عدل و مساوات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عدل و مساوات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

آپؓ نے اپنے گورنروں کو یہ حکم دیا تھا کہ حج کے موسم میں آپؓ سے ملاقات کیا کریں، جب وہ یکجا ہو جاتے تو آپؓ فرماتے: ’’اے لوگو! میں نے اپنے گورنروں کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ تمہاری چمڑی ادھیڑ لیں اور مال ہڑپ کر لیں، ان کو میں نے بھیجا ہے تاکہ تمہارے (آپسی مظالم کے) درمیان حائل ہوں اور مالِ غنیمت کو تمہارے درمیان تقسیم کریں لہٰذا جس کے ساتھ اس کے خلاف برتاؤ کیا گیا ہو وہ کھڑا ہو جائے،‘‘چنانچہ ایک آدمی کے علاوہ کوئی کھڑا نہ ہوا۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین! آپؓ کے گورنر نے مجھے سو کوڑے مارے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے گورنر سے فرمایا: تم نے اس کو کیوں مارا ہے؟ (اور اس آدمی سے کہا) اٹھو، اور ان سے بدلہ لو۔ (اسی دوران) حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپؓ ایسا کرتے ہیں تو یہ سلسلہ لمبا ہو جائے گا اور آپؓ کے بعد جو بھی آئے گا اس کے لیے یہ چیز سند بن جائے گی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا میں بدلہ نہ دلاؤں، حالانکہ میں نے رسول اللہﷺ کو بذاتِ خود بدلہ دلاتے ہوئے دیکھا ہے؟ حضرت عمرو بن عاصؓ نے کہا: ہم کو اجازت دیجئے ہم اسے راضی کر لیں۔ آپؓ نے فرمایا: لے جاؤ اسے راضی کر لو۔ چنانچہ دو سو دینار یعنی ہر کوڑے پر دو دینار کے بدلے اسے راضی کر لیا۔

 (نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: حمد محمد عبد الصمد: صفحہ 145)

 اگر وہ اسے راضی نہ کر پاتے تو آپؓ اسے بدلہ دلاتے۔ 

مصر کا ایک باشندہ آپؓ کے پاس حضرت عمرو بن عاصؓ کے بیٹے کی شکایت لے کر آیا، عمرو بن عاصؓ اس وقت مصر کے گورنر تھے اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں ظلم سے آپؓ کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا: تو نے اچھی پناہ گاہ ڈھونڈی۔ اس نے کہا: میں نے حضرت عمرو بن عاصؓ کے بیٹے سے دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں اس سے آگے نکل گیا۔ اس پر وہ مجھے کوڑے سے مارنے لگا اور کہا میں معزز فرد کا بیٹا ہوں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کے پاس خط لکھا اور انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا حضرت عمرو بن عاصؓ آئے تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا: مصری کہاں ہے؟ کوڑا لو اور مارو، وہ اسے مارنے لگا اور حضرت عمرؓ کہتے تھے: ’’معزز فرد کے بیٹے کو مار۔‘‘حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس نے مارا، اللہ کی قسم اس نے اس کو خوب مارا اور ہماری تمنا تھی کہ اسے مارا جائے، وہ اسے مسلسل کوڑے مارتا رہا یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ اب نہ مارا جائے۔ پھر حضرت عمرؓ نے مصری سے کہا: حضرت عمرو بن عاصؓ کے سر پر مارو، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ان کے لڑکے نے مجھے مارا تھا اور میں نے اس سے بدلہ لے لیا۔ تو حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ سے کہا: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟ حضرت عمرو بن عاصؓ نے فرمایا: اے امیر المؤمنین! نہ میں نے اس واقعہ کو جانا اور نہ وہ (مصری) میرے پاس آیا۔ 

(الوسیط فی القرآن الکریم: الصلابی: صفحہ 96)

خلفائے راشدینؓ کی حکومت عدل کی بنیادوں پر قائم رہی، شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہؒ نے کیا ہی خوب بات کہی ہے :

’’بے شک اللہ تعالیٰ عدل پسند حکومت کی مدد کرتا ہے اگرچہ وہ کافر ہو اور ظالم حکومت کی مدد نہیں کرتا اگرچہ وہ مسلم ہو۔ عدل ہی سے افراد کی اصلاح ہوتی ہے اور اموال میں برکت ہوتی ہے۔‘‘ 

(المؤطا: کتاب الأقضیۃ: باب الترغیب فی القضاء بالحق: حدیث 2)

سیّدنا عمرؓ نے اپنے ملک میں مساوات اور برابری کی جن بنیادوں پر حکومت قائم کی وہ ان اہم بنیادوں میں سے ایک ہے جسے اسلام نے نافذ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا‌ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞ (سورۃ الحجرات: آیت 13)

ترجمہ: ’’اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

بے شک حاکم اور محکوم، مرد وعورت، عرب و عجم، سفید و سیاہ سب لوگ اسلام کی نگاہ میں برابر ہیں۔ اسلام نے جنس، رنگ، نسب، طبقہ، حاکم اور محکوم کی بنیادوں پر انسانوں کی ہر تفریق کو مٹا دیا ہے۔ شریعت کی نگاہ میں سب کے سب برابر ہیں۔ 

(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 293، 294)

اس اصول کو زندہ کرنے میں حضرت عمرؓ کا کارنامہ بہترین نمونہ بن کر سامنے آیا۔ لہٰذا اس مقام پر آپؓ کے ان بعض مواقف کا تذکرہ کیا جاتا ہے جن سے آپؓ کے ملک میں عدل و مساوات کی بنیادوں کو استحکام ملا:

1۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں مدینہ اور اس کے قرب و جوار کے لوگ قحط سالی کے شکار ہوئے، مدینہ کو ایسے وقت میں پانی کی سخت ضرورت تھی جب کہ زمین سے ریت اور دھول اڑ رہی تھی، 

(وسطیۃ أہل السنۃ بین الفرق: محمد باکریم: صفحہ 170)

اسی لیے اس سال کو ’’عام الرمادۃ‘‘ یعنی ریت والا سال کہا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر قسم کھا لی کہ پنیر، دودھ اور گوشت وغیرہ اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک کہ لوگ پہلے جیسی زندگی نہ پا لیں۔ اتفاق سے بازار میں گھی کا ایک ڈبہ اور دودھ کی ایک مشک آئی، حضرت عمرؓ کے غلام نے چالیس درہم میں ان دونوں کو خرید لیا اور حضرت عمرؓ کے پاس لایا اور کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے آپ کی قسم کو پورا کر دیا اور ثواب کو بڑھا دیا، بازار میں دودھ کی ایک مشک اور گھی کا ڈبہ آیا تھا ہم نے اسے چالیس درہم میں خرید لیا ہے حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم نے دونوں کو خرید کر حد سے تجاوز کیا ہے، ان دونوں کو صدقہ کر دو، مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ کسی چیز کے کھانے میں اسراف کروں اور کہا: مجھے رعایا کی حالت کیسے معلوم ہو سکتی ہے جب تک کہ میں بھی اس مصیبت سے نہ گزروں جس سے وہ گزر رہے ہیں۔ 

(السیاسۃ الشرعیۃ: صفحہ 10 )

یہ ہے اس قحط سالی کے موقع پر آپؓ کا مؤقف، جسے ’’عام الرمادۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔

صفحہ 2 از 5