Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شراب کی حد

  علی محمد الصلابی

یہ بات معروف و معلوم ہے کہ جب آزاد شراب نوشی کا مرتکب ہوتا تو اس کو رسول اللہﷺ‏ چالیس کوڑے لگاتے اور لوگ جوتے چپل اور کپڑے کے کنارے سے اس کی تذلیل کے لیے مارتے، یہی حالت عہدِ صدیقی میں بھی رہی اور یہی طریقہ عہدِ فاروقی کے ابتدائی دور میں رہا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ لوگ اس سزا کو معمولی سمجھنے لگے ہیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشورہ سے اس کی سزا اسی (80) کوڑے مقرر فرمائی لیکن حضرت عثمان بن عفانؓ سے چالیس اور اسی کوڑوں کی دونوں سزا ثابت ہے۔ اور یہ یوں ہی نفس پرستی کی بنیاد پر نہ تھا بلکہ آپؓ نے پینے والوں کی نوعیت میں تفریق کی بنیاد پر یہ طریقہ اختیار کیا تھا اگر کوئی پہلی بار اس جرم کا ارتکاب کر بیٹھتا تو اس کو چالیس کوڑے لگاتے اور جو اس کا عادی ہوتا اس کو اسی (80) کوڑے لگاتے۔ گویا آپؓ چالیس کوڑے حد کے طور پر لگاتے اور چالیس تعزیری سزا کے طور پر لگاتے تھے۔

(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 93)