حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 7
دوسرے دن پھر اسی طرح انہوں نے جا کر کافروں کے بیچ باآوازِ بلند کلمہ پڑھا اور لوگ اس کلمہ کے سننے کی تاب نہ لا سکے اور ان پر پہلے دن کی طرح پھر ٹوٹ پڑے اور جی کھول کر مارنا شروع کیا، حسنِ اتفاق سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آج بھی انہیں کافروں سے چھٹکارا دلایا۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 545 جلد، 1 حدیث نمبر، 3861)
وطن واپسی اور اسلام کی تبلیغ:
رسول اللہﷺ کے حکم سے وطن واپس آئے اور سب سے پہلے اپنے بھائی سیدنا اُنَیس سے ملے، وہ اتنظار میں تھے ہی، سب سے پہلے یہی پوچھا ماصنعتَ؟ آپؓ نے کیا کیا؟ بولے
إنی قد أسلمت وصدقت۔
ترجمہ: میں مسلمان ہو گیا اور محمدﷺ کی نبوت کی تصدیق کی۔
یہ سنتے ہی حضرت اُنَیس نے کہا
مابی رغبۃ عن دینک فإني قد أسلمت وصدقت۔
ترجمہ: مجھے بھی آپؓ کے دین سے کوئی نفرت اور انکار نہیں، میں بھی مسلمان ہوا اور محمدﷺ کی نبوت کی تصدیق کی، تبلیغی مہم کو جاری رکھتے ہوئے یہ دونوں اپنی والدہ محترمہ کے پاس آئے، اس حال کو دیکھ کر وہ بولیں مجھے بھی تم دونوں کے دین سے کوئی نفرت نہیں ہے، میں بھی مسلمان ہوئی اور میں نے بھی محمدﷺ کی رسالت کی تصدیق کی۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 298 جلد، 1)
مکۃ المکرمۃ سے روانگی کے وقت رسول اللہﷺ سے قریش کے مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا اے اللہ کے رسولﷺ! قریش نے میرے اوپر جو مظالم ڈھائے ہیں اور انہوں نے جو میری بے تحاشہ پٹائی کی ہے اس کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہوں گا، چنانچہ قریش سے بدلہ لینے کے لیے عُسفان کی گھاٹی ثنیۃغزال (جو تاجرانِ قریش کے راستہ میں پڑتی تھی) میں جا چھپے اور اس راستہ سے جو قافلہ قریش گزرتا اسے لوٹ لیتے، جب ان پر قبضہ ہو جاتا تو اس کے بعد فرماتے اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہو اور محمدﷺ کی نبوت کی تصدیق کرتے ہو تو سارا مال ابھی واپس کر دیا جائے گا۔ اور اگر انکار کرو گے تو یاد رکھو ایک دانہ بھی نہیں مل سکتا۔
فیقولون لاالہ الااللّٰہ ویاخذون الغرائر۔
ترجمہ: یہ سن کر قریش کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیتے اور سارا مال واپس لے کر لوٹتے۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 223/224 جلد، 4)
واضح رہے کہ اگر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایمان لانے والے محض مال کی طمع سے مسلمان ہوتے تو ان کے لیے بالکل ممکن تھا کہ مکہ المکرم میں جا کر اسلام سے پھر جاتے، لیکن تاریخ اس کی ایک نظیر بھی پیش نہیں کرتی، جو مسلمان ہوتے تھے بس ہمیشہ کے لیے ہوتے تھے کہ حق و صداقت کی روشنی دلوں میں خواہ کسی طریقے اور کسی وسیلے سے بھی ہو جب صحیح طور پر اتر جاتی ہے تو دیکھا گیا ہے کہ پھر وہ بہت مشکل سے بجھتی ہے۔
الغرض وادئ عُسفان کو سرکنے کے بعد سیدنا ابوذرؓ اپنے بھائی اور اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ اپنے اونٹوں پر سارا سامان لاد کر اپنی قوم غفار میں پہنچے، ان میں اسلام کی تبلیغ کی، آدھی قوم مسلمان ہو گئی اور ان کے امام أیماء بن رحضہ غفاری تھے اور وہ ان کے سردار بھی تھے، آدھی قوم نے یہ کہا کہ جب رسول اللہﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئیں گے تو ہم مسلمان ہوں گے۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 296 جلد، 2)
دربارِ رسالتﷺ میں حاضری:
رسول اللہﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے اور بدر و اُحد جیسے معرکے بھی گزر گئے، تب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 222 جلد، 4)
اور قبیلہ غفار کی آدھی قوم جو مسلمان نہیں ہوئی تھی وہ بھی آئی اور مسلمان ہو گئی اور قبیلہ اسلم کے لوگ آئے انہوں نے عرض کیا، یاںرسول اللہﷺ! ہم بھی اپنے غفاری بھائیوں کی طرح مسلمان ہوتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا غفار غفراللہ لہا وأسلم سالمہا اللہ غفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 296 جلد، 2)
مدینہ منورہ میں آکر دامنِ رسول اللہﷺ کو اس مضبوطی سے تھام لیا کہ پھر الگ ہونے کا خیال ہی نہ آیا، رسول اللہﷺ کو بھی ان سے کافی اُنس ہو گیا کہ جب بھی رسول اللہﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجلس میں تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت ابوذرؓ کی خیریت دریافت فرماتے اگر یہ غائب ہوتے تو انہیں تلاش کراتے۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 58 جلد، 2)
(الإصابۃ: صفحہ، 64 جلد، 4)
صفہ کی زندگی:
حضرت ابوذرؓ اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل گئے، اور صفہ کی زندگی گزارنے لگے، خود ان کا بیان ہے
 کنت من أہل الصفۃ إذا أمسینا حضرنا باب رسول اللہﷺ الخ۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 256 جلد، 1)
جب شام کا وقت ہوتا تو ہم لوگ رسول اللہﷺ کے درِ اقدس پہ حاضر ہو جاتے، رسول اللہﷺ ہر ایک صحابیؓ کو اپنے ساتھ ایک ایک اہلِ صفہ کو لے جانے کا حکم فرمایا کرتے تھے، بعض اوقات دس اصحابِ صفہؓ، یا زیادہ، یا اس سے کم بچ جاتے اور رسول اللہﷺ کا کھانا لایا جاتا تو سب لوگ مل کر کھاتے۔ جب ہم اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم رات کے کھانے سے فارغ ہو جاتے، تو نبی اکرمﷺ ہم لوگوں سے فرماتے جاؤ! مسجد میں سو جاؤ۔ اسی طرح ایک مرتبہ میں مسجدِ نبویﷺ میں جا کر سو گیا، رسول اکرمﷺ میرے پاس سے گزرے اور میں اپنے چہرہ کے بل سو رہا تھا تو آپﷺ نے اپنے پاؤں مبارک سے ٹھوکر مار کر فرمایا:
 یاجندب! ماہذہ الضجعۃ فإنہا ضجعۃ الشیطان۔
ترجمہ: اے جندب! یہ کیا لیٹنے کا طریقہ ہے؟ یہ تو شیطان کے لیٹنے کا طریقہ ہے۔
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ 353/354 جلد، 1)
(سنن ابن ماجۃ: صفحہ، 264، مختصراً)
حضرت ابوذرؓ اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم کے ممتاز طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ رسول اللہﷺ کے ممتاز خادم بھی رہے ہیں۔ نبی اکرمﷺ ان کی خدمت سے بہت زیادہ خوش تھے۔
صفحہ 4 از 7