عراقی شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عراقی شیعہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 3

عراقی متعہ کو عام کرنے کے لیے نوجوانوں کو راغب کرتے ہیں مرد ہوں یا عورتیں ہوں ان کا دین انہیں ذرہ برابر نہیں روکتا۔ نہ ہی ان کا معاشرہ عار سمجھتا ہے۔ انہوں نے متعہ کے نام پر زنا خانے کھول رکھے ہیں۔ جو بھی ان کے ہاں متعہ اور اصل زنا کرنا چاہتا ہے وہ ان کے دفاتر میں آ جاتا ہے وہ اس کے سامنے ان بدکار عورتوں کی تصویروں کی البم پیش کرتا ہے، پھر بڑا اٹھتا ہے جسے یہ "سید“ کہتے ہیں یہ ان کا بہتان بازی کا جھوٹا نکاح پڑھا کر زنا کا پرمٹ دیتا ہے۔یونیورسٹیوں میں ایسے ایسے جنسی حادثات پیش آتے ہیں کہ حیا سر پیٹ کر رہ جاتی ہے۔ آبِ شرمندگی پیشانی کو شرابور کر دیتا ہے۔ پسینہ پونچھیئے ذرا اپنی جبیں سے۔

 کتنی ہی دوشیزائیں ایسی ہیں جن کی بکارت دری اس نکاحِ متعہ کے باطل ہاتھوں سے سرزد ہوئی جسے عراق کے شیعوں کے شیوخ نے اپنی نگرانی میں رواج دیا ہے۔


صفحہ 3 از 3