عدل و مساوات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عدل و مساوات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

’’اللہ کے بندے عمر امیر المؤمنین کی طرف سے مجرم ابن العاص کے نام! اے عاص کے بیٹے! مجھے تجھ پر اور میرے عہد و پیمان کے خلاف تیری جرأت پر حیرت ہے، تمہارے بالمقابل میں نے بعض ان بدری صحابہؓ کی مخالفت کی جو تم سے بہتر تھے، میں نے تمہیں اس لیے منتخب کیا تھا کہ تم میری طرف سے دفاع کرو گے اور میرے عہد کو نافذ کرو گے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بھی اسی (خامی) میں لت پت ہو جس میں میں لت پت ہوں، اگر میں تم کو عہدہ سے برطرف کرتا ہوں تو یہ بھی اچھی بات نہیں ہے، تم نے عبدالرحمن کو اپنے گھر میں مارا جب کہ جانتے ہو کہ یہ میرے مزاج و عہد کے خلاف ہے، عبدالرحمن تمہاری رعایا کا ایک فرد ہے، جو کچھ تم دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہو وہی اس کے ساتھ کرو۔ لیکن تم نے کہا کہ یہ امیر المؤمنین کے صاحبزادے ہیں۔ تمہیں معلوم ہے کہ اگر میرے نزدیک کسی پر اللہ کا حق واجب ہے تو اس میں اس کے لیے کوئی مروت و رعایت نہیں، لہٰذا جب تم کو یہ خط ملے تو اسے (عبدالرحمن کو) پالان پر رکھے ہوئے کپڑے کا چوغا پہنا کر روانہ کرو تاکہ اس کی سزا کو لوگ جان سکیں۔‘‘ 

(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 147) 

پھر انہیں مدینہ لایا گیا اور کھلے عام ان پر حد جاری کی گئی۔

ابنِ سعدؓ نے اس واقعہ کو روایت کیا ہے اور ابنِ زبیر نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ نیز عبدالرزاق نے بسند صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے پورا واقعہ تفصیل سے لکھا ہے۔ 

(الخلفاء الراشدون: صفحہ 243)

 اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ شریعت میں عدل و مساوات کا کتنا اعلیٰ مقام ہے، امیر المؤمنین کا لڑکا مجرم ہے، لیکن وقت کا گورنر اس کی سزا معاف نہیں کرتا اور جب حضرت عمر فاروقؓ کو خبر پہنچتی ہے کہ ان کے لڑکے کے ساتھ رعایت کی گئی ہے تو اسے سخت سزا دی اور اس کے ذمہ دار کو جو فاتحِ مصر تھے سخت ترین ڈانٹ پلائی اور لڑکا جس سزا کا مستحق تھا اسے نافذ کرایا۔ بلاشبہ یہ سب کارروائیاں حدودِ الہٰیہ کی حفاظت اور اپنے لڑکے کی اصلاح و درستگی کی خواہش پر مبنی تھیں، جب اپنی قریب ترین اولاد کے لیے آپؓ کا یہ رویہ تھا تو پھر دوسروں کے بارے میں آپؓ کیا سوچ سکتے ہیں۔

(نظام الحکم فی الشریعۃ الإسلامیۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 88 )

6۔ عدل و مساوات کی تاریخ میں ایک اہم ترین مثال جبلہ بن ایہم کے ساتھ عمر بن خطابؓ کا وہ واقعہ بھی ہے جسے مؤرخین حضرات مساوات کی تنفیذ میں عدم مروت کے باب میں ذکر کرتے ہیں۔ واقعہ کی تفصیل یہ ہے:

جبلہ، ہرقل کی جانب سے بنو غسان کا آخری حکمران تھا اور غسانی لوگ رومی سلطنت کی ماتحتی میں شام میں رہتے تھے اور شاہ روم غسانیوں کو ہمیشہ جزیرہ عرب کے باشندوں خاص طور پر مسلمانوں سے جنگ کرنے پر ابھارتا رہتا تھا لیکن جب اسلامی فتوحات کی سرحدیں وسیع ہو گئیں اور رومیوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں پے درپے ہزیمتیں اٹھائیں تو شام میں بسنے والے عرب قبیلوں نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنا شروع کر دیا، غسانی حکمران نے بھی اسلام قبول کر لیا، نیز اس کے ساتھ اس کے دوسرے ساتھی بھی اسلام لے آئے، پھر اس نے حضرت عمر فاروقؓ سے مدینہ آنے کی اجازت مانگی، حضرت عمرؓ کو اس کے قبولِ اسلام اور مدینہ آنے کی خبر سن کر بہت خوشی ہوئی، چنانچہ وہ مدینہ آیا، اور لمبی مدت تک وہاں قیام کیا حضرت عمرؓ اس کی دیکھ بھال کرتے رہے اور اسے مبارک باد دیتے رہے ایک مرتبہ وہ غسانی حج کے لیے گیا، اتفاق سے طوافِ کعبہ کے دوران بنو فزارہ کے ایک آدمی کے پاؤں سے اس کا ازار دب گیا اور پھر کھل کر نیچے گر گیا، غسانی حکمران اس پر غصے ہو گیا چونکہ وہ ابھی نو مسلم تھا اور فزاری کو زور دار تھپڑ مارا، جس سے اس کی ناک ٹوٹ گئی، فزاری بھاگتے ہوئے اپنی مصیبت کی شکایت لے کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپؓ نے جبلہ کو بلوایا اور اس سے پوچھا اس نے جو کچھ ہوا تھا اس کا اقرار کیا۔

سیّدنا عمرؓ نے فرمایا: اے جبلہ! تم نے اپنے اس بھائی پر کیوں ظلم کیا اور اس کی ناک کیوں توڑی؟

غسانی نے جواب دیا کہ میں نے تو اس گنوار کے ساتھ بڑی نرمی کی ہے، اگر خانہ کعبہ کی حرمت و تقدس کا لحاظ نہ ہوتا تو میں اس کی آنکھیں نکال دیتا۔

سیدنا عمرؓ نے اس سے فرمایا: تم نے اقرار کر لیا ہے، اب یا تو تم اس آدمی کو راضی کر لو ورنہ میں اس کو تم سے بدلہ دلواؤں گا۔

جبلہ بن ایہم یہ سب دیکھ کر مزید دہشت میں پڑ گیا اور کہنے لگا: یہ کیسے ہو سکتا ہے، وہ ایک عام آدمی اور میں ایک بادشاہ؟

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسلام نے تم دونوں کو برابر کر دیا ہے۔

غسانی نے کہا: میں نے سوچا تھا کہ جاہلیت کے مقابلہ میں اسلام میں زیادہ معزز ہو کر رہوں گا۔

آپؓ نے فرمایا: یہ سب چھوڑو، اگر تم اس آدمی کو راضی نہیں کر لیتے تو اس کو تم سے بدلہ دلواؤں گا۔

جبلہ نے کہا: تب تو میں نصرانی ہی ہو جاتا ہوں۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر تم نصرانی ہو جاتے ہو تو میں تم کو قتل کروں گا، کیونکہ تم اسلام لا چکے ہو، لہٰذا اگر مرتد ہوئے تو تمہیں قتل ہی کروں گا۔ 

(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 235) 

اب جبلہ کو یقین ہوچکا تھا کہ جھگڑنے سے کوئی فائدہ نہیں اور حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ حیلہ بہانہ کرنا کچھ بھی سود مند نہیں ہے، اس لیے اس نے حضرت عمر فاروقؓ سے مہلت مانگی تاکہ اس معاملہ میں کچھ غور کر لے۔ سیدنا عمرؓ نے اسے جانے اور سوچنے کا موقع دے دیا۔ جبلہ نے غور و فکر کے بعد ایک فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ بھی ایسا جس میں وہ غلطی ہی پر تھا اس نے فیصلہ کیا کہ رات کی تاریکی میں اپنی قوم کے ساتھ مکہ چھوڑ کر قسطنطنیہ بھاگ نکلے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور (قسطنطنیہ) نصرانی بن کر پہنچا، لیکن بعد میں اپنے اس فیصلہ پر وہ بہت شرم سار ہوا اور اس واقعہ کو بہترین اشعار میں بیان کیا، جسے تاریخ برابر دہراتی اور نقل کرتی ہے۔

صفحہ 4 از 5