Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

  علی محمد الصلابی

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو بادشاہت کے لائق نہیں دیکھا۔

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 439)

صحیح بخاری میں ہے: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہما ہمیشہ ایک وتر پڑھتے ہیں اس کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: معاویہ رضی اللہ عنہ فقیہ شخص ہیں۔

(صحیح بخاری: رقم: 3765)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ابن ہند بھی کیسا خوب آدمی ہے، وہ کس قدر شریف الاصل ہے، اور اس کا مقدر کس قدر محترم ہے۔ اللہ کی قسم! انہوں نے ہمارے اور اپنے اہل کا احترام کرتے ہوئے نہ کبھی ہمیں منبر پر سب و شتم کیا اور نہ زمین پر۔

(تاریخ دمشق: جلد 62 صفحہ 128، 129)

جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ان الفاظ کے ساتھ تعزیت کی: اللہ تعالیٰ آپ کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے اور نہ حسن رضی اللہ عنہ کی وجہ سے تمہیں غم ناک کرے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تک اللہ میرے لیے امیر المؤمنین کو باقی رکھے گا وہ نہ تو مجھے غم ناک کرے گا اور نہ مجھے بے یار و مددگار چھوڑے گا۔

(مختصر تاریخ دمشق: جلد 26 صفحہ 67، 68)