آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 12 از 12

کلبی وغیرہ نے اللہ جانے یہ کیسے سمجھ لیا کہ حضورﷺ میری دعا کی کہ اللہ! جن کو آپ نے اہلِ بیت میں داخل کیا ہے ان کو تو خارج کر دیجئے اور جب گھر خالی ہو جائے تو ان چار کو داخل کر دیجیے پھر بیت وہ ہوگا اور اہلِ بیت یہ ہوں گے۔

حضورﷺ کی دعا سے تو محبت و شفقت کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ نے جب میری بیویوں کو اس قدر انعامات سے نوازا تو میرے ان عزیزوں کو بھی ان انعامات کا مورد بنانے کے لیے اسی دائرے میں داخل فرما دیجئے۔

اگر یہی مختص اہلِ بیت ہیں تو حضورﷺ نے یہ دعا کیوں کی کہ اذھب عنھم الرجس وطھرھم جب کہ اس سے بیشتر اللہ تعالیٰ اعلان کر چکا ہے یہ کیا کہ جو دے چکا ہے وہی مانگا جا رہا ہے پھر یہ بھی ایک پہیلی ہے کہ چار تو چادر اوڑھ لینے سے اہلِ بیت میں شامل ہی نہیں بلکہ یہی اہلِ بیت ہو گئے تو دو امام جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے وہ کیسے اہلِ بیت میں شامل ہوئے کلبی وغیرہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پہلے دعا ہوئی آیت نازل ہوئی مگر صرف کہہ دینے سے حقائق تو نہیں بدل جایا کرتے اس کول کے لیے کوئی صحیح حدیث مسلم جان بین آج تک پیش نہیں کی جا سکی۔

شانِ نزول:

قرآنِ کریم کی یہ کسی آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے یہ امر صرف ممد ہی ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کا لحاظ رکھنا فہمِ قرآن کے لیے اور دیانت کے نقطہء نظر سے ضروری ہے کہ وہ کون سے حالات تھے جن میں یہ آیت نازل ہوئی؟ وہ کیسا ماحول تھا؟ وہ کیسے اور کون لوگ تھے جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی اس اصول کے تحت اس آیت کے متعلق بھی دیکھ لینا ضروری ہے۔

تفسیر ابنِ کثیر 483:3:

انما یرید اللہ لیذھب الخ وھذا نص فی دخول ازواج النبیﷺ فی اھل البیت ھھنا لانھن سبب نزول ھذہ الآیۃ وسبب النزول داخل فیه۔

یہ آیت ازواجِ رسولﷺ کے اس جگہ اہلِ بیت میں داخل ہونے کے بارے میں نص صریح ہے چونکہ آیت کے نزول کا سبب ہی ازواجِ مطہراتؓ ہیں لہٰذا آیت کا سببِ نزول آیت میں داخل ہے۔

شیعہ کو یہ حقیقت تسلیم نہیں وہ کہتے ہیں کہ:

  1. یہ جملہ ندائیہ خبریہ ہے۔
  2.  اس جملے کے ماقبل اور مابعد امر و نہی ہے جو جملہ انشائیہ ہے۔
  3.  جملہ انشائیہ کا عطف خبریہ نا جائز ہے۔

لہٰذا جملہ انما یرید اللہ الخ کا تعلق نہ ماقبل سے ہے نہ ما بعد سے اس لحاظ سے یہ جملہ یہاں اجنبی ہے۔

اس دعویٰ کی جان یہ تو ہے کہ عطف ناجائز ہے مگر کوئی لاکھ کوشش کرے یہاں عطف دکھائی ہی نہیں دیتا اول تو کہیں واؤ عاطفہ موجود نہیں اور اگر اپنے پاس سے واؤ عاطفہ لگا لو تو دیکھو ک لے کہ کیا تک بنتی ہے جب عطف موجود نہیں تو معلوم ہوا کہ دعوے میں جان ہی نہیں اس کی حقیقت یہ کہ انما یرید اللہ الخ جملہ خبریہ ندائیہ سابقہ جملہ انشائیہ کی علت واقع ہوا ہے سابقہ جملہ واقمن الصلوۃ ورسوله معلل ہے یعنی تم نماز پڑھو زکوۃ دو الخ اس کے بدلے میں تمہیں یہ انعام دیا جائے گا انما یرید اللہ الخ ان دونوں جملوں کا تعلق معلوم کرنا ہو تو ذرا چشمِ تصور کے سامنے وہ منظر لاؤ کہ 6۔7 فوٹو اونچے کچے مکان رہائش کے لیے پیوند لگے کپڑے لباس کے لیے فاقوں پر فاقے غذا کے لیے پھر حکم یہ کہ ان حالات میں بھی اللہ و رسولﷺ کی اطاعت پر ڈٹی رہو دنیوی آسائش کا نام بھی زبان تک نہ لانا ازواجِ مطہراتؓ نے یہ سب کچھ منظور کیا اور کر کے دکھایا اور انعام کا ذکر آیا تو یہ اجنبی معلوم ہونے لگے اور انعام کے مستحق وہ ٹھہرے جنہیں سرے سے خطاب ہی نہیں کیا گیا یا جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔

اگر یہ جملہ یہاں اجنبی ہے تو اس کی اصلی جگہ کون سی ہے ؟ کہاں سے اٹھایا گیا کب اٹھا کر یہاں رکھا گیا کسی کو کانوں خبر بھی نہ ہوئی اور انا له لحافظون ضمانت دینے والا اللہ بس دیکھتا رہ گیا۔

کلام عرب میں جملہ خبر ندائیہ علت جملہ انشائیہ کی واقع ہوتا ہے قرآن وہ حدیث اور کلام بلغاء میر جا رہی ہوں ساری ہے مثلاً

اضرب زیدا انه فاسق فاجر۔                  یا 

اطعنی یا غلام انی ارید ان اکرمک۔

چلیے ازواجِ مطہراتؓ کا ذکر آئے تو یہ جملہ اجنبی ہو تو سیاق و سباق میں کہیں ائمہ کا ذکر ڈھونڈو اور وہاں اس جملہ کو فٹ کر کے دیکھو ایسا کرنے سے ایک اور دقت پیش آئے کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق تو امام پیدائش سے پہلے ہی معصوم ہوتا ہے اور اس معصوم کو پاک کرنے کے ارادہ کا اظہار تو اجنبی نہیں ہوگا بالکل بر محل ہوگا؟

پھر یہ عمل قابلِ غور ہے کہ اگر یہ اجنبی ہے تو منافی فصاحت و بلاغت ہے کیا قرآن کریم کے متعلق کسی مومن کا یہ عقیدہ ہو سکتا ہے؟

معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان کسی ایسے فاصل کا رہ جانا جو با اعتبار اعراف کے اجنبی ہو نحویوں کے نزدیک بااتفاق جائز ہے مگر انما یرید اللہمیں اول تو عطف نہیں پھر یہ فصل بلحاظ اعراب کے اجنبی نہیں بلکہ یہ تو بلحاظ موارد مضامین اور موضوع کے اجنبی ہوگا اس کے ماقبل اور ما بعد موضوع و مضمون ایک چلا آرہا ہے ابھی وہ ختم نہ ہوا درمیان میں ایک غیر متعلق موضوع شروع کر دی ہے پھر وہ پہلا موضوع شروع کر دیا یہ متکلم بلیغ کی شان کے خلاف ہے تعالیٰ من ذالک علوا کبیرا۔

ازالہ رجس اور تطہیر: 

ان دو الفاظ کے متعلق شیعہ کے نزدیک اس سے مراد عطائے عصمت ہے یعنی معصوم بنانا ہے اور اہلِ سنت کا یہ کہنا کہ اس سے مراد مغفرت ذنوب ہے۔

دوسری بات جو اس کا تتمہ ہے کہ اہلِ بیت سے مراد یہ چار حضرات ہیں۔

مگر ان دعووں کا ثبوت لغت عرب کلام عرب قرآن کریم اور عرف کسی ذریعے سے بھی پیش نہیں کیا جا سکتا نہ اب تک ان سے ہوا نہ آئندہ ہونے کا امکان ہے۔


صفحہ 12 از 12