عدل و مساوات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عدل و مساوات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

اس واقعہ میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شریعت کے مبدأ مساوات کی حفاظت کے کتنے حریص تھے۔ یقیناً اسلام نے حاکم اور رعایا کے درمیان مساوات قائم کی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مساوات کی مثالیں عملی شکل میں زندہ جاوید رہیں نہ کہ زبان، تحریر اور اشعار تک اس کا نعرہ محدود رہے کہ جسے صرف زبانیں گنگناتی رہیں۔ 

(ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 281، بحوالہ نظام الحکم: القاسمی: جلد 1 صفحہ 90 )

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیّدنا عمرؓ نے مساوات کے ان اصولوں کو نافذ کیا جنہیں ربّ العالمین کی شریعت میں ذکر کیا گیا ہے۔ آپؓ نے اس کی زندہ و پائندہ مثالیں قائم کیں جو لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو گئیں، آپؓ شفقت پدری کے آگے نہ جھکے، بھاری بھرکم القاب سے خائف ہو کر اپنے فیصلوں سے نہیں پلٹے اور نہ کسی کی تبدیلی مذہب یا فاتح ملک کی آن بان نے آپؓ کو مرعوب کیا مساوات کا عظیم اصول آپؓ کے نزدیک حقیقی شکل میں موجود اور زندہ تھا، اسے حاکم و محکوم اور ہر مقہور و مظلوم نے محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ خلافتِ راشدہ کے مسلم معاشرہ میں مساوات کے اصولوں کی تنفیذ کا بہترین ثمرہ ملا اور احساس مساوات کے اصولوں کی تنفیذ کا بہترین ثمرہ ملا اور احساس مساوات نے اس دور کے لوگوں پر بہت اچھا اثر چھوڑا، انہوں نے اعزاز و برتری، سرداری اور اولیت کے دعوؤں کی زمانے سے چلی آرہی عصبیت کو پھینک دیا اور جاہلیت پر مبنی حسب و نسب کی تفریق کو مٹا دیا۔ کسی بھی اعلیٰ منصب پر فائز آدمی نے ادنیٰ درجہ کے آدمی پر ظلم کرنے کو نہ سوچا، نہ کوئی کمزور اپنا حق پانے سے مایوس رہا۔ حقوق و واجبات میں سب برابر رہے، خلافتِ راشدہ کے مسلم معاشرہ میں مساوات کے اصول نئی روشنی بن کر چمکے جس سے اسلام نے اسلامی معاشرہ کے چپے چپے کو روشن کر دیا، یقیناً صالح معاشرہ کے وجود میں مساوات کے اصولوں کا زبردست اثر تھا۔


صفحہ 5 از 5