افہام و تفہیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

افہام و تفہیم

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 4 از 6

1) الزامی جواب حقیقی جواب ہر گز نہیں ہو سکتا ، مناظرانہ فنکاری سے کام لیتے ہوئے کسی سنی کے مقابلہ میں یہ الزامی جواب دے کر خوش ہو سکتے ہیں مگر خود تحریف کے عقیدے سے دستبردار نہیں ہو سکتے بلکہ اس جواب میں آپ کا اقرار موجود ہے کہ آپ تحریف قرآن کے قائل ہیں اگر کسی یہودی، عیسائی یا آریہ کو آپ یہی جواب دیں تو اسے جواب نہیں کہا جائے گا لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے عقیدہ تحریف قرآن کا کوئی علمی اور تحقیقی جواب دیں۔

(2) اہلسنت کے ہاں جو روایات ملتی ہیں ان سے کسی سنی عالم نے آج تک نہ تحریف قرآن کا مفہوم سمجھا، نہ بیان کیا ، بلکہ علمائے سنت کے مفسرین اور محدثین کی ایک جماعت نے نسخ تلاوت کا بھی اس بناء پر انکار کر دیا کہ جن روایات سے بعض آیات کا منسوخ التلاوت ہونا ثابت ہوتا ہے وہ سب اخبارا حاد ہیں اور ظنی ہیں ان کی وجہ سے کسی آیت کا نزول و نسخ ثابت نہیں ہو سکتا ، چنانچہ تفسیر اتفاق میں علامہ سیوطی نے قاضی ابو بکر سے نقل کیا ہے۔

تنبیہ حكى القاضي في الانتصار عن قوم انكار هذا الضرب لان الاخبار فيه اخبار احاد ولا يجوز القطع على نزول قرآن نسخه باخبار الاحاد لاجة فيها.

قاضی ابو بکر نے اپنی کتاب انتصار میں علماء کی ایک جماعت کا انکار نقل کیا ہے کہ اس قسم کی روایات اخبار احاد ہیں اور قرآن کے نازل ہونے اور منسوخ ہو جانے کا یقین کرنے کے لیے ان روایات کو سند تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

بفرض محال یہ روایات صحیح بھی ہوتیں تو واجب الرد تھیں کیونکہ قرآن تواتر طبقاتی سے ثابت ہے کہ اور یہ غیر متواتر روایات اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی، پھر یہ بات ہے کہ یہ روایات نسخ کے متعلق ہیں اگر یہ تحریف کی روایات ہوتی تو اہل سنت کے اصول کے مطابق تواتر کے مقابلہ میں مردود تھیں اس کے برعکس شیعہ کے ہاں تحریف کی روایات کا یہ مقام ہے کہ

(الف) وہ متواتر ہیں۔

(ب) زائد از دو ہزار ہیں۔

(ج) روایات امامت کا ہم پلہ ہیں۔

(د) قرآن کی تحریف پر صاف دلالت کرتی ہیں ۔

اور ان روایات کی سند پر شیعہ کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن محرف ہے۔

(3) نسخ کی جو روایات اہل سنت کے ہاں پائی جاتی ہیں وہ نبی کریمﷺ سے منقول نہیں اور اہل سنت کے عقیدہ کے مطابق نبی کریمﷺ کے علاوہ کوئی اور شخص معصوم نہیں اس کے برعکس تحریف قرآن کی روایات شیعہ کے ہاں متواتر طور پر اماموں سے منقول ہیں جو ان کے ہاں معصوم اور مفترض الطاعتہ ہیں۔

(4) اہلسنت میں کوئی شخص تحریف قرآن کا قائل نہیں بلکہ وہ اس عقیدہ کو بدترین کفر جانتے ہیں اور اس امر کا اقرار شیعہ کو بھی ہے چنانچہ مولوی حامد حسین نے استقصاء الافحام جلد 1 ص 9 پر دیا ہے۔

مصحف عثمانی که اهلسنت آن را قرآن کامل اعتقاد کند و معتقد نقصان ان را ناقص الایمان بلکه خارج از اسلام پندارند۔

مصحف عثمانی کو اہلسنت قرآن کامل اعتقاد کرتے ہیں اور اس میں کی پیشی کے قائل کو ناقص الایمان بلکہ خارج از اسلام جانتے ہیں۔

یہ شیعہ سلطان المناظرین کا اقرار ہے۔

5)جو روایات تفسیر اتقان یا در منشور یا معالم التنزیل سے پیش کی جاتی ہیں ان روایات کا یہ مضمون نہیں کہ اس آیت میں تحریف کر دی گئی ہے یا کمی یا زیادتی کی گئی ہے، جیسا کہ شیعہ روایات میں صاف صاف یہ ذکر کیا جاتا ہے۔ اہل سنت کے تمام علماء و محدثین ، مفسرین نے ان روایات کو نسخ تلاوت پر محمول کیا ہے کسی ایک عالم نے بھی ان سے تحریف کا مفہوم نہیں لیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مناظرہ کے مقام سے ہٹ کر شیعہ مفسرین نے بھی تین قسم کا نسخ مانا ہے جیسا کہ شیعہ مفسر ابو علی طبرسی نے اپنی تفسیر مجمع البیان میں زیر آیت ما نسخ من آية میں لکھا ہے۔

والنسخ و في القرآن على ضروب منها ان يرفع حكم لاية وتلاوتها كما روی من إلى بكرة انه قال كنا نقرا الاترغبوا عن ابا نگر خانه نفر بكم ومنها ان يثبت الولاية في الحظ ويوقع حكمها كقوله فأن فاتكم شيء من أزواجكم فعاتبو فهد ا ثابت اللفظ في الخط مرتفعة الحكير ومنها ما يرتفع الفظ ويثبت الحكم كاية الرحم لقد جاءت اخبار كثيرة بان اشيا كانت في القرآن و اسلام تلاوتها فقه ها ماروی عن اإلى موسی انہ کانوا یقرون لو کان لاین ادهم و اديان لا تخابها ثالثا ولا يلا جوف ابن أدم الا التراب و يتوب الله على من تاب تم رفع وعن الس ان سبعين من الانصار الذين تتلوا بينو معونة فنزل فيهم قرآن بلغوا عنا قومنا أنا لقينا ربنا فرضی عنا و ارضا تا ثم رفع ذلك قد ذكرنا حقيقة النسخ عند المحقيقين .

قرآن میں نسخ کئی قسم کا ہوا ہے مثلاً ایک یہ کہ آیت اس کا حکم اور تلاوت دونوں ممنوع ہو جائیں جیسا کہ ابی بکرہ کی روایت میں منقول ہے کہ ہم یہ پڑھتے تھے الاتر غبو الخ ۔ دوسری قسم ہہ کہ تلاوت باقی رہے اور حکم منسوخ ہو جائے جیسا کہ آیت فان فاتکم الخ اس کا لفظ موجود ہے حکم اس کا منسوخ ہے اور تیسری قسم یہ کہ تلاوت منسوخ ہو جائے اور حکم باقی رہے جیسا کہ آیت رحیم حقیقت یہ ہے کہ اکثر روایات میں آچکا ہے کہ قرآن میں کچھ آیتیں ایسی تھیں جن کی تلاوت منسوخ ہو گئی ہے ازاں جملہ ایک روایت وہ ہے کہ ابو موسیٰ سے منقول ہے کہ لوکان لابن آدم الخ اس کی لوگ تلاوت کرتے تھے پھر وہ منسوخ ہو گئی اور انس سے روایت ہے کہ ستر انصاری جو بیری معونہ میں شہید ہوئے تھے ان متعلق قرآن میں کچھ آیتیں نازل ہوئی تھیں۔ یعنی بغوا عنا الخ پھر ابو علی طبرسی کہتا ہے کہ نسخ کی حقیقت پر محققین کے نزدیک مسلم ہے میں نے بیان کر دی۔

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ محققین بھی تین قسم کا نسخ مانتے ہیں پھر حیرت ہے کہ وہ اہلسنت کی روایات نسخ کو تحریف پر کیوں محمول کرتے ہیں۔

تحریف قرآن کا عقیدہ اہل سنت کے ہاں عقلاً بھی محال ہے، کیونکہ اہل سنت صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو کامل الایمان اور جاں نثاران رسولﷺ اور محافظین قرآن مانتے ہیں، نبی کریمﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کو کتابت وحی کی خدمت پر مقر کیا تھا جن میں خلفائے اربعہ .

صفحہ 4 از 6