آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 12

قرآنی آیات اور احادیثِ نبویﷺ اور اقوالِ ائمہ سے ثابت ہو گیا کہ ازواجِ مطہراتؓ امہاتُ المومنینؓ ہیں اور برزخ اور آخرت میں بھی وہ حضورﷺ کے ساتھ ہیں مگر حیلہ جو طبائع کب چین سے بیٹھ سکتی ہیں۔

بیکار نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا

یا اپنا گریبان چاک یا دامن یزداں چاک

چنانچہ ایک شیعہ مجتہد علامہ باقر مجلسی نے بھی اپنی کتاب جلاء العیون اور حیات القلوب میں ایک رات سے پتہ اٹھایا ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ کو حکم دیا تھا کہ میرے بعد سیدہ عائشہؓ کو طلاق دے دینا نقطہ بہت باریک ہے مگر اس میں الجھاوے پڑے ہیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو ممانعت فرما دی تھی کہ آپ طلاق نہیں دے سکتے۔

گزشتہ اوراق میں شیخ صدوق کی معنی الاخبار سے عینیہ کا واقعہ بیان کیا جا چکا ہے جس میں حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ ان اللہ قد حرم علی مگر ملا باقر کے بیان سے معلوم ہوا کہ حضور اکرمﷺ اس حکم سے خوشی نہیں تھے بلکہ اپنے اوپر جبر کر کے اس کی تعمیل کرتے رہے کہ طلاق نہ دی کیا نبیﷺ کا مقام یہی ہے؟

دوسری بات یہ کہ اللہ کی پسند کے خلاف عمل کرنے کے لیے معاذ اللہ حضورﷺ حیلہ نکالا کہ چلو سیدنا علیؓ کے ذریعے یہ کام کر دو جو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔

تیسری بات یہ کہ دنیا میں کبھی کوئی واقعہ پیش آیا ہے کہ بیوی کسی کی ہو اور طلاق کوئی اور دے اور وہ طلاق واقع ہو جائے یعنی جو کام دنیا کا کوئی ذی ہوش انسان نری حماقت تو سمجھے اسے سیدنا علیؓ سے منسوب کر دیا جائے کیا سیدنا علیؓ کا یہی مقام ہے؟ بات وہیں بنی کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا اور وہ بھی آدھ موا۔

چوتھی بات یہ ہے کہ میرے بعد کے لیے کوئی مدت کا تعین بھی تھا یا نہیں ؟ اور سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کہ حکم کی تعمیل کی یا نہیں اگر تعمیل کی تو کب؟ جنگِ جمل میں تو شیعہ کے مطالبہ کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے فرمایا تھا کہ کون ام المومنین سیدہ عائشہؓ کے لیے قرعہ ڈالتا ہے مگر ان لوگوں کو شرم آ ہی گئی اور اپنے مطالبہ سے دستبردار ہو گئے پھر اس حکم کی تعمیل کا موقع کب آیا؟ ۔

1۔ طلاق والی بڑہانکنے کی نسبت اگر ملا باقر مجلسی یہی کہہ دیتے کہ اللہ کو بدا ہو گیا پہلے اسے علم نہیں تھا کہ سیدہ عائشہؓ بعد میں (معاذ اللہ) کافی ہو جائیں گی اس لیے غلطی سے پہلے ان کا نام حضورﷺ کی ازواج کی فہرست میں داخل کر دیا ایسے معذور اور ناقص العلم اللہ کے ماننے والے بھی تو ایسے ہی بے پیندے کے لوٹے ہی ہو سکتے ہیں۔

امہاتُ المومنینؓ کے متعلق چند شیعی روایات:

انوار نعمانیہ طبع ایران 1:282:

ومن ھذا کان ﷺ ابا المؤمنین و زوجاته امھات المؤمنین۔

اور یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ مومنوں کے باپ ہیں اور آپﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ مومنوں کی مائیں ہیں۔

یہاں شیعہ محدث نے باپ اور ماں کا ساتھ ساتھ ذکر کیا ہے اگر محمد حسین ڈھکوی کی منطق ایک حصے میں یوں چلی کہ ماں ہونا اور بات ہے اور مومنہ ہونا اور بات ہے اور کیا دوسرا حصہ ان کی زد سے بچ سکتا ہے کیا عجب کل وہ یا ان کا کوئی خلف یہ بھی کہہ دے کہ باپ ہونا اور بات ہے اور مومن ہونا اور بات ہے (نعوذ باللہ من ذلک الخرافات)۔

بہرحال جس طرح اللہ پاک نے مومنوں کی معنوی ابوت کے لیے نبی کریمﷺ کا انتخاب فرمایا اسی طرح ہم امومت کے لیے ازواجِ مطہراتؓ کا انتخاب فرمایا۔

2۔ انوار نعمانیہ صفحہ 125:

وکانت سورة قد وھبت لیلتھا العائشهؓ حین اراد رسول اللہﷺ طلاقھا وقالت لا رغبۃ لی فی الرجال وانا ارید ان احشر فی ازواجک۔

یعنی سیدہ سودہؓ کو جب رسول اللہﷺ نے طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو آپؓ نے اپنی باری سیدہ عائشہؓ کو دے دی اور حضورﷺ کی زوجیت میں رہنا اس لئے پسند کیا کہ قیامت میں حضور اکرمﷺ سے زوجیت کا تعلق موجود ہو اور زوجتہ النبیﷺ کی حیثیت سے حشر ہو۔

محدث الجزائرہ نے اس حقیقت کا اظہار کیا کہ دنیا میں حضورﷺ سے زوجیت کا تعلق حشر میں بھی رہے گا برزخ اور جنت دو ہی تو مرحلے ہیں جو حیاتِ دنیوی کے بعد پیش آنے والے ہیں اور تاریخی حقیقت ہے کہ حضورﷺ جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سیدہ عائشہؓ کے گھر میں تھے بلکہ سر ان کی گود میں تھا تو ظاہر ہے کہ جنت اور برزخ میں بھی ان کو معیت حاصل ہو گی غالباً یہی وجہ تھی کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے شیعوں کو روضہء رسولﷺ میں جھانکنے سے منع کیا کہ جب یہ حضورﷺ کو سیدہ عائشہؓ کے پاس سیدہ عائشہؓ کے گھر میں دیکھیں گے تو بغض کی آگ میں جل جائیں گے۔

(3)۔ مناقب آلِ ابی طالب ابوجعفر رشید الدین محمد بن علی شہر ابنِ آشوب 588ھ (268:1)۔

خوارج سے مناظرہ کرنے کے لئے سیدنا علیؓ نے اپنے شاگرد ابنِ عباسؓ کو ان کے پاس بھیجا تو خوارج نے سوال کیا کہ سیدنا علیؓ نے اصحابِ جمل سے کیوں جنگ کی؟ اور مالِ غنیمت کیوں نہ لیا؟ قیدیوں کو لونڈی غلام کیوں نہ بنایا؟ تو ابنِ عباسؓ نے جواب دیا:

انتسبون امکم عائشهؓ ثم تستعجلون منھا ما یستحل من غیر ھا فلئن فعلتم لقد کفرتم وھی امکم وان قلتم لیست بامنا فقد کذبتم لقوله تعالیٰ وازواجه امھاتھم۔

کیا تمہارے لیے جائز ہے کہ سیدنا عائشہؓ اس کو جو تمہاری ماں ہے قید کرتے پھرو پھر ان سے وہ سلوک کرو جو دوسری کنیز عورتوں سے کیا جاتا ہے اگر تم ایسا کرو تو کافر ہو اور اگر تم یہ کہو کہ ماں نہیں ہے تو تم نے قرآن کی تکذیب کی کیونکہ ارشادِ باری ہے کہ نبیﷺ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔

روایت ظاہرہ کے ام المومنین سیدہ عائشہؓ کی توہین کرنا کفر ہے اور ماں نہ کہنا قرآن کی تکذیب ہے۔

معلوم ہوتا ہے جناب ڈھکو صاحب نے قرآنی تکذیب سے بچنے کے لیے ماں تو کہہ دیا ہے مگر کفر سے بچنے کے لئے کوئی تدبیر ہاتھ نہ آئی اس لئے بیچارے سے یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ قید کرنا تو توہین ہے کیا انہیں غیر مومنہ کہنا بھی توہین ہے یا نہیں؟ لہٰذا بڑی بے باکی سے کہہ دیا کہ مومنہ ہونا اور چیز ہے انہوں نے سوچا ہو گا کہ کفر کوئی توپ تو نہیں کہ جان چلی جائے ان تین حرفوں سے مرکب لفظ میں کہاں کوئی بارود بھرا ہے۔

حقوقِ والدین:

صفحہ 6 از 12