حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 7
(صحیح مسلم: صفحہ، 297 جلد، 2)
واضح رہے کہ صحیح مسلم کی روایت میں ان کے اسلام لانے کے لفظ کی صراحت نہیں ہے، جس کی بناء پر علامہ سندیؒ ہی کی رائے کو ترجیح دیتا ہوا رقم طراز ہوں کہ در حقیقت نبی اکرمﷺ کی اس ملاقات سے ان کے دل میں ایمان خوب راسخ ہو گیا تھا مگر یہ برملا اس کا اظہار نہ کر پائے اور رسول اللہﷺ کے ٹھکانہ کا انہیں صحیح علم نہیں ہو سکا، جس کی بناء پر پھر تیسری رات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مہمان بنے اور ساری راز دارانہ گفتگو وغیرہ ہوئی واللہ اعلم۔
(حاشیہ سندی علی صحیح مسلم: صفحہ، 297 جلد، 1)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صبح ہوتے ہی حرم میں آ گئے، جب رات ہوئی تو سیدنا علیؓ نے آج تیسری رات ضیافت کے لیے اپنے ساتھ گھر لے پہنچے، آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نہ رہا گیا، بول پڑے! مالذي أقدمک؟ کس ضرورت سے آپؓ آئے ہیں؟ اور کیا غرض ہے؟ تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے پہلے ان کو قسم اور عہد و پیمان دیئے اس بات کی کہ وہ صحیح اور سچ سچ بتائیں گے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عہد کیا۔ اس کے بعد اپنی غرض بتلائی، یہ سن کر سیدنا علیؓ نے فرمایا یہ بالکل سچ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ جب صبح ہو تو میرے ساتھ چلنا میں وہاں تک پہنچا دوں گا لیکن مخالفت کا زور ہے اس لیے راستہ میں اگر ایسا واقعہ نظر آئے کہ جس سے میرے ساتھ چلنے کی وجہ سے تم پر کوئی خطرہ معلوم ہو تو بیٹھ جاؤں گا، گویا کہ پیشاب کر رہا ہوں تم سیدھے چلے چلنا، پھر جدھر میں جاؤں چلے جانا اور جہاں داخل ہونے لگوں تو تم بھی وہاں داخل ہو جانا۔ چنانچہ صبح کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پہنچے، وہاں جا کر رسول اکرمﷺ کے کچھ فرمانِ عالی سنے۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 545 جلد، 1 حدیث نمبر، 3861)
طبقات ابنِ سعد کی روایت میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے قرآن مجید کی کچھ آیت تلاوت کرنے کی درخواست کی، تو آپﷺ نے قرآن کریم کی ایک سورت پڑھی، جسے سیدنا ابوذرؓ نے سن کر اشہد أن لاالہ الا اللہ واشہد ان محمداً رسولہ بلند آواز سے پڑھا اور اسی وقت مسلمان ہو گئے۔ تھوڑی دیر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، رسول اللہﷺ نے ان کے اسلام کی خوش خبری سنائی، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے انہیں بغور دیکھ کر پہچان لیا اور فرمایا ألیس ضیفي بالأمس؟  کیا وہ شخص نہیں ہے جو کل میرے مہمان تھے؟
جواب دیا کیوں نہیں! پھر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا انطلق معی میرے ساتھ چلئے حضرت صدیقِ اکبرؓ اپنے گھر لے گئے اور انہیں دو رنگین و خوبصورت کپڑے نکال کر دیئے، کپڑے بدلے اور جب تک مکۃ المکرمۃ میں ان کا قیام رہا، حضرت ابوبکرؓ کے مکان پر مقیم رہے۔
(صفحہ، 223 جلد، 4)
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ چوتھے نمبر پر مسلمان ہوئے ہیں یہ خود فرماتے ہیں:
أسلم قبلی ثلاثۃ وأنا الرابع۔
ترجمہ: مجھ سے پہلے کُل تین حضرات مسلمان ہوئے، اور میں چوتھے نمبر پر مسلمان ہوا ہوں۔
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 157 جلد، 1)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اسلام کے مبلغِ اوّل:
حضرت ابوذرؓ کے کانوں میں جب کبھی غیر اللہ کے نام کی دہائی کی آواز گونجتی تو ان کی غیرتِ ایمانی جوش میں آجاتی اور کافروں کے ہاتھوں کافی تکلیفیں اٹھانا پڑتیں۔ ان کے بہادرانہ کردار اور غیرتِ ایمانی کو دیکھتے ہوئے اور ان پر شفقت کرتے ہوئے رسول اللہﷺ نے انہیں ان کی قوم کا بلکہ اسلام کا مبلغِ اوّل بنا کر بھیجنا چاہا اور اس طرح ارشاد فرمایا
قد وُجِّہتْ لي أرض نخل، لاأراہا إلا یثرب فہل أنت مبلغ عني قومک؟ عسی اللہ أن ینفعہم بک ویاجرک فیہم۔
ترجمہ: مجھے کھجوروں والی زمین دکھلائی گئی ہے اور میں اسے یثرب (مدینۃ منورۃ) کے علاؤہ اور کسی شہر کو خیال نہیں کرتا، تو کیا میری طرف سے تم اپنی قوم میں تبلیغ کر سکتے اور دین کی دعوت دے سکتے ہو؟ امید ہے کہ تیری ذات سے اللہ تعالیٰ انہیں نفع پہنچائے اور تمہیں ان میں تبلیغ کرنے کا اجر و ثواب دے۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 298 جلد، 2)
یہ دعوت و تبلیغ کے لیے آمادہ ہو گئے اور فرمایا۔
إنی منصرف إلی أہلي وناظر متی یوم بالقتال فالحق بک۔
ترجمہ: میں اپنے گھر جاتا ہوں اور انتظار کرتا رہوں گا کہ جنگ کا کب حکم دیا جاتا ہے تو اسی وقت آپﷺ سے آملوں گا۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 223 جلد، 4)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ تاڑ گئے تھے کہ رسول اللہﷺ شفقتاً انہیں واپس بھیج رہے ہیں تا کہ کفار کی ایذاؤں کا انہیں زیادہ سامنا نہ کرنا پڑے، لہٰذا تجاہلِ عارفانہ برتتے ہوئے دریافت کیا۔
فإنني أری قومک علیک جمیعاً۔
ترجمہ: آپؓ کی قوم کو متفق ہو کر آپؓ کے ایذاء کے درپے میں دیکھتا ہوں اس لیے بھی میرا جانا مناسب ہے۔ یہ سن کر ارشاد فرمایا أصبت سچ کہتے ہو۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 222 جلد، 4)
یہ سنتے ہی سیدنا ابوذرؓ کی رگِ حمیت پھڑک اٹھی اور مارِ جوش کے کہا۔
لا أرجع حتی أصرخ بإسلام في المسجد الحرام۔
ترجمہ: میں نہیں جا سکتا جب تک کلمہ اسلام کے ساتھ مسجد حرام میں جا کر نہ چیخوں حتیٰ کہ غیظ میں آ کر قسم کھا بیٹھے، جو صحیح بخاری میں ریکارڈ ہے۔
والذي نفسي بیدہ لأصرخنّ بہا بین ظہرانیہم۔
ترجمہ: اس ذات پاک کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس کلمہ توحید کو ان کافروں کے بیچ میں چلا کر پڑھوں گا۔ چنانچہ اسی وقت مسجدِ حرام میں تشریف لے گئے اور باآوازِ بلند اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمداً رسول اللہ پڑھا، پھر کیا تھا چاروں طرف سے لوگ اٹھے اور اس قدر مارا کہ زخمی کر دیا، نبی اکرمﷺ کے چچا جان سیدنا عباس رضی اللہ عنہ جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کے اوپر بچانے کے لیے لیٹ گئے اور قریش کو مخاطب کرکے کہا! ارے کیا کرتے ہو؟ تمہارا ستیاناس ہو، انہیں پہچانتے ہو؟ یہ قبیلہ غفار کا آدمی ہے، جدھر سے تمہارے شامی تاجروں کا راستہ ہے۔ اور تمہاری تجارت وغیرہ سب ملکِ شام سے وابستہ ہے۔ اس طرح سے حضرت عباسؓ نے انہیں کافروں کے پنجوں سے چھڑایا۔
صفحہ 3 از 7