ابتلاء و آزمائش - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ابتلاء و آزمائش

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 6

جرأت و شجاعت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ امتیازی پوزیشن کے حامل تھے۔ حق بات میں کسی سے نہیں ڈرتے تھے، دین کی نصرت، اس پر عمل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرنے کے سلسلہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے ہرگز خوف نہیں کھاتے تھے۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے بڑی بدتمیزی کیا کی تھی؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں عقبہ بن ابی معیط آیا اور اپنا کپڑا آپ کے گلے میں ڈال کر انتہائی سختی سے کھینچا، اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کیا (البخاری: 3856) اور یہ آیت تلاوت کی:

أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّـهُ (سورۃ الغافر: آیت، 28)

ترجمہ: ’’کیا تم ایک شخص کو اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘

اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری طرح مارا کہ آپ پر غشی طاری ہو گئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، بلند آواز سے پکار کر کہنے لگے، تم تباہ وبرباد ہو جاؤ، أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّـهُ (سورۃ الغافر: آیت، 28)(الصحیح المسند فی فضائل الصحابۃ للعدوی: 37)

’’کیا تم ایک شخص کو اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘

اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ایک پکارنے والا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: اپنے دوست کے پاس جلدی پہنچو، ابوبکر رضی اللہ عنہ نکل پڑے، آپ کے بالوں کی چار لٹیں تھیں، آپ یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے کہ تم برباد ہو کیا تم ایک شخص کو اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے، جب لوٹ کر گھر آئے تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ بالوں کی لٹوں کو جہاں ہاتھ لگاتے ہاتھ میں آ جاتی۔ (منہاج السنۃ: 3/4،فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 169)

اور علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ خطاب فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے، فرمایا: لوگو! سب سے بڑا بہادر کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ فرمایا: جو بھی میرے مقابلہ میں آیا میں نے اس سے اپنا حق لیا، لیکن سب سے بڑے بہادر ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدر میں سائبان بنایا، سوال پیدا ہوا کہ آپ کے ساتھ کون رہے گا تاکہ کوئی مشرک آپ پر حملہ آور نہ ہو سکے؟ تو اللہ کی قسم صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی تلوار کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے، جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے سامنے سینہ سپر رہتے، لہٰذا آپ ہی سب سے بڑے بہادر ٹھہرے۔ ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قریش پڑ گئے، کوئی آپ پر غصہ اتارتا، کوئی آپ کو تنگ کرتا اور کہتا کہ تم نے تو تمام معبودوں کو چھوڑ کر ایک کو پکڑ لیا ہے۔ اللہ کی قسم جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آتا ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی کو مار کر بھگاتے، کسی کو برا بھلا کہہ کر دور کرتے، فرماتے: تم برباد ہو، تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ پھر علی رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر ہٹائی اور اس قدر روئے کہ آپ کی داڑھی تر ہو گئی، پھر فرمایا: لوگو میں تمہیں قسم دلاتا ہوں، بھلا بتاؤ آل فرعون کا مومن (جس نے موسیٰ علیہ السلام سے تعاون کیا تھا) افضل ہے یا ابوبکر رضی اللہ عنہ ؟ یہ سن کر لوگ رو پڑے۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک ساعت مومن آل فرعون کی زمین بھر نیکیوں سے بہتر ہے کیونکہ مومن آل فرعون اپنے ایمان کو چھپائے پھرتا تھا اور یہ اپنے ایمان کا اعلان کرتے پھرتے تھے۔ (البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 271 اور 272)

علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان حق وباطل، ہدایت و ضلالت اور ایمان وکفر کے مابین جاری جنگ کی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو مصائب وآلام برداشت کیے ہیں ان سے اس کی وضاحت ہوتی ہے اور ہمارے سامنے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی منفرد شخصیت اور آپ کی نادر الوجود شجاعت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے، جس کی شہادت ایک مدت کے بعد علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں دی اور اس قدر متاثر ہوئے کہ خود رو پڑے اور دوسروں کو رونے پر مجبور کر دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلے شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں اللہ کی راہ میں ستایا گیا، اور آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کیا اور آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اللہ کی طرف دعوت دی۔ (ابوبکر الصدیق: محمد عبدالرحمٰن قاسم، 29، 30، 32) آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں بازو تھے۔ آپ نے دعوت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی صحبت اور اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی تکریم کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیشکش کی: یا رسول اللہ! انہیں کھانا کھلانے کا موقع آج رات مجھے دیجیے؟ اور پھر ان کے کھانے میں طائف کا منقا پیش کیا۔

(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 213 الخلافۃ الراشدۃ: یحیی الیحي، 156)

صفحہ 3 از 6