ابتلاء و آزمائش - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ابتلاء و آزمائش

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 6
  • ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام کے اعلان اور کفار کے سامنے اس کے اظہار کے بڑے شوقین تھے۔ اس سے آپ کی ایمانی قوت اور شجاعت کا پتہ چلتا ہے۔ اس کی خاطر انہوں نے بڑی تکلیف اٹھائی، یہاں تک کہ قوم کے لوگوں کو آپ کی موت میں شک نہ رہا، آپ کے دل میں اللہ و رسول کی محبت اپنے نفس سے کہیں زیادہ پیوست تھی۔ اسلام کے بعد آپ کے پیش نظر صرف توحید کا پرچم بلند کرنا اور مکہ کے اندر لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی صدا کو عام کرنا تھا اگرچہ اپنی جان دینی پڑے۔ اور عملاً ایسا ہوا بھی کہ اسلام و عقیدۂ توحید کی خاطر قریب تھا کہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔
  • لوگوں تک اسلامی دعوت کو پہچانے کے لیے… جس سے دلوں کو خوشی وسکون ملتا ہے… جاہلی طوفان کے درمیان اسلام کے اظہار و اعلان پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اصرار، باوجود یہ کہ آپ کو یہ پتہ تھا کہ اس راستہ میں کس قدر مصائب وآلام ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اٹھانے پڑیں گے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ ذاتی منفعت کی فکر کے دائرہ سے نکل چکے تھے۔
  • اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں اس طرح پیوست ہو گئی تھی کہ اپنے نفس کی محبت پر غالب تھی، اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ باوجود یہ کہ لوگ آپ کی زندگی سے نا امید ہو چکے تھے، پھر بھی آپ کا پہلا سوال تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس حال میں ہیں؟ اور آپ نے قسم کھا لی کہ اس وقت تک کچھ کھاؤں پیوں گا نہیں، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں کر لیتا۔ اسی طرح ہر مسلمان کے اندر اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تمام محبتوں پر غالب ہونی چاہیے، خواہ اس کی خاطر جان ومال قربان کرنا پڑے۔ (استخلاف ابی بکر الصدیق: د۔ جمال عبدالہادی، صفحہ، 131 اور 132)
  • افراد کے ساتھ تعامل اور واقعات وحادثات کے سلسلہ میں قبائلی عصبیت کا اہم کردار تھا۔ اگرچہ عقیدہ میں اختلاف کیوں نہ ہو، یہاں ہم نے دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قبیلہ نے عقیدہ میں اختلاف کے باوجود عتبہ کو دھمکی دی کہ اگر ابوبکر کی موت ہو گئی تو ہم تم کو قتل کیے بغیر نہیں رہیں گے۔ (محنۃ المسلمین فی العہد المکی: د۔ سلیمان السُّویکت، 79)
  • اس واقعہ سے ام جمیل رضی اللہ عنہا کا بہترین مؤقف نکھر کر سامنے آتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دعوت دین کے شوق ومحبت اور اس کے لیے جدوجہد پر کس طرح ان کی تربیت ہوئی تھی۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا تو فوراً جواب دیا کہ نہ میں ابوبکر کو جانتی ہوں اور نہ محمد بن عبداللہ کو جانتی ہوں۔ کامل احتیاط کا تقاضا یہی تھا کیونکہ اس وقت ام الخیر مسلمان نہ تھیں اور ام جمیل اپنے اسلام کو چھپا رہی تھیں، یہ نہیں چاہتی تھیں کہ ام الخیر کو اس کی خبر ہو۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی خبر دی، کیونکہ خوف تھا کہ کہیں قریش کی جاسوس نہ ہوں۔ (السیرۃ النبویۃ قراء ۃ لحمایۃ الحذر والحمایۃ: 50) ساتھ ہی ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کیفیت معلوم کرنے اور آپ کی صحت کے سلسلہ میں اطمینان حاصل کرنے کی بھی فکر دامن گیر تھی، اسی لیے ام الخیر سے ان کے بیٹے کے پاس ان کے ساتھ جانے کی پیشکش کی۔ اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں تو اس سلسلہ میں کامل احتیاط ملحوظ رکھی کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و جگہ کی خبر کسی کو ملنے نہ پائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق اطمینان دلایا۔ (السیرۃ النبویۃ قراء ۃ لحمایۃ الحذر والحمایۃ: 51) اور پھر تینوں کا ایسے وقت میں گھر سے نکلنا جب لوگوں کا چلنا پھرنا بند ہو جائے اور فضا پر سکون ہو جائے، کامل احتیاط کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ لوگوں کے دین سے کھیلا جا رہا تھا اور لوگ آزمائشوں سے دو چار ہو رہے تھے۔ (استخلاف الصدیق: د۔ جمال عبدالہادی، 132)
  • اس واقعہ سے والدہ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نیکی واحسان کا پتہ چلتا ہے۔ آپ اپنی والدہ کی ہدایت کے لیے انتہائی حریص تھے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یہ میری والدہ اپنے بیٹے کو بہت چاہتی ہیں، آپ کی ذات بابرکت ہے، آپ ان کو اللہ کی طرف دعوت دیں اور ان کے حق میں اللہ سے دعا کریں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ سے ان کو جہنم سے بچا لے۔ اس جملے سے عذاب الٰہی کا خوف اور اس کی رضا جوئی و جنت کی رغبت عیاں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی والدہ کے لیے ہدایت کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی، آپ کی والدہ مشرف بہ اسلام ہوئیں اور مومنوں کی اس بابرکت جماعت میں شامل ہو گئیں، جو اللہ کے دین کی نشر و اشاعت کے لیے کوشاں تھی۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ کس قدر رحم فرمانے والا ہے اور اس واقعہ سے ’’احسان پر احسان‘‘ کا قانون ہمارے سامنے نمایاں نظر آتا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ میں سب سے زیادہ ابتلاء و آزمائش سے دو چار ہونے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، کیونکہ آپ ہمہ وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہتے اور ان مقامات پر آپ کے ساتھ ہوتے، جہاں لوگ آپ کو اذیت پہنچاتے اور آپ کی شان میں گستاخیاں کرتے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے دفاع کرتے اور فدائیت کا ثبوت دیتے، اس طرح وہ قوم کی اذیت اور ان کی حماقتوں سے دو چار ہوتے، باوجود یہ کہ آپ قریش کی بڑی شخصیات میں سے تھے اور عقل واحسان میں معروف ترین تھے۔ (محنۃ المسلمین فی العہد المکی، د۔ سلیمان السُّویکت: 75)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت:

صفحہ 2 از 6