Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ازواج و اولاد

  حامد محمد خلیفہ عمان

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ نے متعدد شادیاں کیں اور رب تعالیٰ نے ان سے آپ کو اولاد بھی عطا فرمائی، ذیل میں ان ازواج اطہار کے نام اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد کا اجمالی تذکرہ کیا جاتا ہے:

 لیلیٰ بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفیہ

رب تعالیٰ نے آپ کو ان سے علی اکبر عطا فرمائے، جو میدانِ کربلا میں آپ کے ساتھ شہید ہوئے۔ ان کی شہادت پر آپ نے فرمایا: ’’تیرے بعد دنیا ہلاک ہونے والی ہے۔‘‘ آپ کی اہلیہ لیلیٰ حضرت ابوسفیان بن حرب بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں۔ (نسب قریش للزبیری: 58 مقاتل الطالبین للاصفہانی: 80 تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 330)

 ام اسحاق بنت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما

رب تعالیٰ نے آپ کو ان سے ایک بیٹی فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہما عطا فرمائی۔ (نسب قریش: صفحہ 87 مقاتل الطالبین: صفحہ 89)

 رباب بنت امرؤ القیس بن عدی

ان سے اللہ تعالیٰ نے آپ کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی عبداللہ اور سکینہ عطا فرمائے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی بیٹی سکینہ اور ان کی والدہ رباب کے بارے میں یہ اشعار پڑھے:

لَعَمْرُکَ اِنَّنِیْ لَاُحِبُّ دَارا

تضیفہا سکینۃ و الرباب

اُحِبُّہُمَا وَ اَبْذَلُ بَعْدَ مَالِی

وَ لَیْسَ لِلائی فِیْہَا عَتَاب

’’تیری عمر کی قسم! مجھے وہ گھر بھی محبوب ہے، جس میں سکینہ اور رباب رہتی ہیں اور میں ان دونوں پر اپنا بہت زیادہ مال خرچ کرتا ہوں، اس بارے میں اگر کوئی مجھے ملامت کرتا ہے تو اس پر کوئی عتاب نہیں۔‘‘

 جعفر بن حسین رضی اللہ عنہ

یہ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ ان کی والدہ ’’بنی بلی‘‘ سے تھیں۔ کتب سیرت و تاریخ میں ان کی والدہ کا نام مذکور نہیں ملتا۔ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی صرف یہی اولاد نہ تھی۔ آپ کی دیگر ازواج سے اور اولاد بھی تھی، جن کا ذکر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہونے والوں کے ناموں کے ضمن میں آ جائے گا۔

 شہر بانو

یہ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں، جن کے بطن سے علی اصغر پیدا ہوئے۔ طف (طف: عراق کے دیہات کی جانب عربوں کی بلند سرزمین۔ (القاموس الوحید: صفحہ 1002)) کے دن میدانِ کربلا میں آپ بھی اپنے والد ماجد سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے۔ عمر مبارک اس وقت صرف تئیس برس تھی لیکن آپ بیمار تھے، اسی لیے کسی نے آپ سے تعرض نہ کیا۔ (نسب قریش، ص: ۵۷۔ ترجمۃ المصعب بن عبداللہ بن مصعب،رقم الترجمۃ: 236 تعلیق لیوی بروفنسال، دار المعارف: 1953)

جناب علی اصغر کی مذکورہ والدہ یزدگرد بن کسریٰ کی بیٹی ہیں، ان کے نام کی بابت متعدد روایات ہیں۔ چنانچہ ان کا نام شہبن، شاہ بانو اور ’’انساب الطالبیۃ‘‘ کی روایت کے مطابق شہر بانو بھی بیان کیا گیا ہے۔ جبکہ انہیں شہر بانویہ، جیداء اور غزالہ کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ (المغرب فی ترتیب المعرب للطرزی: جلد، 1 صفحہ 458 تاج العروس: جلد، 1 صفحہ 646)

شاید یہ نسب آلِ بیت کے ساتھ اُس تعلق کے اسرار کو طشت از بام کرنے میں ہماری مدد کرے، جو سنت نبویہ کے آداب سے خالی، بدعات و سیئات میں مستغرق اور آلِ بیت کی تعظیم کے نام پر متکبرانہ شعوبی ثقافت کا شاخسانہ ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ جس شخص کو اہل بیت کے انصار صحابہ رضی اللہ عنہم سے بغض ہو، اس کے دل میں آلِ بیت نبوی کی تعظیم بھی ہو اور اس کی لغت قرآن و سنت کی لغت بھی ہو؟ ہرگز بھی نہیں۔ شاید اس نسب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے ساتھ محبت و تعظیم کے اظہار میں کتاب و سنت کے معیارات کو ملحوظ رکھے۔ لہٰذا اگر کوئی آل بیت کے ساتھ محبت و عقیدت اور ولا و وفا کے اظہار میں سیّد آل بیت، پیغمبر خداﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو ملحوظ نہیں رکھتا، تو وہ یاد رکھے کہ بزعم خویش جن آلِ بیت کی تعظیم میں وہ لگا ہوا ہے، وہ ہمارے پیغمبر کے آلِ بیت نہیں۔

اس لیے آل بیت سے محبت کرنے والے پر لازم ہے کہ اس کی محبت محبتِ اتباع ہو اور اس محبت کے اظہار میں وہ دشمنانِ اسلام اور اعدائے اہل بیت کے مکائد و فتن کے جال میں پھنسنے اور شرک و بدعت میں جا پڑنے سے ازحد احتیاط کرے۔