حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 6 از 7
ان کے اسی علمی جذبہ اور شوق کو دیکھ کر رسول اللہﷺ نے بار بار انہیں مخاطب کرکے منبعِ نبوت سے سیراب کیا ہے اور خاص طور سے انہیں بہت ساری نصیحتیں فرمائی ہیں اور کچھ احادیث ایسی ہیں جو خاص طور سے تنہائی میں ان ہی سے رسول اللہﷺ نے بیان فرمائی ہیں۔ غرض کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے بہت زیادہ علوم حاصل کیے خود فرماتے ہیں
لقدترکنا رسول اللہﷺ وما یتقلب في السماء طائر إلا ذکرنا منہ علماً۔
(مسند أحمد: صفحہ، 162 جلد، 5)
رسول اللہﷺ اس وقت ہم لوگوں سے رخصت ہوئے جب فضاء میں اڑنے والے پرندوں کے متعلق بھی ہمیں کوئی نہ کوئی علم مل گیا۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی مجموعی احادیث کی تعداد علامہ شمس الدین ذہبیؒ کے بیان کے مطابق 281 ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 75 جلد، 2)
حضرت ابوذرؓ رسولﷺ کی نظر میں:
1: نبی اکرمﷺ نے سیدنا ابوذرؓ کے صدق و صفا، ظاہر و باطن کی پاکیزگی اور قلب و زبان کی سچائی کی گواہی ان الفاظ میں دی ہے۔
ما أقلت الغبراء، ولا أظلّت الخضراء أصدق من لہجۃ أبی ذرؓ۔
ترجمہ: آسمان تلے اس سر زمین پر حضرت ابوذرؓ سے زیادہ کوئی سچا نہیں ہے۔
(جامع ترمذي: صفحہ، 220 جلد، 2 نمبر، 3801)
2: پیغمبر اسلامﷺ نے انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر ردیف النبیﷺ کے شرف سے نوازا ہے۔(مسندِ أحمد: صفحہ، 164 جلد، 5)
(طبقاتِ ابنِ سعد: صفحہ، 228 جلد، 4)
3: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور خود اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ ان خوش نصیبوں کے نام بتا دیجئے۔ سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام لیا اور تین مرتبہ ان کا نام لیا۔ پھر سیدنا ابوذرؓ، سیدنا مقدادؓ اور سیدنا سلمانؓ کے نام ذکر فرمائے۔ ان اسمائے گرامی کے ذکر کرنے کے بعد پھر وہی جملہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان چار شخصوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور خود اپنے بارے میں بھی بتایا کہ میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں۔
(جامع ترمذي: صفحہ، 213 جلد، 2)
(مناقب علیؓ مسند ِأحمد: صفحہ، 351 جلد، 5)
4: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی کو سات رفقاء اور سات وزراء دیئے گئے ہیں اور مجھے چودہ رفقاء اور وزراء دیئے گئے ہیں۔ ان میں ایک سیدنا ابوذرؓ ہے۔
(مسندِ أحمد: صفحہ، 164 جلد، 5)
(طبقاتِ ابن ِسعد: صفحہ، 228 جلد، 4)
5: غزوہ تبوک میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اسلامی فوج سے پیچھے رہ گئے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ان کے سلسلہ میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں، رسول اللہﷺ کو معلوم ہو گیا، آپﷺ نے ارشاد فرمایا اس کو چھوڑ دو، اگر اس کی ذات میں خیر و بھلائی ہو گی تو اللہ تعالیٰ خود تم لوگوں سے ملا دیں گے، واقعہ یہ ہوا کہ سیدنا ابوذرؓ کا اونٹ ایک جگہ ٹھہرا کہ اسلامی فوج آگے بڑھ گئی، اونٹ سست پڑ گیا، بہت کوشش کرنے کے باوجود اس کے رفتار میں تیزی نہ آئی، آخر تھک کر اونٹ سے اتر گئے، جو سر پر لاد سکے لاد لیا، اور رسول اللہﷺ کی تلاش میں نکل پڑے، قافلہ کے قریب آ گئے، کسی صحابیؓ کی نظر پڑی کہ کوئی پیادہ پا تیزی کے ساتھ چلا آ رہا ہے، رسول اللہﷺ کو بھی معلوم ہوا، آپﷺ نے دیکھ کر ارشاد فرمایا کن أباذر سیدنا ابوذرؓ ہی ہو۔ کچھ ہی دیر میں صجابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شور ہوا کہ یہ حضرت ابوذرؓ ہیں، خدا کی قسم سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا
رحم اللہ أباذرؓ یمشی وحدہ، ویموت وحدہ، ویبعث وحدہ۔
اللہ تعالیٰ سیدنا ابوذرؓ پر رحم کرے، اکیلا ہی چلتا ہے، اکیلا ہی مرے گا اور اکیلا ہی اٹھایا جائے گا۔
(سیر أعلام النبلاء: صفحہ، 561 جلد، 2)
6: سید البشرﷺ نے ارشاد فرمایا :
من سرّہ أن ینظر إلی تواضع عیسی ابن مریم فلینظر إلی أبی ذرؓ۔
ترجمہ: جوحضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلاۃ والسلام کے تواضع کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہے وہ سیدنا ابوذرؓ کو دیکھ لے۔
(طبقاتِ ابنِ سعد: صفحہ، 228 جلد، 4)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر علماءِ عظام کی نظر میں:
خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوذرؓ کے علمی مقام کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا
وعی علماً عجز منہ حضرت ابوذرؓ ایسے علم کو حاصل کیے ہوئے ہیں جس سے لوگ عاجز آ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ حریص و لالچی تھے، کس چیز میں؟ خود ہی فرماتے ہیں شحیحا علی دینہ حریصاً علی العلم دین کی پیروی کرنے اور اس کی باتوں پر عمل کرنے میں لالچی اور علم کے حاصل کرنے میں حریص تھے۔ بہت زیادہ رسول اللہﷺ سے پوچھا کرتے تھے، پھر انہیں کبھی جواب دیا جاتا اور کبھی نہیں۔ وقد ملئ لہ في وعائہ حتی امتلأ اس پر ان کے لیے ان کا پیمانہ علم اتنا بھر دیا گیا کہ وہ لبریز ہو گیا۔
(طبقاتِ ابنِ سعد: صفحہ، 232 جلد، 4)
ایک مرتبہ سیدنا علیؓ نے فرمایا:
 أبوذرؓ عَلَمُ العلم، ثم أوکی، فربط علیہ ربطاً شدیداً۔ 
ترجمہ: سیدنا ابوذرؓ علم کے پہاڑ ہیں، سارے علم کو انہوں نے اپنے سینہ گنجینہ میں محفوظ کر رکھا ہے۔
(طبقاتِ ابنِ سعد: صفحہ، 232 جلد، 4) 
(سیراعلام النبلاء: صفحہ، 60 جلد، 2)
کان عمر یوازی ابن مسعودؓ في العلم خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ انہیں علم میں سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کے ہم پلہ گردانتے تھے اور انہیں بدریین کی فہرست میں شمار کرکے ان کے ساتھ بدریوں جیسا معاملہ کیا کرتے تھے جب کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہیں رہے ہیں۔
(الإصابۃ: صفحہ، 65 جلد، 4)
حضرت علیؓ کے شاگردِ رشید، بانیٔنحو، امام ابوا لاسود دولی نے کہا زرت اصحاب النبيﷺ فما رأیت لأبی ذرؓ رسول اللہﷺ کے صحابیوں کو میں نے دیکھا، لیکن ابوذرؓ جیسا کسی کو نہ دیکھا۔
(مسندِ أحمد: صفحہ، 181 جلد، 5)
علامہ شمس الدین ذہبیؒ کا بیان ہے:
کان یفتی في خلافۃ أبي بکرؓ وعمرؓ و عثمانؓ۔
ترجمہ: کہ حضرت ابوذرؓ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 42 جلد، 2)
فقر و فاقہ و تنگ دستی:
صفحہ 6 از 7