ابتلاء و آزمائش - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ابتلاء و آزمائش

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 6

’’جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے رب سے) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہا، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پروائی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے، اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا۔ بے شک راہ دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے۔ میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے۔ جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منہ پھیر لیا۔ اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو پرہیزگار ہو گا۔ جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔ کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو۔ بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے۔ یقینا وہ (اللہ بھی) عنقریب رضا مند ہو جائے گا۔‘‘

اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے سب سے زیادہ مال خرچ کرنے والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ پہلی اسلامی جماعت کے افراد کے مابین یہ تکافل، خیر و عطا کا مینار تھا۔ اسلام کی برکت سے غلام بھی صاحب عقیدہ وفکر قرار پائے۔ اس موضوع پر گفتگو کرنا، اس سے دفاع کرنا، اس کی راہ میں جہاد کرنا، ان کا نصب العین ہو گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ان حضرات کو خریدنا اور آزاد کرنا اسلام کی عظمت کا پتہ دیتا ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ دین آپ کے اندر کس طرح گھر کر گیا تھا۔ دور حاضر میں مسلمانوں کو شدید ضرورت ہے کہ وہ اس طرح کے اعلیٰ اقدار اور بلند شعور کو بیدار کریں تاکہ آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہو اور افراد امت کے درمیان پیار ومحبت اور تعاون کی فضا ہموار ہو، جو دشمنان دین کا نشانہ بن چکے ہیں اور وہ ان کی بیخ کنی میں لگے ہوئے ہیں۔


صفحہ 6 از 6