آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 12

یعنی جنت میں عورت اس خاوند کو ملے گی جو دنیا میں اس کا آخری خاوند ہوا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی بیویوں پر بعد وفاتِ رسولﷺ نکاح کرنا حرام قرار دیا ہے کہ یہ اپنے نبیﷺ کی جنت میں بھی بیویاں ہوں گی۔

  • وَلَاۤ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا الخ۔

(سورۃ الأحزاب آیت نمبر 53)۔

یعنی حضورﷺ کے بعد کوئی شخص ان سے نکاح نہیں کر سکتا یہ امت کی مائیں ہیں۔

  •  وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ الخ۔ (سورۃ الأحزاب آیت نمبر 33)۔

نکاح کے بدستور قائم رہنے کی دلیل ہے۔

  • ازواجِ مطہراتؓ کا اللہ و رسولﷺ کو اختیار کر لینا بھی ان کی دائمی زوجیت رسولﷺ پر دال ہے اگر دنیا کی محبت ان کے دلوں میں ذرا بھر بھی پائی جاتی تو نبی کریمﷺ لازماً انہیں طلاق دے دیتے حضورﷺ کا طلاق نہ دینا ان کی حقیقی طہارت کی دلیل ہے۔

پھر آیت کے مذکورہ بالا ٹکڑے میں یعنی اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ میں مِنۡ بیانیہ ہے تبعیضیہ نہیں (مدارک) اور بیضاوی میں ذرا وضاحت ومن للتبیین لانھن کلھن من محسنات یعنی سب کی سب محسنات تھیں۔

جب محبت دنیا اور زوجیتِ نبیﷺ کا یکجا ہونا محال تھا تو یہ اجتماع نقیضین کیونکر ممکن ہو سکتا تھا چنانچہ شیعہ مفسر علامہ محمد حسین الطباطبائی نے اپنی بےنظیر تفسیر المیزان فی تفسیر۔

وقدرد دامر ھن بین ان یردن الحیاۃ الدنیا و زینتھا وبین ان یردن اللہ ورسوله والدار الآخرۃ وھذہ التردید یدل اولا ان الجمع بین مسعۃ الدنیا والعیش وصفائھا بالتمتع من الحیاۃ وزینتھا وزوجیۃ النبیﷺ فی بیته مما لا یجتمعان۔

اللہ تعالیٰ نے ازواجُ النبیﷺ کا حکم اور فیصلہ ترتیب کے طور پر بیان فرمایا ہے کہ یا تو وہ حیاتِ دنیا اور اس کی زینت کو اختیار کریں یا اللہ اور رسولﷺ اور آخرت کو اختیار کریں اور یہ ترتیب اول ہی اس پر دلالت کرتی ہے کہ دنیوی خوشحالی انتفاع دنیوی اور زینت دنیوی کے ساتھ زوجیتِ رسول اور بیتِ رسول میں رہنا محال اور اجتماع ضدین ہے۔

شیعہ مفسر کی اس وضاحت پر غور کریں کہ ازواجِ مطہراتؓ بیت میں رہیں یا رسولﷺ نے انہیں گھر سے نکالا یا اگر انہیں نکالا تو اہلِ بیتِ رسولﷺ کون ہوا اور تاریخ شاہد ہے کہ حضورﷺ یہ وفات کے بعد بیتِ رسولﷺ میں وہی رہیں لہٰذا امت کو جس طرح رسولﷺ مقدس و مطہر ملا امت کی مائیں بھی مقدس اور پاکیزہ ملیں جن کی تطہیر کا اعلان خود خدائے محمد ﷺ نے کر دیا۔

پھر یہی مفسر اپنی اسی تفسیر میں لکھتے ہیں:

یاایھا النبی آل لازواجک امر النبی ﷺ ان یبلغ آلایتین ازواجه ولازمه ان یطلقھن ویمتعھن ان اخترن الشق الاول ویبقیھن ان اخترن اللہ ورسوله والدار الآخرۃ۔

فرمایا: اے میرے نبیﷺ تم اپنے بیویوں کو ان دو آیتوں کا حکم سنا دو اور اللہ نے اپنے رسول پر فرض قرار دے دیا کہ اگر وہ شقِ اول یعنی محبت دنیا اور اس کی زینت اختیار کریں تو انہیں نفع دنیوی دے کر طلاق دے دو اور اگر وہ شقِ ثانی یعنی اللہ و رسولﷺ اور آخرت کو اختیار کریں تو انہیں زوجیت میں باقی رکھو۔

اور ظاہر ہے کہ نبیﷺ نے ازواجِ مطہراتؓ کو طلاق نہیں دی جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ انہوں نے اللہ و رسولﷺ اور دارِ آخرت کو اختیار کیا بیتِ نبویﷺ میں رہی الفضل ما شھدت به الاعداء۔

احکام کی تفصیل:

جب امہاتُ المومنینؓ نے شقِ ثانی اختیار کر لی تو آدابِ نبوت اور ان کی ذمہ داریوں کے متعلق احکام کا بیان شروع ہوا۔

يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ مَنۡ يَّاۡتِ مِنۡكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفۡ لَهَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِ الخ۔(سورۃ الأحزاب آیت نمبر 30)

انعام کے مقابلے میں سزا کا بیان فرمایا مگر آیت کہ اس حصے سے بھی گمراہی کے سامان فراہم کیے جاتے رہے یہ مادہ قضیہ شرطیہ میں ہے اور شرط اور جزا پر مشتمل ہے اور قضیہ شرطیہ کی شرط یعنی مقدم کا وقوع اور عدمِ وقوع برابر ہوتے ہیں یعنی وقوع مقدم و شرط ضروری نہیں اس طرح جزاء و تالی کا وقوع بھی ضروری نہیں جیسا ان کانت الخمسه زوجا کانت منقسمۃ بمتساویین یعنی اگر پانچ جفت ہوں تو ان کی تقسیم دو امر متساوی کی طرف ہوگی یہ عبارت تو درست ہے مگر اس پر دال نہیں کہ پانچ واقعی جفت ہیں جب یہ نہیں تو حقیقتاً منقسم دو امر مساوین کی طرف بھی نہ ہوگا دونوں کا وقوع محال ہے لہٰذا یہاں بھی یہی بات ہے کہ امہاتُ المومنینؓ سے نہ بے حیائی سے دور ہو گا نہ دو چند عذاب ہوگا۔

یہاں من یات میں من شرطیہ ہے جو وقوعِ شرط کو مستلزم نہیں تو جزا کیسے مرتب ہوگی اب اس کی مثالیں قرآنِ کریم سے ملاحظہ ہوں۔

  • لَئِنۡ اَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ الخ۔(سورۃ الزمر آیت نمبر 65)۔

یعنی انبیاء سے کہا گیا ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو اللہ آپ کے عمل ضائع کر دے گا۔

  •  وَلوۡ اَشۡرَكُوۡا لَحَبِطَ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞(سورۃ الانعام آیت نمبر 88)۔

اگر انبیاء شرک کریں گے تو اللہ ان کے اعمال ضائع کر دے گا۔

  •  قُلۡ اِنۡ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ الخ۔(سورۃ الزخرف آیت نمبر 81)۔

اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا۔

  •  لَوۡ اَرَادَ اللّٰهُ اَنۡ يَّـتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصۡطَفٰى مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ‌۔(سورۃ الزمر آیت نمبر 4)۔

اگر اللہ اپنی اولاد بناتا تو مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔

  • فَاِنۡ كُنۡتَ فِىۡ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ فَسۡـئَلِ الَّذِيۡنَ يَقۡرَءُوۡنَ الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكَ‌ۚ الخ۔(سورة يونس آیت نمبر94)۔

اگر آپ کو اس کے منزل من اللہ بے شک ہے تو ساب کا اہلِ کتاب کے علماء سے پوچھ لو۔

ان آیات میں شرط اور جزا دونوں غیر ممکن الوقوع ہیں۔

دوسرا حکم:

وَ قَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى الخ۔(سورۃ الأحزاب آیت نمبر 33)۔

صفحہ 3 از 12