنی نگاہ ان پر ڈالی اور کبھی جھک کر دیکھا، کیونکہ غفاریوں کے حالات سے خوب واقف تھے، پھر فرمایا
انّ اللہ یہدی من یشاء۔
ترجمہ: یقیناً اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 223 جلد، 4)
بہر حال حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں آپﷺ کے دستِ مبارک پکڑنے کے لیے لپکا، لیکن ان کے ساتھی (سیدنا ابوبکر صدیقؓ) نے مجھے روک لیا وہ بہ نسبت میرے رسول اللہﷺ کی طبیعت سے زیادہ واقف تھے، پھر آپﷺ نے سر اٹھایا اور فرمایا تم یہاں کب سے ہو؟ میں نے عرض کیا تیس راتیں یہاں گزر گئیں، آپﷺ نے فرمایا تجھے کون کھانا کھلاتا ہے؟ میں نے کہا زمزم کے پانی کے علاؤہ کچھ کھانا وغیرہ نہیں ہے، بلکہ زمزم کے پانی ہی پر گزر بسر کرتا ہوں، میں موٹا ہو گیا، یہاں تک کہ (موٹاپے کی وجہ سے) پیٹ کی شکن لٹک گئی، اور میں اپنے کلیجہ میں بھوک کے ضعف کا کوئی اثر نہیں پاتا۔ نبی اکرمﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا
إنہا مبارکۃ، إنہا طعام طعم۔
ترجمہ: زمزم کا پانی برکت والاہے، اور سیر کرنے اور پیٹ بھرنے والی غذا اور کھانا ہے۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 297 جلد، 2)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے یہاں صرف سونے کے لیے دو راتیں گزاری تھیں، کھانے کی مہمان داری نہیں ہوئی تھی۔ اسی صورت میں دونوں صحیح روایتوں میں تطبیق ہو سکے گی۔
الغرض:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! آج کی رات انہیں کھانا کھلانے کی مجھے اجازت دیجئے۔ انہیں اجازت مل گئی، رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلے، میں بھی ان دونوں کے ساتھ چلا، حضرت ابوبکر صدیقؓ مجھے اپنے ساتھ گھر لائے اور طائف کی کشمشیں نکال کر ہمارے حوالہ کیں، یہ سب سے پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ مکرمہ میں کھایا، پھر جب تک ٹھہرنا چاہا ٹھہرا۔
صفحہ 2 از 7