افہام و تفہیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

افہام و تفہیم

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 6 از 6

 ان ترتيب السور لها توقيفي بتعليم الرسول كترتيب الآيات وانه لم يوضع سورة ...في مكانها الا با مرمته صلى الله علیہ وسلم۔

تمام سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے جو نبی کریم کی تمام سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے جو نبی کریمﷺ کی آیت اور سورۃ اپنے اپنے عمل پر حکم ہوئی رکھی گئی۔

اور ابو جعفر نخاس نے اپنی تفسیر الناسخ المنسوخ میں فرمایا ۔

 والمختاران تأليف السور والآیات علی هذا الترتيب من رسول الله صلى الله عليه وسلم ۔

 اور مذہب مختار یہ ہے کہ قرآن کی سورتوں اور آیتوں کی ترتیب نبی اکرمﷺ کے حکم سے رکھی گئی ۔اور علامہ ابو بکر انباری کا فرمان ہے کہ

 ويقف جموئيل النبي صلى الله عليه ما را عوض السور والايات والحروف لله۔

اور حضرت جبریل نبی کریمﷺ کو مطلع کرتے تھے ہر سورہ ہر آیت اور ہر حروف کے متعلق کہ فلاں جگہ رکھا جائے ۔

تفسیر مناہل العرفان میں ہے کہ قرآن کا رسم الخط بھی نبی کریمﷺ کے حکم کے مطابق ہے:

 ان توفيقي لا تجوز من الفته و ذلك منذهب الجمهور. 

تالیف سے نیب قرآن کی توقیفی ہے اس کی مخالفت نا جائز ہے اور یہی مذہب سے جمہور اسلام کا۔

حضرت عثمان نے قرآن کریم کی نقول تیار کر گر ممالک محروسہ میں جیح دیں ۔ علامہ ابن عاشر

نے فرمایا کہ ان کی تعداد چھ تھی اور مختلف مقامات کی نسبت سے ان کے نام کی ۔ شامی بصری کوئی اور مدد کی عام اور ایک نسخہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے پاس رکھا تھا جیسے مدنی خاص کہا گیا ۔ بعض کا قول ہے کہ یہ تعداد زیادہ تھی، ایک بحرین میں بھیجا، ایک مین میں اور ایک مصر میں بھیجا۔

حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے ہر جگہ قرن کی تعلیم دینے کے لیے ملین بھی مقر فرمائے ۔ مدینہ سورہ میں زید بن ثابت کو مکہ مکرمہ میں عبد اللّٰہ بن سائب کو ، شام میں مغیرہ بن شعبہ کو کوفہ میں ابا عبد الرحمن سلمی کو اور بصرہ میں عامر بن عبد القیس کو مقرر فرمایا پھر یہ روش تابعین میں قائم رہی، چنانچہ تفسیر مناہل العرفان میں ہے :-

 ثم نقل التابعون عن الصحابة فقر أ اهل كل عصر ومصر بما في مصحفهم تلقي من الصحابة الذين تلقوه من فمر رسول اللہ فقاموا في ذلك مقام الصحابة الذين تلقوه كو من قم رسول الله ثم اجتمعت الامة وهي معصومة من الخطاء في اجتماعها على مافی ال۔صاحف

پھر یہ قرآن تابعین نے نقل کیا اور ہر ملک اور بیر زمانے کے مسلمانوں نے اسے پڑھا صحابہ نے جیسے نبی کریم کی زبان سے یہ قرآن سنا، تابعین پہنچا یا اسی طرح تابعین نے آئندہ نسل کو منتقل کیا۔ امت کا اس پر اجماع ہے اور قرآن ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہے۔ !


صفحہ 6 از 6