آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 10 از 12

یہاں زوجہء رسولﷺ یہ بیت کو بیت النبی ﷺ کے گھروں کو بیوت النبیﷺ کہا گیا ہے۔

یہ خیال رہے کہ اہلِ بیتؓ کا لفظ اسم جنس ہے جس کا اطلاق قلیل و کثیر پر ہوتا ہے با اعتبار اضافت کے مثلاً

  لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتَ ٱلنَّبِىِّ الخ۔(سورۃ الأحزاب آیت نمبر 53)۔

وَٱذۡڪُرۡنَ مَا يُتۡلَىٰ فِى بُيُوتِڪُنَّ الخ۔(سورۃ الأحزاب آیت نمبر 43)۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَآءِ ٱلۡحُجُرَٲتِ الخ۔  (سورة الحجرات آیت نمبر 4)۔ 

اور یہاں جب تمام گھروں کو بوجہ رسول اللہﷺ کے گھر سمجھا گیا تو اہلِ بیتؓ فرمایا جب گھر ہر بیوی کا ہے تو اضافت بیویوں کی طرف کر دی اور فی بیوتکن فرمایا اور تمام بیویوں کے گھروں کو نبی کریمﷺ کا گھر سمجھا گیا تو بیوت النبی فرمایا۔

4۔ حقیقت اور مجاز:

اہلِ بیتؓ کا لفظ بنیادی طور پر اور حقیقت کے اعتبار سے بیوی کے لیے بولا جاتا ہے مگر وقتی طور پر بالتبع اولاد کو بھی مجازاً شامل کر لیا جاتا ہے کیونکہ بچے جوان ہو کر علیحدہ گھر بنا لیتے ہیں اور بچیاں جوان ہو کر دوسرے گھروں میں جا بستی ہیں اور باقی وہی رہ جاتا ہے جو حقیقی اہلِ بیت ہیں یعنی بیوی اس کی مثالیں بھی قرآن کریم میں جابہ جا ملتی ہیں مثلاً:

وَأۡتُونِى بِأَهۡلِڪُمۡ أَجۡمَعِينَ۝(سورۃ یوسف آیت نمبر 93)۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بھائی اپنے بال بچوں کو مصر لے آئیں۔

يَـٰٓأَيُّہَا ٱلۡعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهۡلَنَا ٱلضُّرُّ الخ۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 88)۔

ہم اور ہمارے بیوی بچے قحط سالی کی زد میں ہیں۔

وَقَالَ لِفِتۡيَـٰنِهِ ٱجۡعَلُواْ بِضَـٰعَتَہُمۡ فِى رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُونَہَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ الخ۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 62)۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے جوانوں کو حکم دیا کہ ان کی رقم ان کے سامان میں رکھ دو جب وہ اپنے بیوی بچوں میں جائیں تو شاید پہچان لیں۔

اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَاۚ الخ۔(سورۃ سورۃ الکہف آیت نمبر71)۔

کہا کیا تو نے اس لئے کشتی پھوڑی کہ اہلِ کشتی غرق ہو جائیں؟۔

ظاہر ہے کہ اہلِ کشتی وہی تھے جو کشتی میں موجود تھے کنارے پر کھڑے یا گھر میں بیٹھے لوگوں کو اہلِ کشتی تو نہیں کہا گیا لہٰذا اہلِ بیت وہی ہوتے ہیں جو گھر میں مقیم ہوتے ہیں اور اہلِ بیت النبیﷺ وہی ہوئے جو نبی کریمﷺ کے گھر میں مقیم رہتے تھے اور وہ حضورﷺ کی ازواج کے بغیر اور کون ہے بیٹیاں تو پرایا مال ہوتی ہیں سیدہ فاطمہؓ اپنے شوہر سیدنا علیؓ کے گھر میں مقیم تھی وہ ان کی اہلِ بیت ہوئی اور حسنین اولاد ہونے کی وجہ سے بالتبع سیدنا علیؓ کے اہلِ بیتؓ ہوئے بیت نبیﷺ میں غیر مقیم اہلِ بیتؓ نہ کہلائے۔

ہاں یہ درست ہے کہ حسنین کا بیت النبیﷺ میں آنا جانا تھا مگر وہاں تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بچوں کا آنا جانا تھا اگر محض آنے جانے سے اہلِ بیت بنتے ہیں تو سب صحابیات اور سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بچے اہلِ بیت کیوں نہ قرار پائیں؟ حسنین کی تخصیص کیوں ہو؟ 

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِـعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ الا امراتک الخ۔ 

(سورۃ ھود آیت نمبر 65)

فوقضوا علی لوط فی ذلک الوقت وھو یسقی زرعه فقال لھم لوط من انتم قالوا نحن ابناء السبیل اضفنا اللیلۃ فقال لھم یا قوم ان اھل ھذہ القریۃ قوم سوء لعنھم اللہ و اھلکھم ینکحون الرجال ویاخذون الاموال فقالوا فقد ابطانا فاضفنا فجاء لوط الی اھله وکانت منھم قالت افعل۔

آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ:

اے لوط! کہ رات کے ایک حصہ میں اپنی اہل کو لے کر اس بستی سے نکل جا۔

تفسیر: ملائکہ حضرت لوط علیہ السلام کے پاس جا کھڑے ہوئے وہ اس وقت اپنی کھیتی کو پانی دے رہے تھے حضرت لوط علیہ السلام نے پوچھا کون ہو؟ کہا ہم مسافر ہیں آج رات کے لئے آپ کے مہمان ہیں حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ اس بستی کے لوگ بہت برے لوگ ہیں اللہ ان پر لعنت کرے انہیں ہلاک کرے لواطت کرتے ہیں اور مال لوٹتے ہیں فرشتوں نے کہا ہم انتظار کرتے ہیں آپ جا کر مہمانداری کا انتظام کریں حضرت لوط علیہ السلام اپنی بیوی کے پاس جو اہل سدوم میں سے تھی فرمایا آج رات کچھ مہمان آرہے ہیں قوم سے یہ بات پوشیدہ رکھنا اس نے کہا ایسا ہی کروں گی۔

شیعی مفسر علی بن ابراہیم قمی نے تسلیم کیا ہے اہلہ سے مراد ان کی بیوی ہے۔

یہاں شیعہ ایک اور لغزش کا شکار ہوتے ہیں کہ الاامراتک میں استثناء منقطع ہے مگر در حقیقت یہ استثناء متصل ہے لہٰذا فاسر باھلک میں داخل ہے اسی نے کہا کہ اپنی اہل کے پاس یعنی بیوی کے پاس آئے۔

قرآنِ کریم اور اہلِ بیتؓ:

اب تک قرآن کریم کی وہ آیت پیش کی گئیں جن میں صرف اہل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

آیت ذیل میں یہ پوری ترکیب یعنی اہلِ بیتؓ استعمال ہوئی ہے۔

وَامۡرَاَ تُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتۡ فَبَشَّرۡنٰهَا بِاِسۡحٰقَ ۙ وَمِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ يَعۡقُوۡبَ ۞(سورۃ ہود آیت نمبر 71)۔

 قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ ۞(سورۃ ہود آیت نمبر 73)۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کھڑی مسکرا رہی تھی تو اسے ہم نے اسحاق کی بشارت دی ملائکہ نے کہا اے اہلِ بیتِ حضرت ابراہیم علیہ السلام یعنی زوجہء ابراہیم علیہ السلام کیا آپ کو اللہ کی رحمت پر تعجب ہورہا ہے۔

ظاہر ہے ملائکہ کا کلام زوجہء ابراہیم علیہ السلام سے ہو رہا ہے یہاں نہ کوئی بچہ ہے اور نہ کوئی دوسرا شخص ہے جو واضح دلیل اس امر کی ہے کہ اہلِ بیت صرف بیوی کے لئے بولا گیا۔

یہاں شیعہ ایک اور پیچ ڈالتے ہیں کہ خطاب زوجہء ابراہیم علیہ السلام کی حیثیت سے نہیں ہو رہا بلکہ وہ تو ان کی خالہ زاد یا ماموں زاد تھیں۔

آدمی اگر لٹھ لے کے عقل کے پیچھے پڑ جائے تو اس سے بھی اونچی باتیں کر گزرتا ہے۔

حالانکہ اس مکالمہ کی ابتدا سے ہی بیان ہو رہا ہے۔ وَامۡرَاَ تُهٗ پھر فَضَحِكَتۡ اور پھر فَبَشَّرۡنٰهَا یہ خطاب بحثیتِ زوجہ کے ہو رہا ہے یا خالہ زاد کی حیثیت سے؟ اگر یہ بات ہوتی تو الفاظ یہ ہوتے: بنت عمه قائمۃ یا بنت خاله قائمه۔

صفحہ 10 از 12