عراقی شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عراقی شیعہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

 عراق میں تجارتی منڈیاں اور خصوصاً بغداد کے بازار تو شیعوں کی آواز بن چکے ہیں کسی بھی تجارتی علاقہ سے گزریں شیعہ ہی بیٹھا نظر آئے گا اور بعض بازار تو مکمل شیعوں کے ہیں اگر ان کے ہاں کوئی باپردہ خاتون اور باشرع داڑھی والا نوجوان گزرے گا تو وہ شیعوں سے طعن و تشنیع اور طنز اور ہیجان انگیز بات سنے گا۔ اگر تم انہیں سلام بھی کہو گے تو وہ جواب نہ دے گا۔ اگر دے گا تو وعلیکم کہے گا۔ جیسا کہ مسلمان یہودیوں کو وعلیکم کہتے ہیں گویا کہ تم ان کے لیے یہودی ہو۔ اگر کوئی سودا پوچھو تو سودا ہوگا مگر پرسکون انداز میں کہہ دیں گے یہ میرا نہیں میں فروخت نہیں کر سکتا۔ بلکہ اگر کوئی نوجوان مکمل ممتاز مسنون داڑھی رکھے ہوئے ہو اس کی بات سن کر اسے بھڑکائیں گے تاکہ یہ جھگڑا کرے اور اسے زود و کوب کریں۔ نقل و حرکت اور مواصلات کے تمام شعبے ان کے زیرِ تسلط ہیں۔ اور حکومتی ذرائع مواصلات پر بھی ان کا ہی اثر ہے بسیں اور چھوٹی کرایہ کی گاڑیاں اکثر ان کے تسلط میں ہیں۔ اور جو بھی ان میں سوار ہو ان کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اس تک ان کے باطل مذہب کی بات پہنچے، اگر بغداد میں کوئی اجنبی آ جائے اور بازار میں چلے تو وہ یہی تصور کرے گا میں اکیلا ہی سنی ہو باقی سب شیعہ ہیں۔ جو بھی گاڑی کرایہ پر لیں اس میں سیدنا علیؓ اور آلِ نبیﷺ کی خود ساختہ جھوٹی تصاویر لٹکی ہوں گی یا سیاہ عَلم لٹک رہا ہوگا۔ عراق کے بعض معروف خاندان ہیں یہ جنوب میں رہتے ہیں ان کے بعض افراد بھی شیعہ ہو چکے ہیں ان کے شیعہ مذہب میں آنے کی وجہ یہ ہوتی ہے، حالانکہ یہ سنیوں کے بیٹے ہیں انہیں عورت کے لالچ نے شیعہ بنایا ہے، نکاح متعہ کے روپ میں جو یہ نوجوانوں کے سامنے تعاون پیش کرتے ہیں تو سنی نوجوان بدمست ہو کر شیعیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اردن اور سوریا میں ایرانی سفارت کار اور ان کی سرگرمیوں سے متاثر لوگ شب و روز شیعہ مذہب پھیلانے میں مصروف ہیں، اردن اور سوریا میں جو عراقی باشندے سفر کرتے ہیں ہم نے دیکھا ہے ان کے پاس شام کا کھانا میسر نہیں ہوتا۔ جب شیعہ مذہب میں آ جاتے ہیں تو زمینیں خرید رہے ہیں، اجرت پر دے رہے ہیں اور بڑے بڑے کالونی سینٹر تیار کر رہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ عراق میں موجود شیعہ نوجوان انہیں ایران میں پڑھنے اور وفد کی صورت میں جانے کی ترغیب دیتے ہیں اور جنگی مشقون اور فنون جنگ سے آگاہ کرنے اور اسلحہ چلانے کی ترغیب بھی دیتے ہیں اور مزید انہیں سفر اور مزارات کی زیارت پر راغب کرتے ہیں جیسا کہ سیدنا جعفر طیارؓ کی قبر جو کہ اردن میں ہے اور سوریا میں سیدہ زینبؓ کی قبر ہے۔ اس طرح یہ نوجوان مکمل طور پر شیعوں کے پرجوش داعی بن کر عراق لوٹتے ہیں اور یہ فعال اور منظّم ہو کر شیعیت پھیلاتے ہیں اور ان کے لیے یہ بات سونے پر سہاگہ ہے کہ اہم عراقی اداروں پر شیعوں کو غلبہ حاصل ہے۔ یہ دولت اور عورت کے سبب یہودیوں کی مانند چھا جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

یہ چیز مشاہدہ میں آئی ہے کہ عراق میں گھریلو کلب ہیں اور بغداد میں کئی قسم کے کھیل کھیلے جاتے ہیں، جسے یہ انفرادی کھیل کا نام دیتے ہیں۔ کراٹے، کونگ فو، جوڈو وغیرہ ان کلبوں میں کھیلے جاتے ہیں، زیادہ تر تعداد خواہ سکھانے والا ہو یا سیکھنے والا ہو شیعہ کی ہے، ان کلبوں کے بارے میں ایک شیعہ سے پوچھا گیا جو کہ تربیت لے رہا تھا کہ تم یہ تربیت ان کلبوں میں کیوں لیتے ہو؟ تو اس نے کہا: 

انهم يريدون ان يعودوا انفسهم على ضرب السنة بانفسهم لابالسلاح فالسلاح به موت سريع لا يشفی غليلهم۔ 

"ہم خود کو سنیوں پر کاری ضرب لگانے کے لیے یہ تیاری کر رہے ہیں ہتھیار سے موت جلدی واقع ہو جاتی ہے اس سے پیاس نہیں بجھتی اس طرح تڑپا کر مارنے میں مزہ آتا ہے۔“ 

اس کے برعکس جو شیعہ نوجوان شیعیت سے تائب ہو کر سنی عقیدہ میں داخل ہوتے ہیں انہیں گھروں سے نکال دیا جاتا ہے ان کا خاندان ان کی شیعہ قوم ان سے مکمل بائیکاٹ کر دیتی ہے اور انہیں واجب القتل قرار دیتے ہیں اور اگر ان میں شادی شدہ نوجوان ہو تو اس کی بیوی چھین لیتے ہیں ان سے ایسا سلوک کرتے ہیں جو کافر اور مرتد سے کیا جاتا ہے۔ عراق میں شیعوں نے اسلحہ خانہ بھی تیار کر رکھا ہے یہ مبالغہ نہ ہو گا حقیقت ہے کہ ان کے پاس اتنا بڑا اسلحہ خانہ ہے عالم اسلام کی بعض حکومتوں کے پاس بھی اتنا اسلحہ نہ ہو گا جب امریکہ نے عراق پر اٹیک کیا تھا تو یہ شیعہ اسلحہ کے بڑے بڑے ذخائر پر قابض ہو گئے تھے نیز ایران ان کی مدد کرتا ہے یہ شیعہ عراق میں ایران کی منظّم فوج ہیں، عراق میں کوئی اسلحہ ہو کتنا مہنگا ہو اور زیادہ ہو یہ شیعہ فوراً خرید لیتے ہیں اور اگر آپ بغداد ہی کا جائزہ لیں اس میں ہر جگہ آپ کو اسلحہ کا ذخیرہ مل جائے گا، یہ بغداد شیعہ کی آبادی کا دھڑکتا دل ہے، یہ نام کو صدام کا علاقہ کہلواتا تھا، اصل شیعہ اس پر قابض ہیں، انقلاب یہیں سے اٹھا تھا۔ یہاں کچھ لوگوں نے ایران سے جنگی ٹریننگ لی ہوئی ہے۔ شہری لڑائی سڑکوں پر لڑی جانے والی جنگ اور جماعتوں سے لڑی جانے والی جنگ کی تربیت لے رکھی ہے اور اہم شخصیات پر قاتلانہ حملہ کی تربیت بھی انہوں نے لے رکھی ہے۔ سابق وزیر اوقاف عبداللہ فاضل پر انہوں نے ہی قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ 

 عراقی شیعوں کے نزدیک نکاح متعہ:

متعہ عراقی شیعوں کے ہاں بھی عام ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امہات المومنینؓ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ شیعوں سے انتقام لے رہا ہے کہ ان میں اکثریت شرف اور عفت اور پاک دامنی سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ گندے اور اپنے عقائد کی مانند لتھڑے ہوئے بدبودار جسم والے ہیں (الجزء من جنس العمل)"جيسا كام ویسا انعام۔"

صفحہ 2 از 3