آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 7 از 12

جو مرد اور عورت شرعی قواعد کے تحت خاوند بیوی بنتے ہیں اور طبعی قانون کے تحت ماں باپ بنتے ہیں ان کی تعظیم و تکریم کا یہاں تک اہتمام ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے توحید کے ذکر کے بعد اس کا بیان فرمایا:

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ؕ اِمَّا يَـبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا‏ ۞(سورۃ الاسراءآیت نمبر 23)۔

یعنی اولاد کا فرض ہے کہ ماں باپ کو اف تک نہ کہیں۔یعنی ذرا سی ایذا بھی نہ پہنچائیں خواہ وہ جسمانی ہو یا ذہنی۔

اب ذرا اس حقیقت کو سامنے رکھیے کہ باری تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میں اعلان کر کے جن عورتوں کو مائیں قرار دیا ہے ان کی تعظیم و تکریم کس درجے کی ہونی چاہیے اس اصول کو سامنے رکھیے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ:

  1. کیا سیدنا علیؓ مومن نہ تھے؟ جواب ظاہر ہے کہ بڑے اونچے درجے کے مومن تھے۔
  2.  کیا سیدہ عائشہؓ ان کی ماں نہ تھی؟ کیوں نہیں۔
  3. تو پھر آپؓ نے اپنی ماں کے خلاف جنگ کیوں کی؟۔

اگر یہ کہا جائے کہ وہ تو خلیفہء برحق کے خلاف خروج کر بیٹھی تھیں اگر اسے صحیح فرض کر لیا جائے گو یہ واقعتہً غلط ہے پھر بھی ولا تقل لھما اف کا یہ تقاضا تھا کہ بیٹا ماں کے پاس جاتا واقعات کا صحیح نقشہ پیش کرتا اور ادب سے حالات کو بہتر بنانے کی تجویز پیش کرتا تو سیدنا علیؓ نے یہ رویہ کیوں نہ اختیار کیا؟۔ 

جب جنگ کے بعد ماں کی تکریم کا لحاظ رکھتے ہوئے لونڈی نہ بنایا تو پہلے جنگ ہی کیوں کی؟ ان سوالات کا جواب اس کے بغیر اور کوئی نہیں کہ نہ تو سیدہ عائشہؓ کی طرف سے عمداً جنگ چھیڑی گئی نہ سیدنا علیؓ کی طرف سے عمد پایا جاتا ہے دونوں کو دھوکہ دیا گیا اور دھوکہ دینے والے وہی تھے جنہیں ان کی صلح میں اپنی موت نظر آرہی تھی۔

کتابِ الہٰی سے مزاق:

اس سلسلہ مضمون کی ابتداء اس دعوت سے ہوتی ہے کہ ازواج النبیﷺ کے سامنے راحت دنیا اور محبت اللہ و رسولﷺ دو طرفہ زندگی پیش کر کے اختیار دیا گیا کہ ان میں سے جو پہلو چاہیں اختیار کر لیں انہوں نے دوسرا پہلو اختیار کیا تو اس ذندگی کی ذمہ داری کے سلسلے میں ہدایات دی گئیں درمیان میں ان کے اس حسنِ انتخاب سے خوش ہو کر انعامات کا اعلان کیا گیا ان تمام کڑیوں کا اجمالی بیان ہو چکا مگر درمیان میں ایک آیت کے ایک خاص حصہ کی تعبیر کچھ انداز سے عرصہ سے کچھ لوگوں کی طرف سے کی جا رہی ہے کہ اسے قرآن کے ساتھ مذاق کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

وھو ھذا اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا۞(سورة الاخزاب آیت نمبر 33)۔

اس حصہ کی تعبیر کچھ اس انداز سے کی گئی کہ اگر اسے موجودہ عدالتی زبان میں ادا کیا جائے تو اسے موجودہ عدالتی زبان میں ادا کیا جائے تو اسے قبضہ مخالفانہ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اگر ایک گھر میں کچھ لوگ بس رہے ہوں اور ان سے کہا جائے اپنے ان چند عزیزوں کو بھی اپنے ہاں بسا لو تو کوئی عیب کی بات نہیں مگر صورت یوں ہو کہ کچھ لوگ گھر والوں کو نکال باہر کریں اور اپنی پسند کے کچھ آدمی لا کر بسا دیں اور شور مچانا شروع کر دیں کہ گھر والے تو یہی ہیں تو ان کے اس شور سے متاثر ہو کر شاید وہ لوگ تو مان لیں جنہیں حقیقت کا علم نہ ہو مگر ان کے مان لینے سے حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی۔

اسی قسم کی صورت یہاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو گھر والے فرمایا ان اللہ کے بندوں نے کہا ہرگز نہیں بلکہ گھر والے تو وہ ہیں جو گھر سے باہر ہیں اندر والوں کو گھر والے کون کہہ سکتا ہے اس اجمال کی تفصیل سمجھنے کے لئے آیت کے اس جزو کے چار امور قابل غور ہیں۔

اول ارادہ الہیٰ دوئم اذہاب الرجس سوئم اہلِ بیتؓ چہارم تطہیر ان چاروں امور پر تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔

یار لوگوں کا کہنا ہے کہ اہلِ بیتؓ سے مراد چار اشخاص ہیں (جو دوسرے الگ گھر میں رہنے والے ہیں) اور اذھاب رجس سے مراد معصوم بنا دینا ہے یعنی دل ہی دل میں اللہ سے سودا ہو گیا کہ اہلِ بیتؓ ہم بناتے ہیں معصوم تم بنا دے مگر لطف یہ کہ نہ یہ ہوا نہ وہ اور اللہ کی بات جہاں کی وہاں رہی۔

1۔ ارادہ:

اس لفظ کی تفسیر میں شیعہ مفسر محمد حسین طباطبائی نے آپکی تفسیر المیزان فی تفسیر القرآن کہ ارادہ سے مراد ارادہ تکوینی ہے شرعی نہیں یعنی ان چار حضرات کو اللہ تعالیٰ نے تقدیر ازلی میں روزِ ازل سے ہی معصوم بنا دیا تھا۔

مگر یہ علمی بات ہے اور علم بعد میں اٹکل سے کام نہیں چلا کرتا حقیقت یہ ہے کہ تکوین اور ارادہ اللہ تعالیٰ کے دو اوصاف ذاتیہ ہیں ان دو کو ایک وصف سمجھنا نری خوش فہمی ہے امرِ تکوینی سے ہی مکونات وجود میں آتے ہیں مگر جب تک ارادہ کا تعلق قائم نہ ہو جائے وجود کا ہونا ماحول اور ترجیح بلا مرجع ہے کسی وجود کا ہونا ارادہ سے تعلق رکھتا ہے ارادہ ہی ترجیح پیدا کرتا ہے پھر ارادہ سے مراد مختلف نہیں ہو سکتی ارادہ باری تعالیٰ کس صفت کا دین ہے مگر یہ تعلق حادث ہے کیونکہ وہ مراد و مکون حادث ہے ارادہ کا تعلق اس کے ساتھ اپنے زمانہ اور وقت مقررہ پر ہوتا ہے جیسے ثواب عذاب کا ایک وقت ہے۔

وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا۞(سورة الاسراءآیت نمبر15)۔

پھر عصمت ایک صفت ہے جو اپنے آپ سے پہلے موصوف کو چاہتی ہے بغیر موصوف کے صفت کا قیام محال ہے اور صفت کے موصوف کے لیے عاقل بالغ ہونا فرض ہے کیونکہ عوامر و نواہی حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا تعلق عاقل بالغ سے ہوتا ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ عصمت کا وجود احکام باریک کے وجود پر موقوف ہے تو ظاہر ہے عصمت کا تعلق بھی امورِ شرعیہ سے ہوا کوئی فرضی تقدیری نہیں جیسا کہ شیعہ کا خیال ہے لہٰذا ارادہ سے مراد ارادہء شرعی تقدیری نہیں اگر اس کے برعکس تسلیم کیا جائے تو الفاظ یوں ہوتے۔

انما اراد اللہ واذھب عنکم الرجس واطھرکم۔

صفحہ 7 از 12