آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 12

1۔ قرآنِ کریم نے جہاں بھی امہاتُ المومنینؓ کا ذکر فرمایا ہے ان کی زوجیت اور نکاح کی نسبت ذاتِ رسول موصوف بہ صفتِ نبوت کی طرف کی ہے صاف ظاہر ہے کہ زوجیت کی اضافت نبوت کی طرف ہے یعنی ان کی زوجیت کا تعلق نبوت سے ہے اور چونکہ مخلوق میں افضل ترین منصب نبوت کا ہے لہٰذا ان کی زوجیت میں بھی وہی عورتیں داخل ہوئیں جنہیں نبوت و رسالت سے پوری پوری مناسبت ہے نبی ظاہری اور باطنی گناہ سے معصوم ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے جسم کی پاکیزگی کا ایسا اہتمام کرتا ہے کہ مکھی جسے گندگی سے نسبت ہے اس کے جسم پر نہیں بیٹھ سکتی تو ظاہر ہے کہ جب نبی کی یہ شان ہے تو ازواجُ النبی دنیا کی محبت و زینت کی غلاظت لے کے نبیﷺ کے جسم سے کیسے مس کر سکتی ہیں لہٰذا اعلان کرایا گیا کہ اگر اس غلاظت کا شائبہ بھی تمہارے نہانخانہء دل میں کہیں پایا جائے تو میں تمہیں اپنے سے جدا کیے دیتا ہوں اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نبی کریمﷺ نے مخاطب ازواجُ النبیﷺ میں سے کسی کو اپنے سے جدا نہیں کیا لہٰذا نبی کریمﷺ کا یہ فعل ازواجِ مطہراتؓ کی پاکیزگی طہارت اور حفاظت عین المعاصی پر مہر ثبت کر دیتا ہے۔

اسی حقیقت کو دوسرے انداز میں ظاہر کر دیا کہ ازواجِ مطہراتؓ تمہارے گھر تو مہبط وحی ہیں لہٰذا محبت دنیا اور زینت دنیا کا یہاں گزر بھی نہیں ہو سکتا یہاں اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت اور دارِ آخرت کی فکر کے بغیر کسی چیز کا وجود ہی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

2۔ اس کے مقابلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے ذاتِ رسولﷺ کا ذکر کیا صفتِ نبوت کا ذکر نہیں کیا۔

چنانچہ فرمایا کہ:

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ‌ الخ۔(سورة التحریم آیت 10)۔

چونکہ ان عورتوں کو شانِ نبوت سے مناسبت نہیں تھی لہٰذا اول تو ان کی نسبت ذات کی طرف کی گئی پھر ان کو زوجیت سے علیحدہ کر دیا گیا اور رہتی دنیا تک مثال قائم کر دی۔

3۔ یہ صرف حضورﷺ خصوصیت اور ازواجِ مطہراتؓ کی خصوصیت ہے کہ انہیں ازواجُ النبی اور نساءُ النبی کے الفاظ سے خطاب کیا گیا قرآنِ کریم میں کسی نبی کی بیوی کو نبوت کی نسبت اور اضافت سے نہیں پکارا گیا مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیا گیا۔

وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ بِالۡبُشۡرٰى الخ۔(سورۃ ہود آیت نمبر 69)۔

پھر فرمایا:

وَامۡرَاَ تُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتۡ الخ۔(سورۃ ہود آیت نمبر 71)۔

یہاں 5 ضمیر کا مرجع بھی ذات ابراہیم علیہ السلام مذکور ہے۔

اسی طرح حضرت زکریا علیہ السلام کے قصے میں ان کی زبانیں بیان ہوا ہے کہ:

وَامۡرَاَتِىۡ عَاقِرٌ‌ؕ الخ۔(سورة الِ عمران آیت نمبر40)۔

یہاں پہ بیوی کی نسبت نام زکریا علیہ السلام کی طرف ہے مگر قرآنِ کریم میں حضورﷺ کی ازواج کا جہاں ذکر آیا نبیﷺ کی اضافت سے آیا۔

  1. يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِك الخ۔
  2.  يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ الخ۔
  3.  اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ‌ الخ۔

(سورۃ الأحزاب آیت نمبر 6)۔

نبی کریم ﷺ کے ساتھ زوجیت کی نسبت اور نبی کریمﷺ کہیں گھر کے ساتھ اہلِ بیتؓ کی نسبت ان عورتوں کو ہی ہو سکتی ہے جن کے دلوں سے محبت دنیا نکال کر اللہ و رسولﷺ کی محبت یوں بسا دی گئی ہو کہ صرف وہی اس گھر میں رہنے کے قابل اور نبوت سے نسبت کی اہل قرار پائیں اور اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ جس دل میں اللہ اور رسولﷺ کی محبت جا گزیں ہو وہاں کوئی اور محبت کہاں ٹھہر سکتی ہے۔

اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً الخ۔(سورة النمل آیت نمبر 34)۔

مملکت دل پر جب اللہ و رسولﷺ کی محبت کا حملہ ہو تو وہاں سے دنیوی محبت کو ذلیل کر کے نکال باہر کر دینے کے سوا اور ہو ہی کیا سکتا ہے۔

4۔ ان آیات میں رب العالمین نے ازواجُ النبی کے لیے دو انعامات کا اعلان فرمایا اخروی اور دنیوی ازواجِ مطہراتؓ نے جب اللہ و رسولﷺ اور دارِ آخرت کا پہلو اختیار فرمایا تو اس کے انعام میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادہ کا اعلان فرما دیا کہ دارِ دنیا میں۔

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞(سورة الاخزاب آیت نمبر 33)۔

جب تم نے اپنے دل سے سب کچھ نکال کے اللہ اور رسولﷺ کی محبت کو اس میں بسا لینا پسند کیا تو میں تمہارے دلوں کو اس درجہ پاک کرنے کا اعلان کرتا ہوں کہ تمہارے اس پسندیدہ اور اختیار کردہ چیز کے بغیر ان میں اور کچھ بھی نہ رہنے پائے یہ انعام تمہیں دنیا میں عطا کیا جا رہا ہے۔

رہادوسرا پہلو فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞۔(سورة الاخزاب آیت نمبر 29)۔

اس میں اَعَدَّ صیغہ ماضی کا ہے یعنی میں نے اپنے علم ازلی سے یہ معلوم کر لیا تھا کہ تم اللہ و رسول ﷺ کو ہی اختیار کرو گے اس لیے میں نے اسی وقت سے تمہارے لیے جنت تیار کر رکھی ہے یہ انعام اخروی ہے اس انعام سے واضح ہو گیا ہے کہ امہاتُ المومنینؓ کا حضورﷺ زوجیت کا تعلق صرف دنیا تک محدود نہیں بلکہ عالمِ برزخ اور عالمِ آخرت می بی یہ تعلق قائم رہے گا۔

اس مقام پر چند ایک اور آیات کی طرف اشارہ کر دینا مناسب ہے۔

  • قال تعالیٰ لَا يَحِلُّ لَـكَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَلَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكَ حُسۡنُهُنَّ الخ۔ (سورۃ الأحزاب آیت نمبر 52)۔

ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان (موجودہ) بیویوں کی جگہ دوسری بیویاں کر لیں اگرچہ آپ کو ان (دوسریوں) کا حسن اچھا معلوم ہو۔

سنن الکبریٰ بہیقی 7:70 میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:

فان المرأۃ فی الجنۃ لاٰخر ازواجھا فی الدنیا فلذلک حرم اللہ علی ازواج النبی ان ینکحھا بعدہ لانھن ازواجه فی الجنۃ۔

صفحہ 2 از 12