افہام و تفہیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

افہام و تفہیم

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 5 از 6

حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ زبان سعید ، خالد بن ولید ،ابی ابن کعب، از زید بن ثابت اور ثاقب بن قیس ارقم بن ابی اور حنزلہ بن ربیع وغیر ہم شامل ہیں ان میں سے نزول آیت کے وقت جو شخص حاضر ہوتا فوراً ضبط تحریر میں لے آتا اس طرح حضور اکرم نے خود حفاظت قرآن کا اہتمام کیا اور حضور کی زندگی میں صحابہ میں حفاظ قرآن کی ایک جماعت موجود تھی جن میں خلفائے اربعہ رضی اللّٰہ عنہم،امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ، طلحہ رضی اللّٰہ عنہ ،زبیر رضی اللّٰہ عنہ ، سعد رضی اللّٰہ عنہ، ابن مسعود ، حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ،ابو ہریرہ ابن عمر رضی اللہ ، ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ عمرو ابن عاصی، عبداللّٰہ بن عمر عبد اللّٰہ بن زبیر عبد اللّٰہ بن ساب، حضرت عائشہ ، حضرت حفصہ ، حضرت ام سلمی ، ابی ابن کعب ، معاذ بن جبل زید بن ثابت ، ابودردا رضی اللّٰہ ، مجمع بن حارثہ ، انس بن مالک اور ابوزید وغیرہ قرآن کے حافظ موجود تھے وہ حفاظ قرآن ان کے علاوہ ہیں وہ کیں جو ستر کے قریب بیر معونہ میں شہید ہوئے اور اس سے کہیں زیادہ یمامہ کی لڑائی میں ، قرآن کریم تین بار جمع ہوا۔ سب سے پہلے نبی کریمﷺ کے زمانے میں اس دور میں جمع قرآن کی صورت یہ تھی کہ جب کوئی آیت نازل ہوتی نبی کریمﷺ کاتب الوحی کو فرماتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں فلاں محل اور مقام پر رکھو ، یعنی آیات کی ترتیب و نبی کریمﷺ نے بنائی تھی۔ جو لوگ لکھنا جانتے تھے وہ مختلف ، چیزوں پر لکھتے تھے جن میں ہڈیاں پتے ، پھر اور کپڑا وغیرہ شامل ہیں۔

جمع قرآن کا دوسرا دور صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا کارنامہ ہے آپ نے تمام صحابہ کے پاس سے لکھا ہوا مواد منگوایا اور حفاظ قرآن کی مدد سے اسی ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا جو نبی کریمﷺ نے صحابہ کو سکھائی تھی۔

تیسرا دور حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کا ہے اس دور میں تو قریش کے لہجے پر قرآن پڑھنے پر لوگوں کو جمع کیا گیا پھر وہ آیات جو منسوخ التلاوت تھیں نکال دی گئیں وہ عبارتیں جو تلاوت قرآن کے دوران متن کے علاوہ بطور دعا پڑھی جاتی تھیں اور بعض حضرات نے لکھ رکھی تھیں وہ نکال دی گئیں ، اسی طرح جو مشکل الفاظ کے معانی صحابہ نے لکھوا رکھے تھے یا کسی قرآن آیت کی کوئی خاصیت لکھی ہوئی تھی وہ عبارتیں نکال دی گئیں۔ اس اقدام کو کوئی کور باطن اس طرح ( EXPLOIT کر سکتا ہے کہ حضرت عثمان نے قرآن کا کچھ حصہ اپنی مرضی سے نکال دیا تھا مگر اس قرآن پر صحابہ کا اجماع اور اس ترتیب پر صحابہ کا اتفاق قرآن کے غیر محرف ہونے کی قطعی دلیل ہے اور یہی قرآن تواتر طبقاتی سے ہم کو ملا ہے اگر تواتر سے امان اٹھ جائے تو دنیا میں کوئی چیز کوئی مذہب اور کوئی دین یقینی نہیں رہے گا ۔ یہ بات صرف شیعہ کی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ خلفائے ثلاثہ کوئی مافوق الفطرت قوت کے مالک تھے کہ اتنی بڑی جماعت جو ایک لاکھ اور کئی ہزار پر مشتمل تھی اور حد تواتر کو پہنچ چکی تھی اس ساری جماعت کو جھوٹ پر جمع کر لیا ورنہ یہ دعویٰ کوئی صحیح العقل انسان تسلیم نہیں کرسکتا۔ یہ خیال رہے کہ حضرت عثمان نے قرآن کو ترتیب نزولی پر جمع نہیں کیا بلکہ اسی ترتیب پر جمع کیا جونبی کریمﷺ نے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مطلع ہو کر صحابہ کو بتائی تھی ۔ آیات کی ترتیب توقیفی ہے جو بنی کریمﷺ نے بتائی تھی اسی ترتیب سے جمع ہوا۔ سورتوں کی ترتیب میں اختلاف ہے۔

 تفسیر مناہل العرفان جلد 1ص 347 پر لکھا ہے۔

 ان ترتيب السور لها توقيفي بتعليم الرسول كترتيب الآيات وانه لم يوضع سورة ...في مكانها الا با مرمته صلى الله علیہ وسلم۔

تمام سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے جو نبی کریمﷺ کی تعلیم سے رکھی گئی جس طرح ترتیب آیات کو ہر آیت اور سورۃ اپنے اپنے عمل پر حکم رسولﷺ رکھی گئی۔

اور ابو جعفر نخاس نے اپنی تفسیر الناسخ المنسوخ میں فرمایا ۔

 والمختاران تأليف السور والآیات علی هذا الترتيب من رسول الله صلى الله عليه وسلم ۔

 اور مذہب مختار یہ ہے کہ قرآن کی سورتوں اور آیتوں کی ترتیب نبی اکرمﷺ کے حکم سے رکھی گئی-

اور علامہ ابو بکر انباری کا فرمان ہے کہ

 ويقف جموئيل النبي صلى الله عليه ما را عوض السور والايات والحروف لله۔

اور حضرت جبریل نبی کریمﷺ کو مطلع کرتے تھے ہر سورہ ہر آیت اور ہر حروف کے متعلق کہ فلاں جگہ رکھا جائے ۔

تفسیر مناہل العرفان میں ہے کہ قرآن کا رسم الخط بھی نبی کریمﷺ کے حکم کے مطابق ہے:

 ان توفيقي لا تجوز من الفته و ذلك منذهب الجمهور.

تالیف و ترتیب قرآن کی توقیفی ہے اس کی مخالفت ناجائز ہے اور یہی مذہب ہے جمہور اسلام کا۔

حضرت عثمان نے قرآن کریم کی نقول تیار کرا کر ممالک محروسہ میں بہیج دیں ۔ علامہ ابن عاثرنے فرمایا کہ ان کی تعداد چھ تھی اور مختلف مقامات کی نسبت سے ان کے نام مکی، شامی، بصری، کوفی اور مدنی عام اور ایک نسخہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے پاس رکھا تھا جیسے مدنی خاص کہا گیا ۔ بعض کا قول ہے کہ یہ تعداد زیادہ تھی، ایک بحرین میں بھیجا، ایک یمن میں اور ایک مصر میں بھیجا۔

حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے ہر جگہ قرآن کی تعلیم دینے کے لیے معلمین بھی مقر فرمائے ۔ مدینہ منورہ میں زید بن ثابت کو مکہ مکرمہ میں عبد اللّٰہ بن سائب کو ، شام میں مغیرہ بن شعبہ کو، کوفہ میں ابا عبد الرحمن سلمی کو اور بصرہ میں عامر بن عبد القیس کو مقرر فرمایا پھر یہ روش تابعین میں قائم رہی، چنانچہ تفسیر مناہل العرفان میں ہے :-

 ثم نقل التابعون عن الصحابة فقر أ اهل كل عصر ومصر بما في مصحفهم تلقي من الصحابة الذين تلقوه من فمر رسول اللہ فقاموا في ذلك مقام الصحابة الذين تلقوه كو من قم رسول الله ثم اجتمعت الامة وهي معصومة من الخطاء في اجتماعها على مافی ال۔صاحف

پھر یہ قرآن تابعین نے نقل کیا اور ہر ملک اور ہر زمانے کے مسلمانوں نے اسے پڑھا صحابہ نے جیسے نبی کریمﷺ کی زبان سے یہ قرآن سنا، تابعین کو پہنچایا اسی طرح تابعین نے آئندہ نسل کو منتقل کیا۔ امت کا اس پر اجماع ہے اور قرآن ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہے۔ !

  سورتوں کی ترتیب میں اختلاف ہے۔

 تفسیر مناہل العرفان جلد1 ص4 پر لکھا ہے۔

صفحہ 5 از 6