جنگ کا آغاز
علی محمد الصلابیثالثاً: جنگ کا آغاز
آغاز میں جنگ کی صورت یہ تھی کہ طرفین سے ایک ایک آدمی میدان میں اترتا اور پھر دونوں اپنی اپنی جوانمردی کا مظاہرہ کرتے اور کبھی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں بھی ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہوتیں اور یہ اس خوف کے پیش نظر تھا کہ کہیں مکمل جنگ نہ چھڑ جائے۔ ایک ہفتہ تک یہی صورت حال رہی اس دوران اس قسم کی جنگ کے تقریباً ستر واقعات ہوئے، بعض روایات میں ان کی تعداد نوے بھی بتائی گئی ہے۔
(الانباء بتواریخ الخلفاء: صفحہ 59، شذرات الذہب: جلد 1 صفحہ 45)
آخر محرم کے اختتام پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ حکم جاری کر دیا کہ کل بدھ کے دن سے بھرپور جنگ ہو گی اور اس میں سارا لشکر شریک ہو گا، پھر انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی اس سے آگاہ کر دیا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 273)
دونوں طرف کے جنگجو رات بھر جنگی ہتھیاروں کو تیار کرتے رہے اور ان کے قائدین ان میں اسلحہ تقسیم کرتے رہے،
(سنن سعید بن منصور: جلد 2۔صفحہ 240 ضعیف.)
اور ساتھ ہی ساتھ مشاورت کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور قائدین کو ان کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔
( علی بن ابی طالب از صلابی: جلد 2 صفحہ 635)