آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 12

حکم ہوا کہ تم بیتِ النبیﷺ یعنی مرکزِ نبوت میں جمی رہو غیر ذمہ دار عورتوں کی طرح بے پردہ گھر سے باہر نہ جاؤ اور جاہلیت کے زمانے کی عورتوں کی طرح زینت کا اشتہار نہ دیتی پھرو اس سادہ سی ہدایت کا مطلب ظاہر ہے مگر جو طبائع تقربوا الصلوٰۃ پر رک جانے کی عادی ہیں انہوں نے یہاں بھی گریز کی راہ نکال دی اور دعویٰ کر دیا کہ جنگِ جمل میں جانا گھر سے نکلنا اور امام برحق سے لڑنا صریح بدکاری ہے۔

اگر گھر سے نہ نکلنے سے مراد یہی ہے کہ گھر کی چار دیواری سے قدم باہر رکھنے کی ممانعت ہے تو حیرت ہے کہ جس پر قرآن نازل ہوا اس ہستی نے قرآن کریم کا یہ مفہوم کیوں نہ سمجھا اگر یہی سمجھتے تو حجۃُ الوداع میں ام المومنینؓ کو گھر سے قدم باہر رکھے بغیر کیونکر شامل کر لیا گھر تو مدینہ میں ہے اور ام المومنینؓ حج کے لیے مکہ پہنچ گئیں اور رسولﷺ کو اتنی خبر بھی نہ ہوئی کہ آپ کی موجودگی میں نص کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ بھی بڑا ہی بے نیاز ہے کہ اپنے نبیﷺ کو قرآن کا مفہوم نہ بتایا اور ان کی لال بجھکڑوں کو اس حقیقت سے آشنا کر دیا۔

پھر اُم المومنینؓ کا مسجدِ نبویﷺ میں نماز پڑھنا ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیا یہ عمل بھی گھر سے باہر قدم رکھے بغیر ہی ہوتا کاش! یہ الٹی سیدھی باتیں بنانے والے نبی کریم ﷺ کا تو کچھ لحاظ رکھتے۔

راہِ جنگ میں جانا تو اس کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے اسد الغابہ میں سیدنا زبیرؓ کہ واقعات کا مطالعہ کیا جائے ہم نے اپنی کتاب تحذیر المسلمین میں اس کی تفصیل دے دی ہے۔

آئیے قرآنِ کریم سے امہاتُ المومنینؓ کے مرتبہ اور شان کے مطابق کچھ رہنمائی حاصل کر لیں:

قرآنِ کریم نے ازواجُ النبیﷺ کو امہاتُ المومنینؓ کا خطاب دیا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ سیدنا علیؓ بھی مومن ہیں لہٰذا ان کی ماں ہوئیں اس حقیقت کا اقرار شیعہ عالم کی زبانی سنیے۔

معنی الاخبار شیخ صدوق طبع ایران صفحہ 275:

فدخل عیینه بن حصین علی النبیﷺ وعندہ عائشهؓ فدخل بغیرِ اذن فقال له النبیﷺ فاین الا ستیذان قال ما استاذنت علی رجل من مضر منذادرکت ثم قال من ہذه الحمیرا الی جنبک فقال رسول اللہﷺ ھذہ عائشهؓ ام المومنینؓ قال عیینه افلا انزل لک عن احسن الخلق وتنزل عنھا فقال رسول اللہﷺ ان اللہ عزوجل قد حرم علی ذلک فلما خرج قالت له عائشهؓ من ھذہ یا رسول اللہﷺ قال ھذا احمق مطاع وانه علی ما تعین سید قومه۔

عیینہ بن حصین رئیس قبیلہء مضر نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سیدہ عائشہؓ نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھی تھی حضورﷺ نے فرمایا اجازت مانگنے کا حکم کیا ہوا؟ عیینہ نے کہا میں قبیلہ مضر کہ کسی مرد کے پاس ان کی اجازت نہیں مانگا کرتا جب سے بالغ ہوا ہوں پھر کہا اس سیدہ حمیرہؓ کی وجہ سے اذن طلب کروں؟ حضورﷺ نے فرمایا یہ سیدہ عائشہؓ ہیں ام المومنینؓ ہیں عیینہ نے کہنے لگا کیا میں آپﷺ کے لیے کوئی حسین عورت نہ لے آؤں اور آپ اس کو اطلاق دے دیں حضورﷺ یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پر طلاق دینا حرام کر دیا ہے جب وہ چلا گیا تو سیدہ عائشہؓ نے پوچھا یا رسول اللہﷺ یہ کون تھا؟ حضور نے فرمایا یہ احمق ہے اور اس کے جو لچھن تم نے دیکھے ہیں اس کے باوجود قوم کا سردار ہے۔

شیخ صدوق کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ:

  1.  حضورﷺ نے اپنی زبان سے سیدہ عائشہؓ کو ام المومنین فرمایا۔
  2. شیعہ عالم نے روایت بیان کی ہے جس سے ظاہر ہے کہ انہیں یہ حقیقت تسلیم تھی۔
  3. اس حقیقت کے دو گواہ اللہ اور رسولﷺ بھی کافی تھے مگر ضد کی کوئی حد تو مقرر نہیں لہٰذا تیسرے گواہ امام ہوئے چوتھا گواہ شیخ صدوق۔
  4.  یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ سیدہ عائشہ مومنوں کی ماں ہے ظاہر ہے کہ جو اسے ماں تسلیم نہ کرے اس کا ایمان سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔

یہاں یہ بات پیش رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا احسان جتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریمﷺ تمہارے روحانی باپ ہیں اور آپﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ مومنوں کی مائیں اگر سیدہ عائشہؓ کو معاذ اللہ کافر تسلیم کیا جائے تو اس احسان کا کیا کہنا کہ کافر عورت کو مومنوں کی ماں قرار دے دیا مگر عیینہ پر کوئی حماقت ختم تو نہیں ہو گئیخ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔

چنانچہ حال کے ایک دانشور محمد حسین ڈھکو نے اپنی کتاب التجلی میں لکھا ہے کہ:

ماں ہونا اور چیز ہے مومنہ ہونا اور چیز ہے یہ اور چیز بھی عجیب ہے اس سلسلہ کو وسیع سے وسیع تر کیا جا سکتا ہے مثلاً محمد حسین کا شیعہ ہونا اور چیز ہے انسان ہونا اور چیز ہے یا یوں کہیے شیعہ ہونا اور چیز ہے مومن ہونا اور چیز ہے امام ہونا اور چیز ہے مومن ہونا اور چیز ہے شہدائے کربلا کا قتل ہو جانا اور چیز ہے شہید ہونا اور چیز ہے اللہ ہونا اور چیز ہے خالق ہونا اور چیز ہے (معاذ اللہ) یہ اور چیز ایسی شیطان کی آنت ہے کہ اس کا سرا ڈھونڈے نہیں ملے گا۔

شیعہ کی تحقیق:

عیون اخبار الرضا شیخ صدوق طبع مطیع حیدریہ نجف اشرف صفحہ 155:

واما محمدﷺ وقول اللہ عزوجل وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیه وتخشی الناس واللہ احق ان تخشه فان اللہ عزوجل عرف نبیهﷺ اسماء ازواجه فی دار الدنیا واسماء ازواجه فی دار الآخرۃ وانھن امھات المومنین واحداھن من سمی له زینبؓ بنت جحش وھی یومئذ تحت زیدؓ بن حارثہ فاخفی اسمھا فی نفسه ولم یبدہ کیلا یقول احد من المنافقین انه قال فی امراۃ فی بیت رجل انھا آخری ازواجه من امھات المومنین وخشی قول المنافقین۔

جہاں تک نبی کریمﷺ اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے تو نے اس بات کو چھپا رکھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا ہے تو لوگوں سے ڈرتا ہے حالانکہ اللہ اور اس امر کا ذیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو ان کی تمام بیویوں کے نام بتائے تھے جو دنیا اور آخرت میں آپﷺ کی ازواج ہونے والی ہیں اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ امہاتُ المومنینؓ ہیں ان میں سے ایک سیدہ زینب بنتِ جحشؓ ہے جو اس وقت سیدنا زیدؓ بن حارثہ کے نکاح میں تھیں حضورﷺ نے ان کا نام ظاہر نہیں کیا تھا مبادا منافق یہ نہ کہیں کہ اس عورت کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ امہاتُ المومنینؓ میں سے ہے حالانکہ وہ دوسرے آدمی کے گھر اس کے نکاح میں ہے منافقین کے اس شور سے حضورﷺ کو اندیشہ تھا۔

صفحہ 4 از 12