افہام و تفہیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

افہام و تفہیم

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 3 از 6

تقدیم تاخیر کے لیے تحریف کی اصطلاح استعمال کرنا ایجاد بندہ ہے اس کا زیادہ سے زیادہ تغیر ترتیب کہا جا سکتا ہے جس سے خبط ربط ہو سکتا ہے اور تقدیم و تاخیر بھی مراد الہیئ کو خراب کر دیتی ہے لہٰذا تخریت کا نام تقدیم و تاخیر بھی رکھ دیا جائے تو شیعہ کا مسئلہ جوں کا توں الجھا ہی رہے گا۔ چنانچہ علامہ نوری نے فصل الخطاب ص120پر فرمایا

فمن تقدم سورۃ لا او تأخر فقد افسد نظيم القرآن

جس نے سورۃ قرآن کو آگے پیچھے کر دیا اس نے نظم قرآن کو فاسد کر دیا

پھر ص 270

افمن كان على بينة من ربه یعنی رسول الله ویتلوه شاهد منه وصيه اماما ورحمة ومن قبله کتاب موسی اولئك یومنون به فحرموها و قالوا افمن كان على بينة من ربه و يتلوه شاهد منہ ومن قبله كتاب موسی اماما ورحمتہ فقد مواحرفا علی حرف فذهب معنى الآية

پس جو شخص واضح راہ پر ہے اپنے رب سے یعنی رسول کریم شاہد سے امام مراد ہے جو وصی رسول کا اس سے پہلے کتاب موسیٰ رحمت تھی وہ لوگ اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں۔ مگر قرآن میں صحابہ نے تحریف کر دی ۔ایک حرف کو آگے پیچھے کر دیا پس آیت کا معنی بدل دیا گیا۔

یعنی لفظ امام لفظ منہ کے ساتھ تھا مگر صحابہ نے امام کو موخر کر کے صفت کتاب موسیٰ کا بنا دیا یعنی لفظ امام کو موخر کر کے آیت کا معنی فاسد کر دیا، لہٰذا ثابت ہو گیا کہ تقدیم تاخیر سے مراد الٰہی بدل جاتی ہے۔ تحریف سے تقدیم تاخیر مراد لینے کی پناہ گاہ بے کار ثابت ہوئی لفظ تحریف استعمال کر دیا اصطلاح تقدیم تاخیر اپنا لو نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے اور وہ یہ کہ شیعہ تحریف قرآن کے بہر صورت قائل ہیں محض لیبل بدلنے سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔

سوال شیعہ نمبر: 5

قرآن کے محرف ہونے کے باوجود ہمارا ایمان قرآن پر موجود ہے۔ تحریف کا گناہ صحابہ پر ہے۔

الجواب 

قرآن کے محرف ہونے پر بھی قرآن پر ایمان ہے، کا مطلب یہ ہوا کہ شیعہ کا پختہ ایمان ہے کہ یہ قرآن وہ نہیں جو اللّٰه تعالیٰ نے محمد رسول اللّٰہ پر نازل کیا تھا۔ اب کوئی پوچھے کہ اس ایمان اور کفر میں فرق کیا ہے، بہر حال اس سوال سے آپ نے اس حقیقت کا اظہار کر دیا کہ آپ قرآن کے محرف ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ تحریف قرآن کے گناہ کا ارتکاب صحابہ نے کیا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ صحابہ میں کون کونسے حضرات اس فعل میں سر فہرست آتے ہیں ۔ آپ نے تو یہاں تک تسلیم کرلیا کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ وغیرہ وہی قرآن لکھتے جو مسجد نبوی میں نازل ہوتا تھا اور گھر میں نازل ہونے والا قرآن حضرت علی کے بغیر کوئی نہ لکھتا تھا تو حفاظت قرآن کی ذمہ داری بھی سب سے زیادہ حضرت علی پر آتی ہے۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ حضرت علی بحکم الٰہی نبی کریمﷺ کے وصی اور خلیفہ بلا فصل تھے۔

دیکھنا یہ ہے کہ خلیفہ یا نائب کا منصب کس امر کا تقاضا کرتا ہے ، جو ڈیوٹی اصل حاکم کی ہوتی ہے وہی فرائض خلیفہ کو ادا کرنے ہوتے ہیں۔ خلیفہ بلا فصل کے سامنے تحریف قرآن ہوتی رہی اور وہ دیکھتے رہے کیا خلافت کا تقاضا یہی تھا ؟ کیا نبی کریمﷺ اپنی حیات طیبہ میں یہی کام کرتے رہے جو حضرت علی نے کیا۔ آپ یہی کہیں گئے کہ حضرت علی کمزور تھے۔

اصحاب ثلاثہ کے سامنے ان کا بس نہیں چلتا تھا مگر کمزوری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے جب حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ عملاً خلیفہ بنے اس وقت کس کا ڈر تھا کہ اصل قرآن غیر محرف کو رائج نہ کیا اور محرف ان کو درست نہ کیا اگر حضرت علی ایسے ہی کمزور تھے کہ نہ خلفائے ثلاثہ کے عہد میں دین کو بگڑنے سے بچا سکے نہ اپنے عہد حکومت میں بگڑے ہوئے دین کی اصلاح کر سکے تو انہیں خلیفہ بلا فصل اور وصی بنانے کا مقصد کیا تھا جو خلیفہ نہ سنت رسولﷺ جاری کر سکے نہ قرآن درست کر سکے نہ اصل قرآن رائج کر سکے نہ جہاد کر سکے اسے خلیفہ مقرر کرنے سے فرض کیا ہو سکتی ہے۔ یہی کہا جا سکتا ہے کہ مقرر کرنے والے رسول کریمﷺ ہیں اور آپ نے بحکم الٰہی حضرت علی کو خلیفہ اور وصی مقرر کیا، پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا کو علم نہیں تھا کہ حضرت علی اتنے کمزور ہیں کہ وزیر ہوں یا امیر کسی حال میں بھی نیابت کا حق ادا نہیں کر سکیں گے آخری جواب یہی بن سکتا ہے کہ خدا کو بدا ہو گیا، انجام کار نہ سوچ سکا اور حضرت علی کو خلیفہ بلا فصل بنا دیا۔ یہ جواب ایسا ہے کہ بس لا جواب ہے ۔

سوال شیعہ نمبر 6 :

مولوی اسماعیل شیعہ نے کہا تھا کہ قرآن ہمیں تواتر طبقاتی سے ملا ہے اور تحریف قرآن کا عقیدہ شیعہ روایات سے بلاشبہ تواتر سے ثابت ہے مگر یہ تواتر معنوی ہے اور تواتر معنوی کا مقابلہ تواتر طبقاتی سے نہیں ہو سکتا، کیونکہ تواتر طبقاتی اعلیٰ قسم ہے اور تواتر معنوی ادنی لہٰذا حکم تواتر طبقاتی پر ہوگا۔

الجواب :

پہلی بات یہ ہے کہ آپ نے تسلیم کر لیا کہ قرآن کا محرف ہونا تواتر سے ثابت ہے۔ رہی بات تواتر مغوی اور طبقاتی کی تو آپ اپنے ائمہ معصومین سے تواتر طبقاتی کی کوئی روایت دکھائیں ۔ ائمہ سے عدم تحریف کی ایک صحیح روایت دکھا دیں میں ترک مذہب کی شرط پر یہ چیلینج کرتا ہوں ۔ کتب شیعہ میں چار قسم کے تواتر کا کہیں وجود ہی نہیں پایا جاتا۔

مولوی صاحب :- آپ نے فتح الملہم سے کہیں تواتر طبقاتی کا لفظ دیکھ لیا ۔ حضرت انور شاہ رحمۃ اللّٰہ نے چار قسم کا تواتر لکھا ہے تواتر روایات، تواتر توارث ، تواتر طبقاتی اور تواتر معنوی مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے ان چار قسموں کے تواتر کا انکار کفر ہے۔

مولوی صاحب:

آپ نے سوال کیا کیا خود اپنی زبان سے اپنے آپ پر شیعہ پر کفر کا فتویٰ صادر کر دیا کہ شیعہ تواتر معنوی سے تحریف قرآن کے قائل ہیں۔

سوال شیعہ نمبر7 

سنیوں کی کتابوں میں بھی روایات تحریف قرآن موجود ہیں ۔ یہ سوال ایسا ہے کہ شیعہ کو اس پر ناز ہے چنانچہ مولوی اعجاز الحسن بدایونی نے تنبہیہ الناصبین میں علامہ حائری نے مواعظ تحریف میں علامہ دلدار علی نے صوارم میں اور مولوی حامد حسین نے استقصاء الافہام میں اور مرزا محمد کشمیری نے نذھہ میں درج کیا ہے ۔

الجواب

صفحہ 3 از 6