آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 9 از 12

امرھن امرا خاصا بالصلوٰۃ والزکوٰۃ ثم جاء به عاما فی جمیع الطاعات لان ھاتین الطاعتین البدنیۃ والمالیۃ ھما اصل سائر الطاعات من اعتنی بھما حق اعتنائه جرتاہ الی ماورائھما ثم بین انه انما نھاھن و وعظھن لئلا یقارف اھل بیت رسول اللہﷺ الماثم ولیتصعونوا عنه بالثقوی واستعار للذنبوب الرجس وللتقوی الطھر لان عرض المقترف للقبحات یتلوث بھا ویتلنس کما یتلوث بدنه بالا رجاس واما الحسنات فالعرض معھا نقی وصون کالثوب الطاھر واھل بیت نصب علی النداء وعلی المدح و فی ھذا دلیل بین علی ان نساء النبیﷺ من اھل بیته ان اللہ کان لطیفا خبیرا حین علم من یصلح لنبوۃ ومن یصلح لان یکونوا اھل بیته۔

اللہ تعالیٰ نے ازواج النبیﷺ کو پہلے خاص نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا پھر عام حکم تمام عبادات کے متعلق دیا کیونکہ یہ دونوں بدنی اور مالی عبادتیں تمام عبادات کی اصل ہیں جو شخص ان دونوں عبادتوں کی طرف کما حقہ توجہ کریں تو یہ دونوں اسے دوسری عبادات کی طرف پہنچا دیں گی پھر فرمایا کہ اس نے انہیں امر اور نصیحت اس لیے کی کہ اہلِ بیتِ نبیﷺ گناہوں کا ارتکاب نہ کریں اور بذریعہ تقویٰ گناہوں سے بچیں اور اللہ تعالیٰ نے گناہ کو ناپاکی کے استعارہ سے بیان فرمایا ہے لہٰذا ورع تقوٰی کو طہارت کے استعارہ سے اس لیے کہ جو شخص گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اس کی عزت و آبرو ملوث وہ مقدر ہو جاتی ہے جیسے کپڑا یا بدن نجاست سے ملوث ہم مکدر ہو جاتا ہے اور نیکو کار عورتوں کی عزت ایسے محفوظ رہتی ہے جیسے پاک کپڑا اور یہ استعارہ کے رنگ میں یہ کلام جو بیان ہوئی یہ اہلِ دانش کو ان چیزوں سے نفرت دلانے کے لیے جو اللہ کو ناپسند ہیں لفظ اہلِ بیتؓ کو نصب سے بیان کیا بوجہ ندا کے یا برمدح و ثنا اور یہ آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ازواج النبیﷺ اہلِ بیتِ نبیﷺ ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون نبوت کے اہل ہیں اور کوئی عورت اہلِ بیتِ نبیﷺ بننے کے لائق ہے۔

معلوم ہوا کہ لغت میں کلامِ عرب میں اور کلامِ الہٰی میں اہلِ بیتؓ سے مراد بیویاں ہوتی ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ قرآنِ کریم کیا لغت عرب میں نازل ہوا ہے یا کسی اور زبان میں اگر عربی زبان میں ہے اور عربی میں اہلِ بیتؓ کا لفظ عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے تو ان سب حقائق کے برعکس ازواج النبیﷺ کو اہلِ بیتؓ سے خارج کر کے ائمہ کو جو یقینا مرد ہی ہیں کسی منطق سے اہلِ بیتؓ میں داخل کیا جاتا ہے۔

5۔ قرآنِ کریم:

لغت عرف اور تفسیر قرآن سے واضح ہو گیا کہ اہلِ بیتؓ سے مراد بیویاں ہوتی ہیں اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ آیتِ زیرِ بحث کے علاوہ قرآنِ کریم میں یہ ترکیب کن معنوں میں استعمال ہوئی ہے۔

واستبقا الباب وقدت قمیصه من دبر والفیا سیدھا لدا الباب قالت ما جزاء من اراد باھلک سوءا الخ۔

اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا الخ۔(سورة یوسف آیت نمبر25)۔

یہ حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کے سلسلے میں بیان ہو رہا ہے عورت نے جب اپنے خاوند کو دیکھا تو اسے کہا کہ اس کی سزا کیا ہے جو تیرے اہل کے متعلق برا ارادہ رکھے۔

صاف ظاہر ہے کہ اہل سے مراد بیوی ہے یہاں بیوی کو خارج کر کے کوئی اور تین چار داخل کر دیں تو کیا معنیٰ ہوں گے۔

تفسیر صافی طبع ایران میں اس آیت کی تفسیر میں بیان ہوتا ہے:

والفیا سیدھا ای صارفھا زوجھا لدالباب قالت الخ بادرت الی ھذا بقول ایھا ما یاتھا فرت منذ تبریته لساحتھا عند زوجھا۔

زلیخا نے اپنے خاوند کو دروازے پر پایا تو کہنے لگی کیا جزاء ہے یہ کہنے میں زلیخا میں جلدی کی کیونکہ وہ کہنا چاہتی تھی کہ یوسف علیہ السلام سے بھاگ کر آئی ہے اور اپنے آپ کو خاوند کے سامنے پاک دامن ظاہر کرنا چاہتی تھی۔

اور ملا عمر حسین طباطبائی کی تفسیر المیزان میں ہے:

فبدات امراۃ العزیز تشکو یوسف الیه وتسئاله ان یجازیۃ فذکرت انه اراد بھا سوءا ولم یصرح باسم نفسھا وھی الاھل ولا باسم۔

خلاصہ یہ ہے کہ خاوند سے شکایت کرتے ہوئے اپنا نام نہیں بلکہ اھلک کہا تو ظاہر ہے کہ اہل سے مراد بیوی ہے۔

تفسیر قمی میں ہے کہ:

فبادرت امراۃ العزیز ماجزاء من اراد باھلک سوءا۔

یعنی عزیز کی بیوی ہے اور اپنے متعلق شکایت کرتے ہوئے باھلک کہہ رہی ہے۔

تفسیر مجمع البیان میں ہے:

ماجزاء یعنی ان المرأۃ سبقت بالکلام لتورک الذنب علی یوسف فقالت لزوجھا۔

شیعہ مفسرین متفق ہے کہ لفظ اہل کی اضافت مرد کی طرف ہو تو اس کی زوجہ مراد ہوتی ہے جب بیت کی طرف ہو تو خاوند کا وہ گھر ہے اس گھر میں سکون پذیر عورت مراد ہوگی۔

وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ الخ۔(سورة آلِ عمران آیت نمبر 122)۔

شیعہ مفسر فتح اللہ کاشانی اپنی تفسیر میں لکھتا ہے من اھلک از منزل عائشہؓ تو آیت کے معنیٰ یہ ہوئے کہ جب آپ اپنی بیوی (سیدہ عائشہؓ) کے گھر نکلے ہاں ایک شیعہ مولوی صاحب نے کہا تھا کہ من اھلک سے مراد من خواصک ہے میں نے سوال کیا وہ خواص کون تھے؟ یہ آیت تو جنگِ احد سے متعلق ہے حسنین تو بعد کی پیدائش ہیں۔ خواص تو وہی تھے جو ہمراہ گئے سیدنا علیؓ سیدنا حمزہؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ خواص کون تھے جن کے ہاں سے نکل کر حضورﷺ جنگ کے لیے چلے تھے۔

جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی۔

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ الخ۔(سورةالنمل آیت نمبر 49)۔

انہوں نے باہم قسم کھا کر کہا کہ ہم حضرت صالح علیہ السلام اور ان کی بیوی کو ضرور قتل کریں گے اور اس کے وارثوں سے کہیں گے کہ ہم تو اس کی بیوی کے قتل میں شریک نہیں ہوئے۔

یہاں اہل کا لفظ حضرت صالح علیہ السلام کی بیوی کے لیے استعمال ہوا ہے قریبی رشتہ داروں کو ولی کہا گیا ہے یعنی وہ اہل کے لفظ کے مفہوم داخل نہیں ہیں۔

يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتَ ٱلنَّبِىِّ إِلَّآ أَن يُؤۡذَنَ لَكُمۡ إِلَىٰ الخ۔(سورۃ الأحزاب آیت نمبر 53)۔

بغیر اذنِ نبیﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہونا۔

صفحہ 9 از 12