Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ قادسیہ

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ اہل فارس بڑے زور شور سے لڑائی کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں اور عراقی مسلمانوں کی مختصر سی باقی ماندہ فوج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں تو جبری فوجی بھرتی کا حکم دیا اور حالات کا تقاضا بھی یہی تھا۔ آپ نے حضرت مثنیٰؓ کو حکم دیا کہ تمام قبائل میں جو مرد میدان میں ہوں اور لڑنے کی طاقت رکھتے ہوں انہیں فوج میں بھرتی کریں، وہ اس کے لیے راضی ہوں یا نہ ہوں، اس عمل کو جبری فوجی بھرتی کہا جاتا ہے جسے اسلام میں سب سے پہلے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انجام دیا۔ اس واقعہ سے کتاب ’’العسکریۃ الاسلامیۃ‘‘ کے مؤلف محمد فرج کی اس تحقیق کی تردید ہو جاتی ہے جن کا کہنا ہے کہ جبری فوجی بھرتی اموی دور حکومت کی ایجاد ہے۔ مذکورہ واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ فوجی بھرتی کے اس نظام کو سب سے پہلے حضرت عمر فاروقؓ نے نافذ کیا اور جوں ہی حضرت مثنیٰؓ کے نام امیر المؤمنین کا جبری فوجی بھرتی سے متعلق خط پہنچا انہوں نے فوراً اسے نافذ کیا۔ فوجی نقل و حرکت کا جو نقشہ حضرت عمرؓ نے کھینچا تھا اسی کے مطابق اپنا قدم آگے بڑھایا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے تمام گورنروں اور افسروں کے پاس کارندے بھیج کر انہیں حکم دیا کہ ہر اس شخص کو جو مرد میدان ہو، جس کے پاس ہتھیار ہو، جس کے پاس گھوڑا ہو یا وہ جنگی بصیرت کا مالک ہو منتخب کر لو اور جلد از جلد میرے پاس بھیج دو اور لوگوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کرو اور انہیں میرے پاس بھیجتے رہو تاکہ انہیں عراق کے محاذ پر بھیج سکوں۔

(إتمام الوفاء: صفحہ 80) یزدگرد کے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد بلاد فارس کے باشندوں کے مؤقف میں کئی تبدیلیاں آ گئیں۔ اندرون ملک اقتدار میں استقرار و پختگی پیدا ہو گئی اور سب اپنے اندرونی اختلافات کو بھلا کر یزدگرد کی حکومت پر متحد و متفق ہو گئے۔ حکومت فارس کو بھی اطمینان نصیب ہوا، عوام نے حکومت کے دست و بازو کو مضبوط کیا، رؤسائے فارس نے بڑھ چڑھ کر اس کی مدد اور اطاعت کی۔

 عام فوجی بھرتی شروع ہوئی، جدید شکل میں کیل کانٹے سے لیس ہوئے اور مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں میں جماعتوں کی شکل میں انہیں پھیلا دیا گیا۔

 عراقی باشندوں کو بھڑکایا گیا اور مسلمانوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا گیا۔ نتیجتاً ذمی کسانوں نے عہد و پیمان کو توڑ دیا اور فارسی فوج کے ساتھ ہو لیے۔

(حرکۃ الفتح الإسلامی: صفحہ 80) جب باشندگان عراق کے مؤقف میں یہ تبدیلی آئی تو مجبوراً مسلمانوں کو بھی اپنا مؤقف بدلنا پڑا اور بالآخر یہ ہوا کہ:

 انخلاء: حضرت مثنیٰؓ اور دوسرے مسلم قائدین کا اپنے مفتوحہ علاقوں کو عجمیان چھوڑ کر عراق کے درمیان سے باہر آ جانا۔

 واپس پلٹنا: عرب و فارس کی سرحد پر آبی علاقوں کی طرف پلٹ کر وہاں پڑاؤ ڈالنا پڑا، مثنیٰؓ نے ’’ذی قار‘‘ میں قیام کیا اور لوگوں نے ’’حلف‘‘ میں، وہاں پہنچ کر فوجی دستے تیار کیے گئے۔ ان میں سے ہر دستہ دوسرے پر نگاہ رکھتا تھا اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتا تھا۔

 جب اہل فارس نے جبری فوجی بھرتی کا سلسلہ شروع کیا تو مسلمانوں نے بھی ان کے بالمقابل جبری فوجی بھرتی کا سلسلہ شروع کیا۔

(حرکۃ الفتح الإسلامی: صفحہ 80)