امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت
علی محمد الصلابیجنگ نہروان نے خوارج کو بہت گہرا زخم پہنچایا، جیسے جیسے ایام گزرتے گئے ان کی تکلیف اور افسوس بڑھتا گیا، چنانچہ ان کی ایک جماعت نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اچانک قتل کردینے کی سازش کی تاکہ نہروان میں اپنے مقتول بھائیوں کا بدلہ لے لیں، چنانچہ عبدالرحمٰن بن ملجم دھوکے سے امیر المؤمنین کو قتل کرنے میں کامیاب ہوگیا، محمد بن حنفیہ امیر المؤمنینؓ کے قتل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’جس رات سیدنا علی رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے، میں اللہ کی قسم اس رات مسجد اعظم میں نماز پڑھ رہا تھا، جس میں شہر کے بہت سارے لوگ محراب سے قریب نماز پڑھ رہے تھے، کوئی قیام میں ہے، کوئی رکوع کوئی سجدے میں، شروع رات سے آخر تک پڑھتے ہوئے تھک نہیں رہے تھے، ایسے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز کے لیے نکلے، آپ لوگوں کو نماز کی جانب بلانے کے لیے ’’اَلصَّلَاۃ، اَلصَّلاَۃ‘‘ کہنے لگے، مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا علیؓ محراب سے نکل کر یہ کلمات کہے یا وہاں سے نہیں نکلے، اتنے میں میں نے ایک چمک دیکھی، اور ’’اَلْحُکْمُ لِلّٰہِ یَا عَلِیُّ لَا لَکَ وَ لَا لِأَصْحَابِکَ‘‘ (اے علی! حکم اللہ کے لیے ہے نہ کہ تمھارا اور تمھارے اصحاب کا) کے کلمات سنے، پھر ایک تلوار دیکھی بعدہٗ دوسری تلوار دیکھی، پھر میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: دیکھو کمبخت بھاگنے نہ پائے، لوگ نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا، میں وہاں رہا تا آنکہ عبدالرحمٰن بن ملجم کو پکڑ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے جایا گیا، میں لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس گیا تو علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جان کے بدلے جان، اگر میں مرگیا تو اسے قتل کردینا جیسا کہ اس نے مجھے قتل کیا ہے، اور اگر بچ گیا تو میں اس کے بارے میں غور کروں گا۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 62)
تاریخ میں آتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کی وجہ سے لوگ گھبرائے ہوئے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، لوگ سیدنا حسنؓ کے پاس تھے، اور مشکیں بندھا ابن ملجم بھی سیدنا حسنؓ کے سامنے تھا اتنے میں سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما نے روتے ہوئے آواز دی: اے اللہ کے دشمن میرے والد کا کچھ بگڑنے والا نہیں، اللہ تعالیٰ تمہی کو رسوا کرنے والا ہے، اس پر اس نے کہا: ’’تو کس کا رونا رو رہی ہے؟ اللہ کی قسم میں نے اسے ایک ہزار میں خریدا ہے، ایک ہزار میں زہر آلود کیا ہے، اگر یہ وار شہر کے تمام لوگوں پر پڑا ہوتا تو کوئی بھی نہ بچتا۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 62)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے تمام اطباء اکٹھے کیے گئے، ان میں سب سے ماہر طبیب اثیر بن عمر سکونی تھے، جو کسریٰ کے طبیب تھے، چنانچہ اثیر نے بکری کا گرم پھیپھڑا لیا، اس کا عرق نکالا، علی رضی اللہ عنہ کے زخم میں اسے داخل کیا، پھر اسے نکالا تو اس پر بھیجے کی سفیدی تھی، یہ علامت تھی کہ زخم دماغ تک پہنچ گیا ہے تو اس نے کہا: اے امیر المثومنین! میں سیدنا علیؓ کی دیکھ ریکھ کروں گا، لیکن سیدنا علیؓ موت سے نہیں بچ پائیں گے۔
(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1128)
کہا جاتا ہے کہ جندب بن عبداللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر پوچھا: اے امیر المؤمنین اگر آپ وفات پا جاتے ہیں اللہ کرے کہ آپ وفات نہ پائیں، تو کیا ہم حسن رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کرلیں؟ تو سیدنا نے فرمایا: نہ میں حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں، تم لوگ صاحبِ بصیرت ہو۔
(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 62،)
اس اثر سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ خلیفہ کے انتخاب میں امت کو حق حاصل ہے، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اس کے قائل تھے