ابتلاء و آزمائش - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ابتلاء و آزمائش

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 6

عامر بن فہیرہ جو بدر و احد میں شریک رہے اور بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہوئے۔ ام عبیس۔ زنیرہ، جب ان کو آزاد کیا تو ان کی بینائی چلی گئی، کفار کہنے لگے لات وعزیٰ نے اس کی بینائی چھین لی ہے۔ انہوں نے کہا: کفار جھوٹ کہہ رہے ہیں، اللہ کی قسم لات وعزیٰ نفع ونقصان کی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ نے ان کی بینائی لوٹا دی۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 393) نہدیہ اور ان کی بیٹی کو آزاد کیا یہ دونوں ماں بیٹی بنو عبدالدار کی ایک خاتون کی غلامی میں تھیں، آپ کا ان دونوں کے پاس سے گذر ہوا، ان کو ان کی مالکہ آٹا دے کر بھیج رہی تھی اور کہہ رہی تھی تم دونوں کو کبھی آزاد نہ کروں گی۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا:

’’تو اس قسم کو توڑ دے۔‘‘

اس نے کہا: قسم توڑ دوں؟تم نے ان دونوں کو برباد کیا، تم ہی ان دونوں کو آزاد کرو۔

آپ نے کہا: اچھا، کتنے میں دو گی؟

اس نے کہا: اتنے میں۔

آپ نے کہا: میں نے خرید لیا اور آج سے یہ دونوں آزاد ہیں۔

اور ان دونوں سے کہا: اس کا آٹا اس کے حوالے کرو۔

ان دونوں نے کہا: ہم اس سے فارغ ہو کر اس کے حوالے کر دیتی ہیں۔

آپ نے فرمایا: جیسا تم چاہو۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 393)

یہ غور کا مقام ہے کہ اسلام نے کس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان دونوں لونڈیوں کے درمیان مساوات پیدا کی کہ وہ دونوں آپ سے اس طرح مخاطب ہوئیں جیسے ہم مقام لوگ ایک دوسرے کو خطاب کرتے ہیں، یہاں غلام و آقا کا طرز تخاطب نہیں تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت واسلام میں شرف و منزلت پر قائم رہتے ہوئے بھی اس طرز تخاطب کو قبول کیا، حالانکہ آپ ہی نے ان دونوں کو آزادی دلائی تھی۔ اور کس طرح اسلام نے ان دونوں کو بلند اخلاق سکھائے تھے۔ آزادی اور ظلم سے نجات کے بعد ان کے لیے ممکن تھا کہ اس کا آٹا چھوڑ بھاگتیں، ہوائیں اس کو اڑا لے جاتیں، یا چرند و پرند اس کو کھا لیتے، لیکن سبحان اللہ! انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا جب تک کہ اس سے فارغ ہوکر اس کے حوالے نہ کر دیا۔ 

(السیرۃ النبویۃ لابی شہبۃ: جلد، 1 صفحہ، 346)

بنو عدی کی شاخ قبیلہ بنو مومل کی ایک لونڈی کے پاس سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا، جو مسلمان ہو چکی تھی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، اس کو اذیت پہنچاتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ دے، اس کی اس قدر پٹائی کرتے کہ تھک جاتے، جب تھک جاتے تو کہتے: تم کو میں نے تھکنے کی وجہ سے ابھی چھوڑ دیا ہے، وہ جواب دیتی اللہ تمہارے ساتھ ایسا ہی کرے۔ آپ نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 393)

اس طرح آپ آزادی و حریت کے پیامبر اور غلاموں کو آزاد کرنے والے، باوقار شیخ الاسلام تھے، لوگوں میں آپ سے متعلق یہ بات معروف ومشہور تھی کہ آپ محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، لوگوں کا بوجھ یعنی قرض وغیرہ اپنے سر لے لیتے ہیں، مہمان نوازی اور ضیافت کرتے ہیں، مصائب میں لوگوں کی مدد اور تعاون کرتے ہیں۔ جاہلیت میں گناہ سے اپنا دامن داغدار نہیں کیا، ہر دل میں آپ کی محبت تھی، کمزوروں اور غلاموں پر آپ کا دل رقت ورحمت سے لبریز ہو جاتا تھا۔ اللہ کی خاطر غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے کے لیے اپنا کافی مال خرچ کیا، حالانکہ ابھی تک غلاموں کو آزاد کرنے کی طرف رغبت دلانے والے احکام اور اس سلسلہ میں ثواب جزیل کے وعدے کا نزول نہیں ہوا تھا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن شہبۃ: جلد، 1 صفحہ، 345)

آپ کمزوروں اور بے سہارا لوگوں پر جو بے دریغ اپنا مال خرچ کر رہے تھے اس پر مکی معاشرہ کو بڑا ہی تعجب تھا اور ان کی نگاہ میں یہ عجیب وغریب چیز تھی، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں یہ لوگ آپ کے دینی بھائی تھے، آپ کی نگاہ میں ان میں سے ایک فرد کے مقابلے میں روئے زمین کے تمام مشرکین اور ظالمین کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ انھی عناصر پر توحید کی حکومت اور اسلامی تہذیب و تمدن کا قیام عمل میں آیا۔  (التربیۃ القیادیۃ : جلد، 1 صفحہ، 342) ابوبکر رضی اللہ عنہ نہ کسی سے تعریف چاہتے تھے اور نہ جاہ ودنیا کے طالب تھے بلکہ ان تمام اعمال خیر سے آپ کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا حصول تھا۔ ایک دن آپ کے والد نے آپ سے کہا: عزیزم تم کمزور اور ضعیف لوگوں کو آزاد کرتے ہو، اگر تم طاقتور لوگوں کو آزاد کرتے تو وہ تمہارے کام آتے، تمہاری طرف سے دفاع کرتے؟ آپ نے عرض کیا: اباجان! میں اللہ کے لیے کر رہا ہوں۔ جب آپ کی یہ حالت تھی تو اس میں کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شان میں قرآنی آیات نازل فرمائیں جو قیامت تک تلاوت کی جاتی رہیں گی۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴿٥﴾ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٦﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ ﴿٧﴾ وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿٨﴾ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ﴿١٠﴾ وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ ﴿١١﴾ إِنَّ عَلَيْنَا لَلْـهُدَىٰ﴿١٢﴾ وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ ﴿١٣﴾ فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ﴿١٤﴾ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ﴿١٥﴾ الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٦﴾ وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿١٧﴾ الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ ﴿١٩﴾ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٠﴾ وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ ﴿٢١﴾ (سورۃ اللیل: آیت، 5 تا 21)

(تفسیر الآلوسی: جلد 30 صفحہ، 152 اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ (مترجم))

صفحہ 5 از 6