آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 12

 شیعہ محقق کے اس بیان سے معلوم ہوا ہے کہ:

  1. نبی کریمﷺ کو ان تمام خواتین کے نام سے پہلے ہی آگاہ کر دی تھا جو آپﷺ کی ذندگی میں آپﷺ کے نکاح میں آنے والی تھیں۔
  2.  آپﷺ نے جن سے نکاح کیا وہی امہاتُ المومنینؓ ہیں۔
  3. وہی عالمِ برزخ اور آخرت میں آپﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ ہیں۔

ہاں یہ تو وہ ہیں جن کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:

  • لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ الخ۔(سورۃ الأحزاب آیت نمبر 32)۔

(تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو)

  • وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ‌ۚ الخ۔(سورۃ النور آیت نمبر 26)۔

(پاک مرد اور پاک عورتیں ایک دوسرے کے لیے ہیں) 

  •  لَا يَحِلُّ لَـكَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَلَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِهِنَّ الخ(سورۃ الأحزاب آیت نمبر 52)۔

یعنی ان کے بغیر کسی اور سے نکاح بھی نہیں کر سکتے۔اور ان کو طلاق بھی نہیں دے سکتے۔

  • خانہء رسولﷺ وہی ہے جو ازواجِ مطہراتؓ کا گھر ہے۔
  • گھر والیاں بس وہی ہیں جو خانہء رسولﷺ میں رہتی ہیں۔

یہ روایت ہے بعینہ انہی الفاظ میں انوارِ نعمانیہ 1:86 پر موجود ہے۔

ان تمام وضاحتوں کے بعد یہ عجیب بات ہے کہ نبی کریمﷺ کہ نکاح میں اس عورت کا آنا مقدر ہو چکا تھا جو معاذ اللہ کافر تھیں۔

رسول اللہﷺ کو برزخ اور آخرت میں معاذ اللہ کافر بیوی کا رکھنا مقدر کر دیا گیا اور معاذ اللہ کافر عورت کو امہاتُ المومنینؓ میں شمار کیا گیا۔

نتیجہ اس کے بغیر کیا نکل سکتا ہے کہ یہ واقعی حقیقی مومنہ ہے اللہ نے جیسا رسولﷺ انتخاب کیا ویسے ہی اس کی بیویاں انتخاب کیں اور وہ واقعی امہاتُ المومنینؓ ہیں ہاں کافروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

ریاض الجنتہ:

فروع کافی طبع نو لکشور لکھنوء 1:585 پر سیدنا جعفرؒ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ما بین بیتی و منبری روضۃ من ریاض الجنتہ۔

یعنی میرے گھر اور میرے ممبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔

اسی کے صفحہ 586 پر ہے کہ جمیل ابنِ دراج کہتا ہے:

سمعت ابا عبداللہ یقول قال رسول اللہﷺ ما بین منبری روضۃ من ریاض الجنتہ۔

پھر اسی صفحہ پر:

عن مرازم قال سالت ابا عبداللہ علیہ السلام عما یقول الناس فی الروضۃ فقال قال رسول اللہﷺ فیما بین بیتی و منبری روضۃ من ریاض الجنۃ۔

اسی کے صفحہ 585 پر سیدنا ابوبکرؓ حضرمی کا سوال اور سیدنا جعفرؒ کا جواب درج ہے:

قال قالت ھی روضۃ الیوم قال نعم انه لو کشف الغطاء لرأیتم۔

یعنی امام کی زبان سے نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ میرے گھر اور میرے ممبر کے درمیان کا حصہ جنت کا باغ ہے سیدنا ابوبکرؓ حضرمی میں سوال کیا ہے کہ جس گھر کا یہاں ذکر ہے وہاں تو آج روضہء رسولﷺ ہے تو امام نے فرمایا ہاں یہی روضہء رسولﷺ‎ جنت کا ٹکڑا ہے اگر تمہاری آنکھوں سے پردہ اٹھ جائے تو تم دیکھ لو کہ یہی روضہ جنت کا باغ ہے امام نے بتا دیا کہ یہی جنت کا باغ ہے جس میں آج سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ اپنے محبوب کے ہمراہ موجود ہیں مگر من مانی کرنے والے امام کی بات بھلا کیوں مانتے ہیں انہیں تو اصرار ہے کہ معاذ اللہ دو کافر یا منافق میں جنت میں معیتِ رسولﷺ‎ سے مشرف ہو رہے ہیں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا قانون نہیں بدلہ البتہ ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے جنہیں ان کے ایمان میں شک ہے امام کے اس فرمان کے مطابق جن لوگوں کی انکھوں پر پردہ ہے وہ روضہء اقدس کی ظاہری حقیقت بھی نہیں جانتے اس کے اندر کی حقیقت کیونکر پہچانیں گے مگر امام نے اس کے اندر کے حالات بھی کچھ تو بیان فرما دیے۔

اصول کافی طبع نو لکشور لکھنؤء طبع 1302ھ:

عن جعفری بن المثنی الخطیب قال کنت بالمدینۃ واسقف المسجد الذی یشرف علی القبر قد سقط والفعلۃ یصعدون وینزلون جماعۃ فقلت من منکم موعد ان یدخل علی ابی عبداللہ اللیلۃ فقال مھوان بن ابی نصر آنا وقال اسمعیل بن محمد الصیر فی انا فقلنا لھما سلاہ لنا من الصعود لنشرف علی قبر النبی ﷺ فلما کان من الغد لقینا ھما واجتمعنا جمیعا فقال اسمعیل قد سالناہ لکم عما ذکرتم فقال ما احب لاحد منکم ان یعلوا فوقه ولا امنه ان یری شیا یذھب منه بصرہ اویراہ قائما یصلی اویراہ مع بعض ازواجه۔

خلاصہ یہ ہے کہ روضہء اقدس کی چھت گر گئی تعمیر کا کام شروع ہو گیا جعفر بن المثنیٰ خطیب نے یہ منظر دیکھا ساتھیوں سے کہا کہ کون ہے جو سیدنا جعفرؒ کے پاس جا کر اجازت طلب کرے کہ اوپر چڑھ کر روضہء اقدس کے اندر ذرا جھانک لیں مہران اور اسماعیل نے حامی بھری دوسرے روز پھر جماعت شیعہ اکٹھی ہوئی تو اسماعیل نے کہا میں نے تمہارے لیے امام سے اجازت طلب کی مگر امام نے فرمایا کہ میں تم شیعہ میں سے کسی کے لیے اچھا نہیں سمجھتا کہ اوپر چڑھ کر روضہء کے اندر کے منظر کو دیکھے (یعنی حضورﷺ کو شیخینؓ کو یا ازواجِ مطہراتؓ کو) اور اندھا ہو جائے یا یہ منظر دیکھ کہ حضورﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں یا یہ دیکھے کہ حضورﷺ اپنی بعض ازواجِ مطہراتؓ کے ساتھ بیٹھے ہیں (باب النہی عن الاشرف علی قبر النبیﷺ

اس روایت میں جعفر بن المثنیٰ اور اس کی جماعت کہ متعلق ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں روضہء اقدس کے اندر جھانک لینے کا اشتیاق تھا دوسری طرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام ان کے حالات سے واقف تھے کہ لوگ دل کے اندھے تو ہیں ہی کہ روضہء اقدس کی ظاہری حیثیت بھی پہچان نہیں سکے اندر دیکھیں تو کہیں بصارت بھی جاتی نہ رہے امام کے الفاظ لا احب لاحد منکم بڑے معنیٰ خیز ہیں کیونکہ کام کرنے والے تو برابر کبھی اوپر جاتے کبھی نیچے اترتے مگر منکم کہہ کر امام نے واضح کر دیا کہ تمہارے لیے موزوں نہیں کیونکہ جب تم نے دیکھا کہ حضورﷺ اندر نماز پڑھ رہے ہیں یا اپنی ازواجِ مطہراتؓ کے پاس بیٹھے ہیں تو تم بھلا کہاں اس منظر کی تاب لا سکتے ہو۔

پھر یہ واضح ہو گیا کہ امام نے بتا دیا کہ یہ حصہ جنت کا باغ ہے اور اس باغ میں حضور اکرمﷺ بھی ہیں اور ازواجِ مطہراتؓ بھی ہیں یعنی دنیا میں حضور اکرمﷺ کی بیویاں برزخ میں بھی حضورﷺ کی بیویاں ہیں اور یہی بیتِ رسولﷺ ہے اور یہی اہلِ بیتِ رسولﷺ ہے

صفحہ 5 از 12