مسئلہ فدک - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ فدک

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

صفحہ 2 از 2

اے پسرِ ابو طالب خویشتن بشملہ در پیچيدی مانند جنین در رحم دردئے از خلق نہفتی چوں مردم متہم۔

اے ابو طالب کے بیٹے چادروں میں چھپ گئے ہو جیسے بچہ رحم میں، اور متہم لوگوں کی طرح مخلوقات سے چھپ گئے ہو۔

ناظرین کرام اب انصاف فرمائیں کہ کیا یہ فقرات سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی باہمی ناراضگی پر دلالت نہیں کر رہے؟ اگر کتب شیعہ میں یہ الفاظ اور فقرات موجود ہونے کے باوجود ناراضگی فاطمہؓ کی وجہ سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کا دامن صاف ہی نظر آتا ہے تو خلیفہ رسولﷺ سیدنا صدیق اکبرؓ کو طعن و تشنیع کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟

جواب نمبر 3: اگر اہلِ تشیع کی طرف یہ جواب دیا جائے کہ بےشک سیدنا علیؓ و سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگیاں تو ہوتی رہیں مگر بعد میں صلح ہو جایا کرتی تھی تو ہم اہلِ سنت بھی جواباً عرض کریں گے اگر بالفرض خلیفہ بلا فصل اور سیدہ فاطمہؓ کی بشری تقاضے کی تحت وقتی طور پر ناراضگی اور رنجش ہوئی بھی ہو تو بعد میں ان دونوں مقدس ہستیوں کی باہمی رضامندی اور صلح بھی ہو گئی تھی۔

چنانچہ ملاحظہ ہو شیعہ کی معتبر کتاب ابن میثم البحرانی شرح نہج البلاغہ۔

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأخذ من فدك قوتكم ويقسم الباقي ويحمل منه جزء في سبيل الله. ولك على الله أن أصنع كما كان يصنع، فرضيت بذلك، أخذت العهد عليه به

(شرح نهج البلاغة لابن الميثم البحراني: جلد 5 صفحہ 107)

(صدیق اکبرؓ نے فرمایا) رسول پاکﷺ فدک کی آمدنی سے تمہارا (اہلِ بیتؓ)کا خرچ الگ کر لیتے تھے، باقی ماندہ مسکینوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اور اس میں سے جہاد کے لیے سواریاں لیتے تھے اور خدا کی رضامندی کے لیے آپﷺ کا مجھ پر حق ہے کہ فدک کے بارے میں وہی کارروائی کروں جو کارروائی رسول پاکﷺ کیا کرتے تھے۔ سیدہ فاطمہؓ اس بات پر راضی ہو گئیں۔ اور صدیق اکبرؓ سے عہد لیا، پھر صدیق اکبرؓ ارضِ فدک کی آمدنی سے اہلِ بیتؓ کو اس قدر دیتے تھے کہ سال بھر کے اخراجات پورے ہو جاتے تھے۔ پھر باقی خلفاء رضی اللہ عنہم اجمعین نے بھی اسی طرح کیا۔

بعینہ یہی عبارت درہ نجفیہ طبع ایران صفحہ 332 پر بھی موجود ہے۔

اِس سے معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر راضی ہو گئی تھیں۔ اگر ناراضگی فاطمہؓ کی وجہ سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر طعن کیا جائے تو یہ ناراضگی تو سیدنا علی المرتضیٰؓ سے بھی بارہا ثابت ہے اور اگر ناراضگی کے بعد سیدنا علی المرتضیٰؓ سے رضامندی ثابت کریں تو یہ رضامندی تو کتبِ شیعہ سے صدیق اکبرؓ سے بھی ثابت ہو رہی ہے لہٰذا ما هو جوابكم فهو جوابنا

جواب نمبر 4جب سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خلافت کے امور سپرد کیے گئے تو انہوں نے بھی فدک کے معاملے میں صدیقی فاروقی اور عثمانی دور کے طرزِ عمل کو برقرار رکھا۔

چناچہ ملاحظہ ہو (الشافي في الامامة: الشريف المرتضىٰ: جلد 4 صفحہ 76)

قال: فلما وصل الأمر إلى علي بن أبي طالب عليه السلام كلم (2) في رد فدك، فقال: إني لأستحي من الله أن أرد شيئا منع منه أبو بكر وأمضاه عمر.

پس جب فدک کا مسئلہ سیدنا علی المرتضیٰؓ تک پہنچا تو اس امر میں گفتگو کی گئی تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا مجھے اللہ سے حیا آتی ہے میں اس چیز کو رد کروں جس سے ابوبکرؓ نے منع کیا اور عمرؓ نے جاری کیا۔

جب سیدنا علی المرتضیٰؓ نے بھی اپنے دور خلافت میں فدک کی آمدنی کو اسی طرح تقسیم کیا جس طرح صدیق و فاروقؓ اور عثمان غنیؓ اپنے اپنے خلافت کے زمانہ میں کرتے رہے تو اگر ان خلفائے ثلاثہؓ کا طرزِ عمل غلط تھا اور باطل تھا تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اس کی اصلاح کیوں نہ فرمائی؟ اور اگر چاروں خلفاءؓ اپنے اپنے دورِ خلافت میں ایک کام کو ایک ہی طرز طریق پر کرتے ہیں تو اس عمل کی وجہ سے انصاف تو یہ ہے کہ اگر اعتراض اور طعن و تشنیع کیا جائے تو چاروں پر،اور اگر معاف کیا جائے تو بھی چاروں کو۔ یہ انصاف اور دیانت کے خلاف ہے کہ تین آدمیوں(ابوبکرؓ، عمر فاروقؓ عثمان غنیؓ) کو تو اعتراضات کا محل بنایا جائے اور انہیں جیسا عمل کرنے کے باوجود ایک کو بری کر دیا جائے۔

نوٹ:

اسی مسئلہ فدک کے متعلق استاذ المکرم مولانا سید احمد شاہ بخاریؒ کی کتاب تحقیق فدک دیکھنے کے بعد تمام شکوک و شبہات دور ہو جاتے ہیں۔


صفحہ 2 از 2