آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 8 از 12

یعنی سب ماضی کے صیغے ہوتے مگر یہاں تو سب مضارع کے صیغے گئے ہیں جو اس حقیقت پر دال ہے کہ یہ ان انسانوں کے حق میں نازل ہوئے ہیں جن سے گناہ برائی خلاف شرع محمدیﷺ اور مخالفت اللہ اور رسولﷺ کا صدور ہو سکتا ہے اگر ان سے گناہ کا صدور ہو سکتا ہی نہیں تو ان سے کس رجس کو دور کرنے کا ارادہ ہے جس کے دور کرنے کا ارادہ کیا جا رہا ہے وہ چیز ہی موجود نہیں تو دور کسے کیا جائے گا جب یہ چار حضرات نزولِ قرآن سے پہلے ہی پاک تھے تو اب نزول قرآن کے وقت ان کو پاک کرنے کا ارادہ کرنے کے کیا معنی؟ یہ الفاظ تو وجود ذنب کو چاہتے ہیں جن سے گناہ کا صدور ہو سکتا ہے ورنہ پاک کو پاک کرنے کا ارادہ تو تحصیل حاصل ہے۔

چونکہ یہ حکم مکلفین کے لیے ہے نہ بالغوں کے لیے نہیں لہٰذا چار میں سے دو یعنی سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ تو اس کے تحت آ ہی نہیں سکتے ان کی پیدائش 3 ہجری 4 ہجری میں ہوئی اور آیت 5 ہجری میں نازل ہوئی شیعہ کے نزدیک 7 ہجری میں نازل ہوئی تین چار سال کا بچہ تو بہرحال غیر مکلف ہے لہٰذا اسے پاک کرنے کا کوئی مطلب ہی نہ ہوا۔

اذہاب و تظهیر: پھر ایک اور الجھن پیدا ہوتی ہے کہ شیعہ کا عقیدہ ہے کہ امام تو وقتِ پیدائش سے پہلے معصوم ہوتا ہے اور معصوم ہی پیدا ہوتا ہے اور آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ نزولِ آیت کے وقت سے پاک ہوں گے پھر اس وقت بھی ارادہ کیا ہے اس ارادہ کو عمل میں کب لایا گیا اس کا کوئی ذکر نہیں پھر ایک اور سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ اگر اذھاب رجس اور تطہیر کے معنیٰ معصوم بناتا ہے تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معصوم ہوں گے کیونکہ ارشاد باری ہے: 

وَلَكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيم نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ الخ۔(سورة المائدہ آیت نمبر 6)۔

 پھر فر مایا: وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ الخ (سورة الانفال آیت نمبر 11)

 یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں تو صرف تعمیر کا اعلان نہیں ہوا بلکہ اتمامِ نعمت کا ذکر بھی ہے جو ایک جامع کلمہ ہے تمام انعام باری کو شامل ہے اور آیتِ تطہیر میں تو اس کا ذکر نہیں اور یہ انعام تو حضرت انبیاء علیہم السلام صدیقین شہدا اور صالحین پر ہوتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ مخاطب حضرت یوسف علیہ السلام ہیں: 

وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ كَمَا أَتَمَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ الخ (سورة یوسف آیت نمبر:6)

پھر ایک اور گرہ پڑ جاتی ہے کہ آیت میں خطاب حاضرین سے ہے عنكم يطهر كم لہٰذا نو امام تو اس آیت کے تحت آ ہی نہیں سکتے کیونکہ نزولِ آیت کے وقت وہ پیدا ہی نہیں ہوئے تھے معدوم کو مخاطب کون کرتا ہے ائمہ کی تعمیر تو خیر دوسری چیز ہے ہماری تحدی ہے کہ شیعہ کتب سے ائمہ کا مذہب ہی کوئی ثابت کر دے کسی خاص مذہب کی تخصیص نہیں کوئی مذہب ہی ہو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

3۔ اہلِ بیتؓ:

اہلِ ملکی اور آلِ شی ء واحد ہیں آل کی تصغیر اھیل آتی ہے اور تصغیر شے کو اپنے اصل کی طرف لٹا دیتی ہے اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ لغت میں تفسیر میں عرف میں اہل بیت سے کیا مراد لی جاتی ہے۔

(1۔ درۃ النجفیہ شرح نہج البلاغتہ طبع نجف اشرف صفحہ 15)۔

المطلب الثانی فی بیان المراد باھل البیت المذکور کور فی قوله تعالیٰ انما یرید اللہ الخ وقبل الشروع فی استدلال لابد ان یعلم ان نزاع الخاصۃ والعامۃ العمیالیس فی صدق اللفظ بحسب العرف واللغۃ لظھور صدق اھل البیت لغۃ و عرفا علی النساء وغیرھا لان اھل البیت فی اللغۃ سکانه بل فی المراد واستدل الجمھور علی ان المراد فی الآیۃ ازواج النبیﷺ باسلوب الکلام قبلھا وبعدھا وذالک مخالف روایۃ ودرایۃ۔

آیتِ تطہیر میں جو اہلِ بیتؓ کا لفظ آیا ہے اس کی دلیل شروع کرنے سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ خاص و عوام جو اندھے ہیں ان کا اختلاف لفظ اہلِ بیتؓ کے ان معنوں میں نہیں جو لغت یا عرف میں لیے جاتے ہیں کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ اہلِ بیتؓ کا لفظ لغت اور عرف دونوں میں عورتوں پر بولا جاتا ہے اس بنا پر کہ لغت میں یہ لفظ گھر میں رہنے والوں پر بولا جاتا ہے بلکہ تنازعہ اس میں ہے کہ اس سے مراد کون ہے اور جمہور اسلام کا مذہب ہے کہ آیتِ قرآنی سے حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ مراد ہیں اور یہ استدلال قرآنِ کریم کی ظاہر آیت اور راندش کلام سے جو ما قبل اور ما بعد سے واضح ہے اس پر مبنی ہے اور یہ دلیل ٹھیک نہیں کیونکہ روایت اور درایت کے خلاف ہے۔

اس بیان میں تین امور تسلیم کیے گئے ہیں۔

  1.  لغت کے اعتبار سے اہلِ بیتؓ سے مراد عورتیں ہیں جو گھر میں رہنے والی ہیں۔
  2. عرف کے لحاظ سے مراد یہی ہے۔
  3. جمہور اسلام راندش کلام اور لغت و عرف کی بنا پر یہی معنیٰ لیتے ہیں مگر آخر میں کہہ دیا میں نہ مانوں۔

(2۔ شرح نہج البلاغہ علامہ میشم بحرانی طبح ایرانی 1:100)۔

اقول اختلف الناس فی المراد باھل البیت فی قوله تعالیٰ انما یرید اللہ الخ فقال الجمھور ان نساء النبیﷺ مرادات بھذا الآیۃ ومن الناس من خصصھا بھن مستدلین بسیاق الکلام قبلھا وبعدھا واتفقت الشیعۃ علی انھا خاصۃ بالا ریعۃ وھو قول ابی سعید الخدری۔

میں کہتا ہوں کہ آیتِ تطہیر میں جو اہلِ بیت کا لفظ آیا ہے اس کی مراد میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے جمہور اہلِ اسلام نے کہا ہے کہ اس سے مراد ازواجِ مطہراتؓ ہیں اور بعض نے اہلِ بیتؓ کا لفظ نبی کریمﷺ کی بیویوں سے خاص کیا ہے اس کی دلیل قرآن کا سیاق و سباق ہے مگر شیعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد صرف چار آدمی ہیں اس کی بنیاد ابو سعید خدری کا قول ہے۔

  1. یعنی جمہور نے اہلِ بیتؓ سے مراد نبی کریمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ لی ہیں۔
  2. قرآنِ کریم کے سیاق و سباق سے یہی ظاہر ہوتا ہے مگر ہم شیعہ نہیں مانتے کیونکہ ابو سعید نے کہا ہے جسے خدری بنا لیا گیا ہے۔
  3.  المنجد: اھل الرجل زوجته اہل سے مراد آدمی کی بیوی ہوتی ہے۔
  4. 4 تفسیر کشاف: زمحشری جو معتزلہ تھا امام لغت ہے آیت کی تفسیر میں:
صفحہ 8 از 12