ابتلاء و آزمائش - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ابتلاء و آزمائش

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 6

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت کی یہی کیفیت آپ کی رہی، آپ اپنے متعلق خطرات کو اہمیت نہیں دیتے تھے بلکہ آپ کی اصل فکر یہ ہوتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف لاحق نہ ہونے پائے، چاہے وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، جہاں بھی ایسی کوئی بات دیکھتے آپ کی طرف سے دفاع کرتے، جب دیکھتے کہ لوگ آپ کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں اور آپ کو پکڑے ہوئے ہیں ان کے درمیان گھس جاتے، ان کو آپ سے دور بھگاتے اور چیخ کر کہتے: تم برباد ہو جاؤ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر آپ پر پل پڑتے، آپ کو مارتے، آپ کے بال نوچتے اور اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ آپ کی حالت ابتر نہ ہو جاتی۔ (عبقریۃ الصدیق للعقاد: صفحہ، 187)

اللہ کی راہ میں ستائے ہوئے لوگوں کی آزادی کے لیے مال خرچ کرنا:

مکہ کے جاہلی معاشرہ میں اسلامی دعوت کی اشاعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو مشرکین کی طرف سے اذیت رسانی میں اضافہ ہوتا گیا اور اذیت رسانی اپنی انتہا کو پہنچ گئی، خاص کر کمزور اور بے یار و مددگار مسلمانوں کے ساتھ۔ ان کو سخت تکلیف پہنچائی جاتی تھی تاکہ یہ لوگ اپنے عقیدہ و اسلام سے باز آجائیں اور دوسروں کے لیے عبرت بن جائیں تاکہ دوسرے لوگ اسلام لانے کی جرأت نہ کر سکیں۔ ان کمزوروں کو اذیت دی جاتی تھی اس سے کفار کے بغض وحسد کا اظہار ہوتا تھا۔

اس سلسلہ میں بلال رضی اللہ عنہ بری طرح ستائے گئے، آپ کی پشت پنا ہی کرنے والا کوئی نہ تھا اور نہ آپ کا خاندان و قبیلہ تھا جو آپ کی حمایت کرتا اور نہ آپ کی طرف سے تلوار اٹھانے والے تھے، جس کے ذریعہ سے آپ کا دفاع ہو سکے۔ اس طرح کے انسان کی مکہ کے جاہلی معاشرہ میں کوئی قدر وقیمت نہ تھی۔ خدمت و اطاعت اور مویشیوں کی طرح بیچے اور خریدے جانے کے علاوہ زندگی میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ ایسے لوگوں کو کسی رائے وفکر یا کسی دعوت و قضیہ کو لے کر اٹھنے کا کوئی حق نہ تھا، مکہ کے جاہلی معاشرہ میں یہ انتہائی سنگین جرم تھا، اس سے جاہلی معاشرہ کی بنیاد ہل جاتی تھی، یہ اس کو منہدم کرنے کے لیے کسی زلزلہ سے کم نہ تھا۔ لیکن یہ نئی دعوت جس کی طرف نوجوان آگے بڑھے جو اپنے آباء و اجداد اور بڑوں کے رسم ورواج اور اکڑفوں کو چیلنج کر رہے تھے، یہ دعوت اس گئے گذرے حبشی غلام کے دل میں گھر کر گئی اور اس کو زندگی میں نیا انسان بنا کر کھڑا کر دیا۔ (التربیۃ القیادیۃ: جلد، 1 صفحہ، 136)

اس دین پر ایمان لانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والی جماعت کے ساتھ شامل ہونے کے بعد ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں پیوست ہو گیا، اور جوش مارنا شروع کر دیا۔ جب اس کی اطلاع آپ کے مالک امیہ بن خلف کو ہوئی تو وہ کبھی آپ کو ڈراتا دھمکاتا اور کبھی لالچ دلاتا، لیکن جب اس نے دیکھا کہ اس سے بلال کے عزم و حوصلے میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور وہ کسی قیمت پر بھی کفر و جاہلیت اور ضلالت وگمراہی کی طرف لوٹنے کے لیے تیار نہیں، تو آپ پر سخت غضبناک ہوا اور آپ کو سخت عذاب میں مبتلا کرنے کا قصد کر لیا، وہ آپ کو چوبیس گھنٹہ بھوکا رکھ کر دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں لے گیا اور جلتی ہوئی ریت پر پیٹھ کے بل لٹا دیا، پھر اپنے غلاموں کو حکم دیا اس پر بھاری پتھر رکھو، انہوں نے آپ کے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا اور آپ کے دونوں ہاتھ جکڑ دیے گئے، پھر امیہ بن خلف نے کہا: تم جب تک محمد کا انکار نہیں کرتے اور لات و عزیٰ کی پوجا نہیں کرتے، تمہیں یہی سزا ملتی رہے گی۔ بلال رضی اللہ عنہ نے پورے صبر واستقامت کے ساتھ جواب دیا: احد، احد۔ امیہ بن خلف ایک مدت تک بلال رضی اللہ عنہ کو اس دردناک طریقے سے سزا دیتا رہا۔(عتیق العتقاء (ابوبکر الصدیق) محمود البغدادی: صفحہ، 39 اور 40) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس جگہ پہنچے، امیہ بن خلف سے گفتگو کی اور فرمایا: اس بے چارے کے بارے میں تم اللہ سے ڈرتے نہیں، کب تک تم اس کو اس طرح ستاتے رہو گے؟ اس نے کہا: تم نے ہی تو اس کو برباد کیا ہے، تم ہی اس کو بچاؤ۔ آپ نے کہا: ٹھیک ہے، میرے پاس اس سے قوی و طاقتور ایک کالا غلام ہے اور تمہارے دین پر ہے، میں تمہیں اس کے بدلے دے رہا ہوں۔ اس نے کہا: میں نے قبول کر لیا۔ آپ نے وہ غلام اس کے حوالے کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو لے کر آزاد کر دیا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 394) ایک روایت کے مطابق آپ نے بلال کو سات یا چالیس اوقیہ سونا کے عوض خرید کر آزاد کر دیا۔ (التربیۃ القیادیۃ: جلد، 1 صفحہ، 140)

بلال رضی اللہ عنہ کا صبر و استقامت قابل داد ہے۔ آپ کا اسلام سچا اور دل پاک تھا، اسی لیے ڈٹے رہے، ہر طرح کے چیلنج کو قبول کیا، سزائیں برداشت کیں لیکن پائے استقامت میں تزلزل نہ آیا، آپ کے صبر و ثبات کو دیکھ کر کفار جل بھن جاتے تھے۔ خاص کر کمزور مسلمانوں میں آپ کی واحد شخصیت تھی جو اسلام پر ڈٹی رہی، آپ نے کفار کی مراد پوری نہ ہونے دی اور کلمہ توحید کے ذریعہ سے ان کو کھلا چیلنج کرتے رہے، اللہ کی راہ میں اپنے نفس کی پرو ا نہ کی۔(محنۃ المسلمین فی العہد المکی: 92)

ہر ابتلاء و آزمائش کے بعد نعمت کا حصول ہوتا ہے، بلال رضی اللہ عنہ کو عذاب اور ذلت ورسوائی سے نجات ملی، غلامی سے آزادی نصیب ہوئی، باقی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں گذاری، شب وروز آپ کے ساتھ رہے اور آپ سے راضی رہ کر وفات پائی۔

ستائے ہوئے مسلمانوں کو آزاد کرانے کی جو سیاست ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جاری رکھی۔ کمزور مسلمانوں کی تعذیب اور ایذا رسانی کے مقابلہ کے لیے اسلامی قیادت نے جو لائحہ عمل اور منصوبہ تیار کیا یہ اس کا ایک بنیادی طریقہ قرار پایا۔ آپ نے اسلامی دعوت کو مال و افراد سے تقویت پہنچائی، اہل ایمان غلام و لونڈی کو خرید کر آزاد کرتے۔

جن لوگوں کو آپ رضی اللہ عنہ نے غلامی سے نجات دلائی وہ یہ ہیں:

صفحہ 4 از 6