حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 7 از 7
غزوہ احد میں میرے والد محترم شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے بطورِ میراث کے کچھ بھی مال نہیں چھوڑا اور میرے گھر میں کچھ کھانے کو بھی نہیں تھا۔ ایک روز میری اہلیہ محترمہ نے بھوک کی وجہ سے میرے پیٹ سے ایک پتھر باندھ دیا اور کہا دیکھ، فلاں فلاں شخص نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا ہے تو آپﷺ نے ان کو خوب نوازا ہے۔ تم بھی جاؤ اور آپﷺ سے کچھ مانگ کر لے آؤ۔ میں رسول اللہﷺ کے پاس مال وغیرہ مانگنے ابھی آیا ہی تھا کہ آپﷺ نے مجھے دیکھتے ہی ارشاد فرمایا
من یستغن یغنہ اللہ، ومن یستعف یعفہ اللہ 
ترجمہ: جو اللہ تعالیٰ سے بے نیازی طلب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بے نیازی کی دولت سے نوازتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ سے عفت و پاکدامنی مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عفیف و پاکدامن بناتے ہیں۔
(صفۃالصفوۃ: صفحہ، 715 جلد، 1)
(الإصابۃ: صفحہ، 336 جلد، 2)
حلیہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمدﷺ کی جان ہے! بندہ کو صبر سے بہتر اور وسیع ترین کوئی چیز نہیں دی گئی ہے۔ (حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 370 جلد، 1)
یہ ارشادِ عالی سن کر خاموشی کے ساتھ واپس آ گیا اس کے بعد پوری زندگی میں نے کسی کے آگے کبھی بھی دستِ سوال دراز نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اتنا مال دیا کہ میرے علم میں انصارِ مدینہ میں مجھ سے زیادہ کوئی مالدار نہیں ہوا۔
(صفۃالصفوۃ: صفحہ 715 جلد، 1)

صفحہ 7 از 7