جنگ کی تیاری - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

جنگ کی تیاری

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

جنگ شروع ہونے سے کچھ پہلے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے قائم مقام حضرت خالد بن عرفطہؓ کی نیابت کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہو گیا۔ حضرت سعدؓ نے یہ سن کر کہا: مجھے اٹھاؤ اور لوگوں کے روبرو کرو۔ چنانچہ لوگوں نے آپ کو اٹھایا، مسلمانوں کی فوج ’’قصر قدیس‘‘ کی دیواروں کے پاس کھڑی تھی، آپ وہاں سے سر نکال کر حضرت خالدؓ کو حکم دیتے اور حضرت خالدؓ فوج تک وہ بات پہنچاتے، اس نازک موقع پر جن لوگوں نے حضرت خالدؓ کے خلاف آواز اٹھائی تھی ان میں بعض اہم لوگ بھی شریک تھے۔ حضرت سعدؓ نے انہیں سخت سزا دینے کا ارادہ کیا۔ وہ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: سنو! اللہ کی قسم! اگر آج تمہارا دشمن تمہارے سامنے نہ ہوتا تو میں تم کو ایسی سزا دیتا جو دوسروں کے لیے بھی تازیانہ عبرت ہوتا۔ پھر آپ نے ان لوگوں کو قید کرا دیا، انہی لوگوں میں ابو محجن ثقفیؓ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان سب کو آپ نے محل میں قید کرایا۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اطاعت امیر کی تائید میں کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ اس دین کی ذمہ داری دے گا اس کی بات سنوں گا اور فرمانبرداری کروں گا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو اور حضرت سعدؓ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر دوبارہ کسی نے ایسی حرکت کی کہ مسلمانوں کو ان کے دشمن سے غافل کر کے اندرونی اختلافات کو ہوا دی حالانکہ وہ دشمن کے مقابلہ میں ہوں تو میں اس کے ساتھ وہ سلوک کروں گا کہ میرے بعد آنے والوں کے لیے ایک مثال بن جائے گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 356)

فوج کے اندر ایسی اندرونی بدمزگی کو دیکھ کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کسی طرح خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ حق ہے، اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں، اس کا فیصلہ ایک اٹل حقیقت ہے اور اس نے اپنی کتاب قرآن میں فرمایا ہے:

وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِى الزَّبُوۡرِ مِنۡ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ الأنبياء: آیت 105)

ترجمہ: ہم زبورمیں پند ونصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔

بے شک فارس کی یہ زمین تمہاری میراث ہے اور تمہارے رب کا وعدہ ہے۔ اللہ نے گذشتہ تین سالوں سے اس خطے کو تمہارے لیے حلال و ہموار کر دیا ہے، اپنے جانباز مجاہدین کی بدولت تم اس سے آج تک کھاتے کھلاتے ہو، اس سر زمین کے باشندوں کو قتل کر رہے ہو اور انہیں لونڈی و غلام بنا رہے ہو۔ دیکھو یہ جمعیت تمہارے لیے آئی ہے اور تم معززین سرداران عرب ہو، اپنے اپنے قبیلہ کے منتخب فرد ہو، جو تمہارے پیچھے ہیں انہیں تم پر ناز ہے، اگر تم دنیا کو ٹھکرا کر آخرت کو پسند کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت دونوں سے نوازے گا، لیکن اگر تم نے بزدلی اور پست ہمتی سے کام لیا تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تمہاری عافیت برباد ہو جائے گی۔‘‘

پھر آپ نے علم بردار امرائے لشکر کو لکھا کہ: ’’خالد بن عرفطہؓ کو میں نے اپنا نائب امیر بنا دیا ہے، اگر مجھے تکلیف نہ ہوتی اور پھوڑے پھنسیاں نہ ہوتیں تو یہ فرض میں خود سرانجام دیتا۔ تم دیکھ رہے ہو کہ شدت درد سے میرا سر سینے پر جھکا ہوا ہے، لہٰذا تم ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو، وہ میرے حکم ہی سے تم کو کوئی حکم دیں گے اور میری ہی بات کو نافذ کریں گے۔‘‘ آپ کا یہ تحریری پیغام لوگوں کو سنایا گیا تو سب لوگ مطمئن ہو گئے اور حضرت خالد بن عرفطہؓ کی باتوں پر متفقہ طور سے عمل کرنے لگے، بلکہ ان کے حکم کی بجا آوری کے لیے ایک دوسرے کو ابھارنے بھی لگے۔ حضرت سعدؓ کی مجبوری و معذرت کو سب نے قبول کیا اور ان کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 358)

اب حضرت سعد بن وقاصؓ ’’قصر قدیس‘‘ پر تنہا ہیں وہ غیر محفوظ مقام پر ہے اور وہیں سے میدان جنگ کا جائزہ لے رہے ہیں، پس آپ کی شجاعت و بہادری کی یہ ایک واضح دلیل ہے اور فی الواقع آپ دلیر تھے بھی، چنانچہ عثمان بن رجاء سعدی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ لوگوں میں سب سے زیادہ دلیر اور بہادر تھے، وہ مسلمانوں اور مشرکوں کے دو لشکروں کے درمیان غیر محفوظ مقام پر واقع ایک محل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور وہیں سے لوگوں کی نگرانی کر رہے تھے، اگر اونٹنی کا دودھ دوہنے تک کے معمولی لمحہ کے لیے مسلمانوں کی صف ان کی آڑ سے ہٹ جاتی تو دشمن انہیں قتل کرنے کے بعد اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا۔ اللہ کی قسم! اس دن کی ہولناکی نے حضرت سعدؓ کو نہ تو رنجیدہ کیا اور نہ بے چین۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 347)


صفحہ 2 از 2