حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما
علی محمد الصلابیتاریخی روایات میں جو کھوٹے اور کھرے کا پلندہ ہیں یہ وارد ہے کہ عمار بن یاسر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین اختلاف تھا، ان میں سے کچھ روایات تو سند کے ساتھ اور کچھ بغیر سند کے بیان ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں میرے علم کے مطابق کسی نے سیر حاصل گفتگو نہیں کی ہے۔ اس اہم موضوع کا تعلق مخلوقات الٰہی میں سے ان نفوس قدسیہ سے ہے جو اللہ و رسول کے انتہائی محبوب ہیں اور اس سلسلہ میں ایسی روایات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا جو بغیر لگام کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عزت و ناموس کو نشانہ بنائیں۔
(عمار بن یاسر: اسامۃ احمد سلطان: صفحہ 122)
یہ بےبنیاد اتہامات جو ان ضعیف روایات میں پیش کیے گئے ہیں یہ ہیں:
1: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی پٹائی:
وہ روایات جن میں حضرت عثمان غنیؓ کا حضرت عمار بن یاسرؓ کی پٹائی کرنے کا ذکر ہے وہ اس موضوع کی مشہور ترین روایات ہیں، اس کو وضع کرنے والوں نے پٹائی کے اسالیب کے بیان میں انتہائی مہارت اور فنکاری کا ثبوت دیا ہے، یہ روایات اسانید کے بطلان و فساد کے ساتھ متن میں سخت نکارت کی حامل ہیں۔
(ایضاً)
قاضی ابوبکر ابن العربی حضرت عثمان غنیؓ کی طرف منسوب افترأات کا ابطال و تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حاصل عبداللہ بن مسعودؓ کی پٹائی کرنے اور ان کا عطیہ روک لینے سے متعلق حضرت عثمان غنیؓ کو متہم کرنا جھوٹ اور من گھڑت ہے، اسی طرح حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی پٹائی کا ڈرامہ بھی جھوٹ ہے۔ اگر آپ کی انتڑیاں پھٹ گئی ہوتیں تو آپ کبھی زندہ نہیں رہ سکتے تھے، علماء نے اس سلسلہ میں مختلف اعتذار پیش کیے ہیں جو بالکل مناسب نہیں اور نہ ان کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ باطل پر مبنی ہیں اور باطل پر حق قائم نہیں کیا جا سکتا اور نہ جاہلوں کے ساتھ چل کر وقت ختم کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس کی انتہا نہیں ہے۔
(العواصم من القواصم: صفحہ (82۔84)
یقیناً حضرت عثمان غنیؓ کے اخلاق، ایمان، حیا، نرم خوئی، رقت طبیعت، اسلام میں سبقت اور جلالت اس سے کہیں بلند ہے کہ آپ ایک صحابی جلیل کے ساتھ تصرف کے اس گھٹیا درجہ پر اتر جائیں۔ خواہ کتنا بھی اختلاف رائے ہو، حضرت عثمان غنیؓ ان کی سبقت و فضل کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ عثمانؓ جنھوں نے اپنی خاطر قتال سے لوگوں کو روک دیا فتنہ سے بچتے ہوئے اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت کرتے ہوئے اور پورے صبر و احتساب کے ساتھ موت کو پسند کر لیا، کیا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جن کی اسلام میں سبقت اور فضل آپؓ کو معلوم تھا وہ سب کر سکتے ہیں جن کا ان مزعومہ روایات میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپؓ نے اپنے غلاموں کو انہیں مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گئے اور حضرت عثمان غنیؓ اس حالت میں ان کو پیٹ کر اپنے قدموں سے روندنے لگے، کیا عثمانؓ کے اخلاق و حیا سے اس کی توقع کی جا سکتی ہے کہ آپ جاہلیت کا نعرہ لگائیں اور حضرت عمارؓ کو ان کی ماں حضرت سمیہؓ کے ذریعہ سے عار دلائیں جب کہ اسلام میں ان کی سبقت اور ان کا فضل حضرت عثمان غنیؓ پر عیاں تھا اور اسلام میں اول شہیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا کی طرف عمار رضی اللہ عنہ کے انتساب کے شرف سے اچھی طرح واقف تھے؟
ہرگز نہیں حضرت عثمان غنیؓ ایسا ہرگز نہیں کر سکتے ہیں، موثوق اور معتبر صحیح روایات میں تادیب اور توبیخ و زجر کے اس گرے ہوئے اسلوب کا سرے سے کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا اور مزید براں آپ کے اخلاق عالیہ اور آپ کی سیرت و طبیعت اس کو بعید از قیاس اور مستبعد قرار دیتی ہیں اور بلاشبہ ان وضاعین و کذابین اور مفترین کی ریشہ دوانیوں اور راز ہائے سربستہ کا پردہ فاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان موضوع روایات کو ان ائمہ اعلام کے معروف اخلاق و مواقف پر پیش کیا جائے اور اس دور کے معیار و مقاییس کے اعتبار سے ان کا جائزہ لیا جائے۔
(الخلیفۃ المفتری علیہ عثمان بن عفانؓ: صفحہ (14۔41، عمار بن یاسرؓ: صفحہ 137)