افہام و تفہیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

افہام و تفہیم

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 6

اب کوئی خدا لگتی کہے کہ اس قسم کے ثقل سے کوئی بات حاصل کی جا سکتی ہے اس لیے اگر کوئی تمسک کرے تو اس کو حق کیسے معلوم ہوسکے گا کیا ہادی اور ہادی بھی ایسا جسے ثقل دوم کہا گیا ہو کے لیے ضروری ہے کہ صاف اور حق بات کبھی نہ کہے ، ہمیشہ پہلو وار کلام کرے جب اس کے سامنے مقصد یہ ہو کہ بات ایسی کروں کہ کوئی گرفت کرے تو نکل سکوں تو اس ہادی سے تمسک کرنے والوں پر کیا بیٹے گی۔ جب بات کے شر پہلو ہوں تو خود امام کا عقیدہ اور مذہب یقینی طور کون معلوم کر سکتا ہے بلکہ اس سے تو ظاہر ہے کہ امام کا کوئی مذہب ثابت نہیں ہو سکتا ۔

عن الى عبد الله عليه السلام قال جاء رجل منها أنظر اليه ابو عبد الله قال انا والله لا ضلت انا والله لادهمند مجلس الرجل فسئله مسئلة فافتاه فلما خرج قال ابو عبد الله لقد افتيته بالضلالة التى لا هداية فيها .

( مختصر بصائر الدرجات ص194)

ایک آدمی امام جعفر کے پاس آیا ، امام نے اسے دیکھ کر فرمایا خدا کی قسم میں اسے ضرور گمراہ کروں گا، میں اسے ضرور وہم میں ڈالوں گا۔ وہ بیٹھا مسئلہ پوچھا، امام نے فتوی دیا اور چلا گیا تو فرمایا میں نے اسے گمراہ کرنے والا فتوی دیا ہے ۔ میرے فتوے میں مطلق کوئی ہدایت نہیں_____ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حضورﷺ نے اسی اہل بیت سے تمسک کرنے کی وصیت فرمائی تھی، اگر یہی ہے تو وہاں سے تو اعلان ہو رہا ہے کہ ہمارے پاس مطلق ہدایت نہیں تو کیا حضورﷺ نے گمراہی کے لیے تمسک کرنے کی ہدایت فرمانی تھی۔ اہل بیت کے علوم بیان کرتے ہوئے اصول کافی میں ابو بصیر کی طویل روایت بیان کی گئی ہے کہ امام کے پاس قرآن کے علاوہ مصحف فاطمہ، چمڑے کا تھیلا وغیرہ بھی ہوتا ہے اور مصحف فاطمہ کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔

قال مصحف مثل قرأ نكم ھذا ثلاث مرات والله ما فيه عن قرأنكم حرف واحد

مصحف وہ ہے جس میں تمہارے قرآن سے تین گناہ ہے خدا کی قسم اس میں تمہارے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہے ۔

لیجئے اللہ کی کتاب مصحف فاطمہ کا ایک تہائی ہے مگر قرآن سے تمسک کی وصیت تو حضورﷺ نے فرمائی تھی اس نئے ذخیرہ سے تمسک کا حکم کا نے دیا اور یہ کہاں سے آگیا پھر ایسے ضخیم سرمایہ کے ہوتے ہوئے قرآن کی ضرورت ہی کیا رہ گئی۔

یہ چند مثالیں تو مشتے نمونہ ازخروارے ہے۔اہل بیت سے تمسک کرنے والوں کے لٹریچر میں اہل بیت کی سیرت وکردار کا وہ نقشہ کھینچا گیا ہے کہ خدا کی پناہ ،جہاں اتنے پیچ پڑے ہوں وہاں اس سے تمسک کی عملی صورت کوئی دانشور بنا سکے تو یہ عظیم ریسرچ ہو گی۔

سوال نمبر 2

اگر قرآن کو محرف مان لیا جائے تو بھی ایمان میں خلل نہیں آتا جیسے توریت اور انجیل محرف ہیں لیکن ہمارا ان پر ایمان ہے

الجواب

قرآن کو موجودہ توریت اور انجیل پر قیاس کرنا مع الفارق ہے بلکہ قیاس خاسد ہے۔ ہمارا ایمان اور موجودہ توریت محرف پر نہیں بلکہ ایمان اس پر ہے کہ توریت اور انجیل نام کی کتابیں ہیں جو اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں وہ بر حق تھیں مگر شیعہ کا ایمان نزول قرآن پر بھی نہیں ہو سکتا ،کیونکہ شیعہ لوگ قرآن کے نزول کے عینی شاہدوں ناقلین قرآن کی جماعت کو جھوٹاب ہی نہیں بلکہ ایمان سے محروم قرار دے چکے ہیں جس کی تفصیل گذر چکی ہے۔پھر قرآن کے نزول پر ایمان کیونکر ہوسکتا ہے۔ہاں توریت اور انجیل کے نزول کی شہادت خود قرآن دیتا ہے اور قرآن کے نزول کی شہادت صحابہ رضی اللّٰہ عنہم دیتے ہیں، گویا توریت وانجیل کے نزول کے شاہد بھی صحابہ رضی اللّٰہ عنہم ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ سابقہ کتب الٰہی پر صرف ایمان لانا ضروری ہے مگر قرآن پر ایمان لانے کے ساتھ عمل کرنا بھی ضروری ہے۔شیعہ کا نہ تو قرآن پر ایمان ہے نہ اس پر عمل ہے۔

سوال نمبر 3:

ہماری تحریف کی روایات کی تاویل ہو سکتی ہے کہ ان کا تعلق اختلاف قراءت سے ہے ۔

الجواب

یہ سوال مذہب شیعہ اور اقوال ائمہ سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔ائمہ تو اختلاف قراءت کے منکر ہیں اور ائمہ کا یہ کہنا کہ قرآن منزل 18 ہزار آیت کا تھا اور قرآن موجودہ 6232 آیت اختلاف قراءت کا جا سکتا ہے یا اختصار قراءت مجتہد لکھنوی نے تاویل یوں کی ہے کہ جن روایتوں میں آتا ہے ھذہ الایتہ ھذا انزلت ان میں رسول کی گنجائش ہےکہ تفسیر ھذہ الایتہ ھکذا انزلت یعنی اس آیت کی تفسیر یوں نازل ہوئی تھی۔

مجتہد صاحب کی یہ تاویل کئی وجوہ سے باطل ہے۔

1_شیعہ کا اقرار موجود ہے کہ روایات تحریف قرآن تحریف پر صاف ہے اور بصراحت دلالت کرتی ہیں۔لہذا صراحت کے اقرار کے ساتھ تاویل کا اقدام ہی حرام ہے یہاں "ہو سکتی" ہے کا احتمال کہاں۔

2_ علامہ نوری نے فصل الخطاب 104 پر تصریح کر دی ہے کہ تحریف سے مراد تحریف لفظی ہے۔

ان الظاھر من التحريف تحريف اللفظ لا المعنى قلت حمل التحريف على المعنوى فيه قد مر فسادبما مزيد عليه وحمل الاسقاط على اسقاط التاويل اوضح منه.

ظاہر ہے تحریف سے مراد تحریف لفظی ہے معنوی نہیں اور تحریف کو تحت معنوی پو محمول کرنا فاسد ہے جیسا کہ گذر چکا ہے اور اسقاط سے اسقاط تاویل مراد لینا اس سے بھی ذیادہ فاسد ہے۔

3_ تفسیر قرآن الفاظ کی صورت میں نازل نہیں ہوتی تھی بلکہ معانی کی صورت میں حضور اکرمﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوتی تھی ان معانی کو نبی کریمﷺ اپنے الفاظ میں بیان فرماتے تھے اور اس کو حدیث کہتے ہیں یعنی قران کا متن اور اس کی تفسیر دونوں منزل من اللّٰه میں فرق یہ ہے کہ متن بصورت الفاظ نازل ہوا تھا اور تفسیر بصورت معنی نازل ہوئی جس کو حضور اکرمﷺ اپنے الفاظ بیان فرماتے متن کا نام قران ہے اور تفسیر کا نام حدیث ہے تفسیر کو قرآن نہیں کہتے اور اس تفسیر قرآن میں صرف حضورﷺ کے الفاظ ہی نہیں بلکہ اپ کا قول فعل اور تقریر اور صحابی کا قول فعل اور تقریر سب شامل ہیں۔قال تعالی ولا قد یسرنا لسانک۔یعنی ہم نے آپ کی زبان سے قرآن کو اسان کر دیا۔لسانک سے مراد حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو قران کی نبوی تفسیر ہے۔

سوال شیعہ نمبر 4:

تحریف سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آیات کا محمل بدل دیا جائے مقدم کو موخر کر دیا جائے اور مؤخر کو مقدم کر دیا جائے۔

الجواب:

صفحہ 2 از 6