افہام و تفہیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

افہام و تفہیم

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 1 از 6

افہام و تفہیم

میری علمی اور مناظرہ ذندگی میں ایسے واقعات پیش آتے رہے کہ قرآن کریم کے متعلق شیعہ کی طرف سے سوالات پیش کئے جاتے رہے خواہ وہ سوال طلب حق کی غرض سے ہوں یا محض ذہنی کشتی مقصود ہو مگر ان کے جوابات خاصا علمی ذخیرہ ہیں لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایسے چند سوالات اور ان کے جوابات پیش کر دیئے جائیں ۔

سوال نمبر 1

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے اہل بیت اور قرآن سے تمام کرنا یہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے حتی کہ حوض کوثر پر آکر ہمارے پیش ہوں گے

فانهما لن يتفرقاحتى يردا •على الحوض الكوثر

جواب

اس حدیث میں تین الفاظ قابل غور ہیں۔اول تمسک دوم قرآن سوم اہل بیت۔ اہل بیت کی ترکیب کا مفہوم خود شیعہ کے ہاں بڑا پہلو دار ہے،بہرحال جس پر ذیادہ تر اعتماد کیا جاتا ہے وہ آئمہ شیعہ ہیں۔

تمسک کا لفظ اپنے دینی مفہوم کے اعتبار سے ایمان اور عمل سے عبارت ہے یعنی تمسک سے مراد یہ ہے کہ اس کے حق ہونے سے پریقین ہو اور اس کی تعلیمات کے مطابق عملی زندگی ہو۔

قرآن کا مفہوم شیعہ کے نزدیک وہ کتاب ہے جو اماموں کے بغیر کسی کو دیکھنا نصیب نہ ہوئی اور یکے بعد دیگرے ائمہ کو بطور میراث پہنچتی رہی اور آئمہ نے اس کی ایسی حفاظت کی کہ اس ہوا بھی نہ لگنے دی اور شیعہ کے علاوہ جو لوگ اسلام کو دین حق سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک قرآن کا مفہوم وہ کتاب ہے جو بنی کریمﷺ پر انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی اور حضورﷺ نے اس کا ایک ایک لفظ صحابہ تک پہنچایا، اور اس کی حفاظت کا یہ اہتمام کیا گیا کہ صدیاں گزرنے کے باوجود اس کا ایک حرف بلکہ ایک شوشا تک نہیں بدلا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ کے اہل بیت نے کس قرآن کے ساتھ تمسک کیا اگر پوشیدہ قرآن کے ساتھ تمسک کیا تو اس کا ثبوت کیا ہے؛ جب وہ قرآن ہی میں موجود نہیں تو اس کے ساتھ تمسک کا کیا مطلب، اور اگر کہا جائے کہ ائمہ نے اسی پوشیدہ قرآن کے ساتھ تمسک کیا تو ان کی زندگی کا ہر کام اس کے موجودہ قرآن سے مختلف بلکہ الٹا ہونا چاہیے، کیونکہ گذشتہ ابواب میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ شیعہ کے نزدیک کہ موجودہ قرآن میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیا گیا ہے اور اگر ائمہ نے موجودہ قرآن کے ساتھ تمسک کیا تو انہوں نے اپنے عقیدے کے مطابق اصل قرآن کو چھوڑ دیا ،لہذا قرآن اور اہل بیت میں جدائی تو ہو گی۔تمسک کا معاملہ بڑا ٹیڑھا نظر آتا ہے کہ عمل کرنے کے لیے اصل قرآن نہیں اور جو قرآن موجود ہے اس پر عمل کرنا قرآن سے تمسک نہیں بنتا یہاں تو تمسک میں بھی تفریق ہو گئی۔ ایمان پوشیدہ قرآن پر اور عمل موجود قرآن پر یعنی اہل بیت نے دونوں قرآنوں سے یہی علیحدگی اختیار کر لی ۔ حوض کا وقت تو ابھی بڑا دور ہے۔

یہ دعویٰ کہ اہل بیت اور قرآن جدا نہ ہوں گے اس کے دلائل شیعہ کتب سے پیش خدمت ہیں ۔

1_ ابان بن تعذب امام جعفر سے روایت کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا ہمارے والد امام باقر جو امیّہ کر زمانے میں فتوی دیا کرتے تھے کہ باز اور شاہین جس جانور کو قتل کریں وہ حلال ہیں آپ کا فتوی تقیّہ سے تھا، مجھے بنو امیّہ کا خوف نہیں میں کہتا ہوں وہ حرام ہیں (فروغ کافی جلد دوم کتاب الصید)

امام باقر اہل بیت سے ہیں اور قرآن اور اہل بیت کبھی جدا نہ ہوں گے لہٰذا انہوں نے ایک چیز کو حلال قرار دیا تو لازماً کتاب اللّٰہ سے اخذ کیا ہو گا اور عمر بھر انہیں حرام کھلاتے رہے جنہیں اہل بیت سے تمسک کا حکم ہے اور وہ بھی صرف اس بنا پر کہ بنو امیّہ کا موہوم خوف تھا۔ امام جعفر کو چونکہ خوف نہ تھا اس لیے حقیقت بتا دی کہ میرے باپ نے جسے حلال کہا تھا وہ حقیقت میں حرام ہے باپ بیٹے میں لازماً کسی ایک نے قرآن کے خلاف کیا ، لہذا قرآن سے کبھی جدا نہ ہوں گئے والی بات تو ختم کو گئی۔ معلوم ہوا کہ حرام و حلال کا معیار قرآن نہیں بلکہ کوئی وہمی خطرہ ہے پھر یہ ہے کہ باپ نے تو تقیہ کیا تو بیٹے کے متعلق کیا ضمانت ہے کہ تقیہ نہ کرے ، پھر کسی مسئلہ کے متعلق بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ حق ہے یہ باطل ہے اب فیصلہ طلب بات یہ ہے کہ باپ اور بیٹے میں سے کسی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ اور قرآن جدا نہ ہوئے۔

زرارہ بن اعین کہتے ہیں کہ میں نے امام باقر سے مسئلہ پوچھا آپ نے جواب دیا پھر ایک شخص آیا اس نے وہی سوال کیا ، آپ نے پہلے جواب سے مختلف دیا پھر تیسرا شخص آیا اس نے وہی بات پوچھی اور ایسا جواب پایا جو ہم دونوں سے مختلف تھا۔ جب وہ دونوں چلے گئے تو میں نے عرض کیا اے ابن رسول وہ شخص عراق کے باشندے سے آپ کے قدیمی شیعہ آپ سے مسئلہ پوچھتے ہیں اور آپ ان دونوں کو مختلف جواب دیتے ہیں؟ فرمایا یہی بہتر ہے اور ہمارے اور تمہارے بچاؤ کا باعث ہے۔ میں نے پھر آپ کے صاحبزادے امام جعفر صادق سے عرض کیا کہ آپ کے شیعہ جن کو آپ کے نیزے کی نوک پر یا آگ کے شعلوں میں دھکیل دیں تو تامل نہ کریں وہ آپ کے پاس سے مختلف عقیدے لے کر نکلتے ہیں تو آپ نے وہی جواب دیا جو آپ کے والد نے دیا تھا۔

(کافی : کتاب العلم باب اختلاف الحدیث )

اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن اہل بیت سے تمسک کرنے کا حکم ہے اور جن کے متعلق کیا گیا ہے کہ وہ اور قرآن جدا نہ ہوں گے ان کے پیش نظر تو صرف اپنا بچاؤ لڑنا تھا حقیقی دیں سکھانا یا صحیح عقیدہ بتانا ان کے پروگرام سے خارج تھا۔

عن ابى عبدالله قال انى اتكلم على سبعين وجها. لى فى كلها المخرج وايضا عن ابى بصير قال سمعت ابا عبدالله انى اتكلم با لکلمتہ الواحد لها سبعون وجها ان شئت اخفت کذاوان شئت اخذت کذا۔واساس الاھوال ص 25

امام جعفر نے فرمایا میں ایسی گفتگو کرتا ہوں جس کے ستر پہلو نکل سکتے ہیں اور ہر پہلو میں میرے لیے نکلنے کا راستہ ہوتا ہے نیز ابو بصیر سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر سے سنا فرماتے تھے میں ایسی بات لیتا ہوں جس کے ستر معنی نکل سکتے ہیں تو اس کا مفہوم یہ لوں ، چاہوں تو وہ لوں۔

صفحہ 1 از 6