مسئلہ تحریف قرآن - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ تحریف قرآن

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 2

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا مجھے اس قرآن کے متعلق بتاؤ جو عمر رضی اللّٰہ عنہ و عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے لکھا ہے آیا۔ وہ پورا قرآن ہے یا اس میں کچھ ایسی چیزیں بھی شامل ہیں جو قرآن سے نہیں تو حضرت طلحہ رضی اللّٰہ عنہ نے جواب دیا پورا قرآن ہے تو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا اگر تم اس پر عمل کرو گے تو نجات پاؤ گے دوزخ سے اور داخل ہو گے جنت میں ۔ کیونکہ اس قرآن میں ہماری امامت کے دلائل موجود ہیں حقوق موجود ہیں ہمارا مفترض الطاعت ہونا موجود ہے۔

یہ روایت کھینچ تان کے کچھ کام تو دے سکتی ہے مگر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی ذات مورد الزام ٹھہرتی ہے۔ وہ یوں کہ :۔

1_اس قرآن میں امامت کے دلائل چھوڑ شیعہ کی مفروضہ امامت کا ذکر تک نہیں۔

2_امامت کے حقوق کا کہیں نام و نشان نہیں ۔

3_اماموں کا مفترض الطاعت ہونا کسی دورازکار تاویل سے بھی کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتا لہذا یہ روایت حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ پر بہتان ہے کہ انہوں نے قرآن کے متعلق وہ اوصاف بیان کیے جن کا اس میں نشان تک نہیں ملتا لہذا یہ روایت کذب سریخ ہے۔

دوسری بات:

اس روایت کے متعلق علامہ خلیل قزوینی شیعہ عالم نے لکھا ہے شرح کافی جز ششم کتاب فصل القرآن ص 76

آنچه در کتاب احتجاج طبرسی نقل شده از امیر المومنین علی رضی اللّٰہ عنہ بعد از کلام طویل با طلحہ رضی اللّٰہ عنہ ناخبروني الخ

مراد این است که با وجود اسقاط و اختلاف در قرأت آنقدر باقی ماند که صریح باشد در امامت اہل بیت معصومین عالمین بجميع لاحكام

احتجاج طبرسی میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ اور طلحہ رضی اللّٰہ عنہ کے درمیان جو مکالمہ درج ہے اس سے مراد یہ ہے کہ باوجود قرآن سے آیات کم کر دینے کے اور اختلاف تلاوت کے قرآن میں اتنا پھر بھی باقی ہے کہ مسئلہ امامت اہل بیت پر صاف صراحت سے دلالت کرتا ہے۔

صاحب احتجاج طبرسی حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے الفاظ سے یہ مراد لیتے ہیں کہ تحریف نہیں ہوئی اور

صاحب صافی یہ مراد لیتے ہیں کہ تحریف تو یقیناً ہو گئی مگر امامت کا مسئلہ پھر بھی باقی رہ گیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ عدم تحریف کے حق میں احتجاج طبرسی کی یہ روایت کسی کام کی نہیں لہذا روایت باطل .

تیسری بات یہ ہے کہ یہ سہارا اس لیے کار آمد نہیں کہ یہ خبر واحد ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں تحریف قرآن کے حق میں 2000 سے زائد روایات مستفیضہ متواترہ اور صحیح، پھر یہ کہ تحریف قرآن پر صریح دلالت کرتی ہیں۔ لہٰذا یہ بیچاری اکیلی خبر واحد کچھ نہیں کر سکتی

چوتھی بات یہ ہے کہ علامہ نوری نے فصل الخطاب 97 میں اس روایت کو هباء منثورا بنادیا ۔

وهو مخالف لهذا القراٰن الموجود من حيث التأليف و ترتيب السور والايات بل الكلمات ايضا و من جهة الزيادة و النقصة

وہ قرآن جو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا ہے اس موجودہ قرآن کے مخالف ہے ترکیب کے اعتبار سے ،سورتوں کی ترتیب آیتوں بلکہ کلمات کے اعتبار سے مخالف ہے اور باعتبار کمی و زیادتی کے بھی مخالف ہے۔

سوال یہ ہے کہ احتجاج طبرسی میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا جو قول پیش کیا گیا ہے اسے فصل الخطاب کے مذکورہ بالا قول کے مطابق رکھ کر دیکھیں تو اس نتیجہ پر پہنچنا پڑتا ہے کہ روایت بنانے میں حافظہ بنا شد کو زیادہ دخل ہے ۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا اپنا قرآن جو سارے کا سارا اس قرآن سے مخالف ہے اس کے ہوتے ہوئے وہ حکم دے رہے ہیں کہ محرف قرآن پر عمل کرنے میں نجات ہے۔ یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔

ہاں اس روایت سے یہ وضاحت ہو گئی کہ شیعہ کے نزدیک قرآن میں تحریف کی نوعیت کیا ہے ۔

1_ شیعہ کا عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآن میں ترتیب بدل دی گئی ہے۔

2_ آیات بدل دی گئی ہیں۔

3_ کلمات بدل دئے گئے ہیں۔

4_ کمی بیشی کی گئی ہے۔

پانچویں بات یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے اس قرآن میں عدم تحریف کا کوئی ذکر نہیں کیا صرف یہ کہا کہ ان اخذتم لنجوتم تو عین ممکن ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے یہ بات تقیہ کے طور پر کی ہے کیونکہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے متعلق ایسی باتیں شیعہ کتب میں ملتی ہیں مثلاً

احتجاج طبرسی ص 130

والله لقد امرت الناس ان لا يجتمعوا في شهر رمضان الا في الفريضة فتنادى بعض اهل عسکری ممن يقاتل معنی یا اهل الاسلام غيرت سنة عرينهانا عن الصلوة فی شھر رمضان متطوعاً۔

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم میں نے حکم دیا تھا کہ رمضان میں سوائے فرضوں کے اکٹھا نہ ہوا کریں، تو میرے فوجی جو میرے ساتھ ہو کر لڑ رہے تھے پکار اٹھے اے مسلمانو! سنت عمر کو بدلا جا رہا ہے۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہمیں رمضان میں نفلی نماز باجماعت سے منع کرتے ہیں ۔

اس کے بعد حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ خاموش ہو گئے اور کچھ تعرض نہ کیا۔ تقیہ کر لیا۔ تو اس روایت میں بھی بات کچھ ایسی ہی نظر آتی ہے۔ جب حضرت طلحہ رضی اللّٰہ عنہ نے قرآن کے متعلق اپنا عقیدہ پیش کیا تو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سمجھ گئے اور تقیہ کر لیا اور کہ دیا۔ اخذاتم نجوتم۔

اس ساری بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پورے شیعہ مذہب میں ان مشائخ اربعہ کے سوا کوئی شخص عدم تخریف کا قائل نہیں ۔ جب یہ مخالفت کر کے بھی مشائخ ہی رہے تو لازما انہوں نے تقیہ کے طور پر ہی یہ کاروائی کی تھی لہذا اب اگر کوئی شیعہ عدم تحریف کا عقیدہ ظاہر کرتا ہے تو صرف تقیہ کا ثواب لینے کو کرتا ہے، ورنہ دین شیعہ اور عدم تحریف قرآن کا عقیدہ دو متضاد چیزیں ہیں۔


صفحہ 2 از 2