آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 11 از 12

اگر اس بات پر بھی ٹھہرتے تو حالات یوں ہوتے کہ شیعہ کے نزدیک سیدنا عباسؓ کی اولاد اور سیدنا عقیلؓ اولاد بھی اہلِ بیت میں شامل ہوتی ادھر اتنی وسعت اور ادھر حال یہ کہ سیدنا حسنؓ کی اولاد کو اہلِ بیت سے خارج بلکہ بدترین انسان سمجھا گیا احتجاج طبرسی ملاحظہ کر لی جائے۔

اس آیت سے یہ بھی ظاہر کہ مخاطب صرف زوجہء ابراہیم علیہ السلام ہے مگر الفاظ ہیں علیکم اھل بیت یعنی عورت کے لئے صیغہ مذکر استعمال کیا گیا ہے کلامِ عرب میں کبھی لفظ کو ملحوظ رکھا جاتا ہے کبھی معنیٰ جیسے مَن لفظ کے لحاظ سے مفرد ہے اور معنیٰ کے لحاظ سے جمع ہے اسی طرح کسی چیز کو جو واقع میں مونث ہے مگر عرب اسے مذکر سے تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو صیغہ مذکر استعمال کرتے ہیں۔

تفسیر قرطبی 71:9

رحمت اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت ھذہ الآیۃ ان زوجۃ الرجل من اھل البیت فدل ھذا علی ان ازواج الانبیاء من اھل بیت النبیﷺ۔

یہ آیت اس امر پر قطعی دلالت کرتی ہے کہ آدمی کہ بیوی اہلِ بیت ہوتی ہے سو انبیاء کی بیویاں اہلِ بیت ہیں اس لئے سیدہ حضرت عائشہؓ اور دوسری ازواجِ مطہراتؓ حضورﷺ کہ اہلِ بیتؓ ہیں۔

تفسیر قرطبی 184:14:

واذکرن ما یتلی فی بیوتکن الخ والصحیح ان قوله ما یتلی فی بیوتکن علی ما قبله وقال عنکم لقول اھل فالا ھل مذکر فسما ھن وان اناثا باسم التذکر فلذلک صار عنکم۔

متصل ہے اور لیذھب عنکم الرجس میں عنکم ضمیر مذکر لانے کی وجہ سے لفظ اھل ہے یہ لفظ مذکر ہے اس وجہ سے ضمیر مذکر لائی گئی ہے اگرچہ وہ مخاطب عورتیں تھیں۔

2۔ھل ادلکم علی اھل بیت یکفلونه لکم وھم له ناصحون۔ فرددنه الی امه کی تقر عینھا۔

کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کی نشاندہی کروں جو تمہارے لئے اس کی کفالت کریں پھر ہم نے اسے اپنی ماں کی طرف لوٹا دیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں یہاں اہلِ بیت کا لفظ والدہء موسیٰ علیہ السلام کے لئے لایا گیا پھر اس کی تائید آیت کے دوسرے حصے سے ہو گئی کہ ہم نے اسے والدہ کے پاس لوٹا دیا۔

شیعہ مفسر علامہ طباطبائی اپنی تفسیر المیزان میں اس آیت کی تفسیر لکھتا ہے۔

والمحصل انھا قالت ھل ادلکم علی اھل بیت کذا الفوا بالقبول خدمتھم علی امه فسلموہ الیه فردو ابنه الی امه بنظم القرآن۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اس لڑکی نے کہا کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے گھر آنے والی کی طرف نہ کروں جو اس طرح کا ہو یعنی اہلِ بیت کی طرف اسکی ماں کی خدمت کو انہوں نے قبول کر لیا اور انکو ماں کا سپرد کر دیا نظم قرآن سے واضح ہے۔

یعنی اہلِ بیت سے مراد والدہء موسیٰ علیہ السلام ہے اور تفسیر منہج الصادقین:

ھل ادلکم علی اھل بیت۔

بر اہل خانہ کہ از روئے شفقت یکفلونہ در پزیر ند ایں کو دک رالکم برائے شمادھم وآں اھل بیت۔

ظاہر ہے کہ مراد اہلِ بیت سے اہلِ خانہ ہیں اور یہ وہی ہے جسے دودھ پلانا سونپا گیا اور وہ دونوں مفسرین نے اہلِ بیت کی تفسیر جوتے ہوئے تسلیم کیا کہ:

  1.  اہلِ بیت سے مراد والدہء موسیٰ ہے۔
  2. اہلِ بیت کا لفظ اسم جنس ہے قلیل و کثیر پر صادق آتا ہے۔
  3.  اہل کا لفظ مذکر ہے اس لئے مذکر کی ضمیر اہلِ بیت کی طرف راجع ہوئی۔

واحد جمع:

گزشتہ بحث سے واضح ہو گیا کہ مونث کے لیے مذکر کی ضمیر کا استعمال لفظ اہل کے مذکر ہونے کی وجہ سے قرآنِ کریم میں جا بہ جا ہوا ہے۔

اب یہ دیکھتے ہیں کہ واحد کے لیے جمع کی ضمیر کا استعمال بھی ہوا ہے۔

  1. اِنِّىۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ساٰتیکم منھا بخبر الخ۔(سورة القصص آیت نمبر 29)۔
  2.  اِذ قَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ الخ۔(سورة طٰہ آیت نمبر10)

دونوں جگہ مخاطب صرف بیوی ہے مگر ضمیر جمع استعمال ہوئی ہے۔

شیعہ مفسر طباطبائی اس کی تفسیر کرتے ہیں۔

اذ قال موسی لاھله امراته وھی بنت شعیب علی ما ذکرہ اللہ تعالیٰ فی سورۃ قصص ان خطابھا بقوله اتیکم بصیغۃ الجمع لاقامتھا مقام الجماعۃ۔

جب موسی علیہ السلام نے اپنی اہل یعنی بیوی سے فرمایا جو شعیب علیہ السلام کی بیٹی تھی کہ جیسا کہ سورۃ قصص میں بیان ہوا ہے حضرت موسی علیہ السلام کو صیغہ جمع سے خطاب کرنا اس وجہ سے تھا کہ بیوی کو قائم مقام جماعت کے رکھا۔

اور شیعہ کافر علی طبرسی کی تفسیر مجمع البیان میں ہے:

اذقال لاھله وھی امراته بنت شعیب وانما قال لامراته اتیکم علی لفظ خطاب الجمع لانه اقامه مقام الجماعۃ فی الانس بھا والسکون الیھا فی الامکنۃ الموء حشۃ۔

خلاصہ یہ کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی بیوی کو جمع کے صیغے سے خطاب اس لیے کیا کہ اسے قائم مقام جماعت کے سمجھا بوجہ انس کے وحشت ناک مقام پر اس وجہ سے انہیں جوس کو ملتا تھا وہ ویسا تھا جو کسی جماعت کی وجہ سے ہو۔

  1.  اہل بیت کا لفظ بیوی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
  2. اولاد کے لیے تبعاً و مجازاً استعمال ہوتا ہے۔ 
  3.  مونس کے لیے مذکر کی ضمیر کا استعمال ہوتا ہے۔
  4.  واحد کے لیے جمع کا صیغہ استعمال ہوتا ہے کیونکہ واحد کو قائم مقام جماعت کے تصور کیا جاتا ہے۔

علمائے اہلِ سنت کا عقیدہ ہے نص قرآن سے تو اہلِ بیت صرف اور صرف حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ ہیں ازواجِ مطہراتؓ کے علاوہ قرآنِ کریم میں کسی کو اہلِ بیت نہیں کہا سیدنا علیؓ سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا حسنینؓ حضورﷺ کہ دعا کی وجہ سے اہلِ بیت میں داخل ہوئے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ازواجِ مطہرات اہلِ بیت سے خارج ہو گئیں یہ ادعائی اہل بیت ہیں جو حضورﷺ نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کر کے اہلِ بیت میں داخل کرائے یہ نص قرآن سے خارج ہے۔

اللھم ھؤلاء اھل بیتی اذھب عنھم الرجس وطھرھم تطہیرا فھذا دعوۃ من النبیﷺ بعد نزول الآیۃ احب ان یدخلھم فی الآیۃ التی خوطب بھا الازواج فذھب الکلبی ومن وفقه فصیرھا مالھم خاصۃ وھی دعوہ لھم خارجۃ من التنزیل۔

حضورﷺ نے دعا کی کہ اللہ یہ میرے اہلِ بیت ہیں ان سے ناپاکی دور کر اور ان کو کماحقہ پاک کر نزولِ آیتِ قرآنی میں ازواجِ مطہراتؓ کو خطاب کیا گیا ہے اس میں یہ بھی داخل فرما دیں شیعہ کلبی اور اس کے ساتھ ان کو ہی مختص کرتے ہیں حالانکہ یہ دعا ہے ان چار کے لیے جو نص قرآن سے خارج ہے۔

صفحہ 11 از 12