عدل و مساوات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عدل و مساوات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

مہنگائی کے ایام میں بھی آپؓ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی، لوگ ایک سال مہنگائی کے دور سے گزرے، گھی مہنگا ہو گیا، حضرت عمرؓ تیل کھانے لگے، جس سے آپؓ کا پیٹ گڑگڑانے لگا، آپؓ نے پیٹ کو مخاطب کر کے کہا: تم جتنا چاہو گڑگڑاؤ، تم اس وقت تک گھی نہ کھاؤ گے جب تک کہ لوگ اسے نہ کھانے لگیں۔ 

(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: صفحہ 501)

2۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں مساوات کے اصول کی تنفیذ کسی ایک معاملہ پر منحصر نہ رہی، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مخصوص معاشرتی احوال تک میں اس کا نفاذ ہوا حتیٰ کہ اس کی مثال خادم و مخدوم میں بھی دیکھی گئی۔ چنانچہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ حج کرنے گئے۔ صفوان بن امیہ نے ان کے لیے کھانا پکایا، وہ (صحابہؓ) ایک بڑے برتن میں کھانا چار آدمی اٹھا کر لائے، کھانا سب کے سامنے رکھا گیا، سب کھانے لگے اور خادم کھڑے رہے تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا: کیا تم انہیں اپنے سے دور رکھتے ہو؟ سفیان بن عبداللہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہے اے امیر المؤمنین! البتہ خود کو ان پر ترجیح دیتے ہیں حضرت عمرؓ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے، اپنے خادموں پر خود کو ترجیح دیتے ہیں (یعنی پہلے خود کھاتے ہیں پھر ان کو کھلاتے ہیں) اللہ ان کے ساتھ ایسا ہی کرے۔ پھر خادموں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: تم لوگ بھی بیٹھو اور کھاؤ، چنانچہ خادم بھی بیٹھ گئے اور کھانے لگے اور امیر المؤمنین نے نہیں کھایا۔ 

(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: صفحہ 501)

جب تک سارے مسلمانوں کو کھانا میسر نہ ہوتا آپؓ خود نہیں کھاتے تھے، آپؓ ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھتے تھے عام الرمادۃ میں شام کے وقت ایک روٹی کھاتے، تیل میں توڑ کر ثرید بنا لیتے، مسلسل کئی دنوں تک یہی حالت تھی، یہاں تک کہ ایک دن صحابہؓ نے چند اونٹوں کو ذبح کیا، (تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 98، بحوالہ نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 87) اور لوگوں کو کھلایا اور ایک کپ بھر کر اچھا گوشت آپؓ کے پاس لایا گیا، اس میں کوہان اور کلیجے کی چند بوٹیاں تھیں، آپؓ نے کہا: یہ کہاں سے آیا؟ صحابہؓ نے کہا: امیر المؤمنین! ان اونٹوں کا گوشت ہے جنہیں ہم نے آج ذبح کیا تھا۔ آپؓ نے فرمایا: تھو تھو، میں کتنا برا حاکم ہوں، کہ بہترین گوشت میں کھاؤں اور دوسرے لوگ ہڈیاں کھائیں، پھر روٹی اور تیل لایا گیا، آپؓ اسے اپنے ہاتھ سے توڑا اور اس کا ثرید بنایا۔

سیّدنا عمرؓ عدل و مساوات کے اصول کو صرف مدینہ ہی میں نہیں نافذ کرنا چاہتے تھے بلکہ تمام ریاستوں میں اپنے تمام گورنروں کو اسی بات کی تعلیم دینا چاہتے تھے یہاں تک کہ کھانے پینے کے بارے میں بھی۔

3۔ حضرت عتبہ بن فرقدؓ جب آذربائیجان گئے تو انہیں ضیافت میں حبیص (ایک قسم کی مٹھائی) پیش کی گئی، جب آپ نے اسے کھایا تو بہترین میٹھا پایا اور کہا: اگر اسی طرح امیر المؤمنین کے لیے بنایا جاتا تو بہتر ہوتا۔

چنانچہ حضرت عمرؓ کے لیے دو بڑی ٹوکری بھر کر میٹھی چیز تیار کی، پھر اسے دو آدمیوں کے ساتھ اونٹ پر لاد کر سیدنا عمرؓ کے پاس بھیج دیا گیا، جب وہ دونوں اسے لے کر آپؓ کے پاس آئے اور کھولا تو آپؓ نے پوچھا: یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میٹھی چیز ہے، پھر آپؓ نے اسے چکھا، اور اسے میٹھا پایا۔ آپؓ نے پوچھا: کیا سارے مسلمان اپنے گھر میں اسی سے شکم سیر ہوتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے فرمایا: جب ایسی بات ہے تو ان دونوں ٹوکریوں کو واپس لے جاؤ۔ پھر آپؓ نے عتبہ بن فرقدؓ کے نام خط لکھا:

’’حمد و صلاۃ کے بعد! یہ نہ تیرے باپ کی کوشش سے ہے نہ تیری ماں کی کوشش سے، تم اپنے گھر میں جس چیز سے شکم سیر ہوتے ہو اسی سے تمام مسلمانوں کو شکم سیر کرو۔‘‘ 

(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 101 )

4ـ آپؓ نے لوگوں میں عدل و مساوات قائم کرنے کی ایک مثال اس وقت قائم کی جب آپؓ کے پاس مال آیا اور آپؓ اسے لوگوں کے درمیان تقسیم کرنے لگے، لوگوں نے بھیڑ لگا دی، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ لوگوں سے مزاحمت کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور آپؓ تک پہنچ گئے۔ آپؓ نے انہیں ایک درّہ لگایا اور کہا: تم زمین میں اللہ کے سلطان سے نہیں ڈرے اور ازدحام کو چیرتے ہوئے آگے نکل آئے، تو میں نے سوچا کہ تم کو بتا دوں کہ اللہ کا سلطان بھی تم سے قطعاً نہیں ڈرتا۔ 

(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 101)

ہمیں معلوم ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک تھے جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت مل گئی تھی، آپؓ عراق، مدائن اور کسریٰ کے فاتح تھے، ان چھ افراد میں سے ایک تھے جنہیں مجلس خلافت کے لیے سیّدنا عمرؓ نے متعین کیا تھا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات کے وقت آپؓ سے خوش تھے، آپؓ شہسوار اسلام کہے جاتے تھے، لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ان کے ساتھ بھی عدل و مساوات کی کتنی بہترین مثال قائم کی۔

(نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 87) 

5ـ ابن الجوزیؒ سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاصؓ نے جب کہ آپؓ مصر کے گورنر تھے، حضرت عمر بن خطابؓ کے بیٹے عبدالرحمن پر شراب نوشی کی حد نافذ کی لوگ یہی جانتے تھے کہ کوئی بھی شرعی حد شہر کے عام میدان میں نافذ ہوتی ہے تاکہ وہ سزا سب کے لیے باعث عبرت ہو، لیکن حضرت عمرو بن عاصؓ نے خلیفہ کے صاحبزادے پر گھر کے اندر جا کر حد نافذ کی، جب حضرت عمرؓ کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو حضرت عمرو بن عاصؓ کو ایک خط لکھا:

صفحہ 3 از 5