حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 5 از 7
ایک دن کا واقعہ ہے کہ حضرت ابوذرؓ آپﷺ کی خدمت سے فارغ ہو کر رات گزارنے کے لیے مسجدِ نبویﷺ میں آئے، چونکہ مسجدِ نبویﷺ ہی ان کا گھر تھا، تھوڑی دیر کے بعد نبی اکرمﷺ مسجد میں تشریف لائے اور انہیں مسجد میں سویا ہوا پا کر اپنے انگوٹھے کے اشارہ سے جگایا، یہ گھبرا کر اٹھ بیٹھے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا کیا تم اسی جگہ سو گئے؟ انہوں نے عرض کیا پھر کہاں سوؤں؟ کیا اس مسجد کے علاؤہ بھی کوئی میرا گھر ہے! رسول اللہﷺ ان کے پاس بیٹھ گئے پھر دریافت کیا اے سیدنا ابوذرؓ! اس دن کیا کرو گے جب لوگ تمہیں اس (مسجدِ نبویﷺ) سے نکالیں گے؟ جواب دیا! کہ میں شام چلا جاؤں گا، کیونکہ وہ ہجرت گاہ ہے، میدانِ محشر کے قائم ہونے کی جگہ ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام کا مسکن ہے۔ میں ان ہی لوگوں میں ہو کر رہ جاؤں گا۔ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا جب لوگ تمہیں شام سے نکالیں گے اس دن کیا کرو گے؟ یہ بولے کہ میں مسجدِ نبویﷺ لوٹ کر آ جاؤں گا، یہی میرا گھر اور میرا مسکن ہو گا۔ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا لوگ یہاں سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے تو کیا کرو گے؟ یہ سن کر بولے! اپنی تلوار سونت لوں گا اور نکالنے والوں سے جیتے جی لڑتا رہوں گا۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا ضرور، اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان!
آپﷺ نے ارشاد فرمایا تم ان لوگوں کی اتباع کرتے رہنا جس طرف بھی وہ تمہیں لے جائیں، یہاں تک کہ تم اسی حالت میں مجھ سے آ ملو۔
(مسند أحمد: صفحہ، 457 جلد، 6)
تحصیل علم:
حضرت ابوذرؓ اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہ کر اور رسول اللہﷺ کے خادم بن کر بہت زیادہ علوم حاصل کئے اور رسول اللہﷺ نے بذاتِ خود انہیں مخاطب کر کے علم زہد و تقویٰ سکھایا ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی کالی پتھریلی زمین میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ جا رہا تھا، اتنے میں سامنے سے اُحد پہاڑ دکھائی دیا۔ آپﷺ نے فرمایا اے سیدنا ابوذرؓ! انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہﷺ! پھر آپﷺ نے فرمایا اے حضرت ابوذرؓ! اگر اس اُحد پہاڑ کے برابر بھی میرے پاس سونا ہو تو میں اس کو بالکل پسند نہیں کروں گا کہ ایک اشرفی برابر سونا بھی میرے پاس تیسرے دن تک رہ جائے، البتہ کسی کا قرض مجھ پر آتا ہو اس کے ادا کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں تو یہ اور بات ہے۔ میں سارا سونا اللہ کے بندوں میں دائیں بائیں اور پیچھے (تینوں طرف) محتاجوں میں بانٹ دوں گا۔ سنو! جو لوگ دنیا میں بہت مال و دولت رکھتے ہیں اور سرمایہ دار کہلاتے ہیں آخرت میں وہی نادار اور ٹٹ پونجیے ہوں گے البتہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دولت دی ہو پھر وہ دائیں بائیں اور پیچھے اس کو لٹائے یعنی محتاجوں اور مسکینوں کو خوب دے۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 954 جلد، 2 نمبر، 6444)
ایک دن نبی اکرمﷺ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا اے سیدنا ابوذرؓ! 
أعقل ما أقول لک میری بات سمجھو اور مانو، ایک بکری کسی مسلمان کو حاصل ہو یہ اس سے بہترہے کہ احد پہاڑ کے برابر اس کے پاس سونا ہو ، پھر اپنے بعد اس کو چھوڑ جائے۔
(مسند أحمد: صفحہ، 181 جلد، 5)
مال و دولت جاہ و عزت کی مذمت سننے کے بعد یہ کسب و حِرفت نہ چھوڑ بیٹھیں اور حالاً وقالاً بھیک مانگنے پر نہ آمادہ ہو جائیں، اس لیے آپﷺ نے ضروری تنبیہ فرمائی!
سیدنا ابوذرؓ کا بیان ہے کہ مجھے رسول اللہﷺ نے بلایا اور فرمایا کیا تم ایک ایسی بات پر بیعت کرو گے کہ جس کے بدلے تمہارے لیے صرف جنت ہی جنت ہے؟ میں نے عرض کیا! جی ہاں! اور میں نے ہاتھ پھیلا دیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم سے عہد لینا چاہتا ہوں کہ تم کسی آدمی سے کچھ نہ مانگو گے، میں نے کہا بہت بہتر ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا حتیٰ کہ وہ کوڑا بھی نہیں جو تمہارے گھوڑے برسے گر پڑے، بلکہ تم اترو اور خود اٹھاؤ۔
(مسند أحمد: صفحہ، 202 جلد، 5)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں رسول اللہﷺ سے علمی سوالات کرنے میں نمایاں تھے، سیدنا علیؓ ان کے سلسلہ میں فرماتے ہیں۔
کان یکثر السوال فیعطی ویمنع۔
ترجمہ: کہ یہ رسول اللہﷺ سے بہت زیادہ سوال کرتے تھے، تو انہیں کبھی جواب دیا جاتا اور کبھی نہیں۔
(طبقات ابن سعد: صفحہ، 232 جلد، 4)
انہیں تحصیلِ علم کا بہت شوق تھا، پیغمبرِ اسلامﷺ سے خوب کھود کرید کر علمی سوالات کرتے تھے، اسی شدتِ سوال کی بناء پر ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کے ایسے سخت عتاب کا سامنا کرنا پڑا کہ جسے کبھی نہ بھول سکے۔ واقعہ یہ تھا کہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو شبِ قدر کی بڑی تلاش رہتی تھی، خود فرماتے ہیں کہ ایک دن نبیﷺ سے پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہﷺ! کیا شبِ قدر صرف رمضان کے مہینے کے ساتھ مخصوص ہے یا دوسرے مہینوں میں بھی ہو سکتی ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا صرف رمضان میں! میں نے عرض کیا کہ شبِ قدر محض اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہم میں ہیں، یا قیامت تک اس کا سلسلہ باقی رہے گا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا نہیں، بلکہ قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے عرض کیا کہ رمضان کے کس عشرہ میں اس رات کو تلاش کیا جائے؟ آپﷺ نے فرمایا شروع عشرہ، یا اخیر عشرہ میں اسے تلاش کرو۔ نبی اکرمﷺ اس کے بعد کسی اور گفتگو میں مشغول ہو گئے، میں تاک میں لگا رہا، ذرا غفلت پا کر پھر پوچھا کہ آخر ان دو عشروں میں سے کس عشرہ میں واقع ہوتی ہے؟ فرمایا آخر عشرہ میں۔ اور فرمایا بس آئندہ کچھ نہ پوچھنا، پھر آپﷺ دوسری بات میں مشغول ہو گئے مگر میں موقع کی تلاش میں رہا۔ موقع پاتے ہی ممانعت کے باوجود میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ پر جو کچھ بھی میرا حق ہے، میں اس حق کی قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ مجھے بتا دیجئے کہ اخیر عشرہ کی کس رات میں یہ رات آتی ہے؟ بس اتنا کہنا تھا۔
فغضب علي عضباً لم یغضب مثلہ منذ صحبتہ۔
کہ رسول اللہﷺ میرے اوپر اس قدر برہم اور غضب ناک ہوئے کہ اتنا غصہ آپﷺ کو مجھ پر کبھی نہ آیا تھا جب سے آپﷺ کے دامنِ صحبت سے وابستہ ہوا تھا۔
(مسند أحمد: صفحہ، 171 جلد، 5)
صفحہ 5 از 7