صلح حدیبیہ میں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

صلح حدیبیہ میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 3 صفحہ، 346 تاریخ الطبری: جلد، 2 صفحہ، 364)

عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں بیان کیا تھا کہ ہم خانہ کعبہ جائیں گے، اس کا طواف کریں گے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سال یہ ہوگا؟

میں نے عرض کیا: نہیں۔

آپ نے فرمایا: تو ضرور وہاں جائے گا اور طواف کرے گا۔

پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول نہیں؟

ابوبکر نے کہا: کیوں نہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں۔

میں نے کہا: کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟

ابوبکر نے کہا: کیوں نہیں۔

میں نے کہا: کیا وہ مشرک نہیں ہیں؟

ابوبکر نے کہا: کیوں نہیں۔

میں نے کہا: پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کیوں دباؤ قبول کریں؟

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اعتراض کا طریقہ ترک کر کے آپ کی اطاعت کو لازم پکڑ لیں۔ فرمایا: میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور حق وہی ہے جس کا آپ نے حکم فرمایا ہے، آپ اللہ کی مخالفت نہیں کر سکتے اور آپ کو اللہ ہرگز ضائع نہ کرے گا۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 3 صفحہ، 346)

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہو بہو وہی جواب دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا حالانکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب نہیں سنا تھا لہٰذا ابوبکر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کی بہ نسبت اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ موافقت کرنے والے تھے، باوجود یہ کہ عمر رضی اللہ عنہ محدث (ملہم) تھے لہٰذا صدیق کا مقام محدث کے مقام سے بلند تر ہے کیونکہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام قول و فعل سیکھتے تھے۔

(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ: جلد، 11 صفحہ، 117)

حدیبیہ میں جو فتح عظیم حاصل ہوئی اس کو بیان کرتے ہوئے ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلام میں فتح حدیبیہ سے بڑھ کر کوئی عظیم فتح نہیں لیکن اس دن لوگوں سے اس حقیقت کو سمجھنے میں کوتاہی ہوئی جو اللہ رب العالمین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان طے ہوا تھا۔ بندے ہمیشہ جلد بازی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ جلد بازی نہیں کرتا۔ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر سہیل بن عمرو کو دیکھا، وہ قربان گاہ کے پاس کھڑا ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کو قریب کر رہا تھا، اور آپ نحر (اونٹ ذبح کرنا) فرما رہے تھے۔ اس کے بعد آپ نے حجام کو بلایا اور اپنے سر کا حلق کرایا، میں سہیل کو دیکھ رہا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کو اٹھا اٹھا کر اپنی آنکھوں پر رکھ رہا تھا حالانکہ یہی شخص حدیبیہ کے موقع پر ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘ اور ’’محمد رسول اللہ‘‘ لکھنے پر معترض تھا، اس کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ میں نے اس وقت اللہ کی حمد و ثنا کی اور شکر ادا کیا جس نے اس کو اسلام کی ہدایت سے نوازا۔(کنزالعمال: 30136 بحوالہ خطب ابی بکر الصدیق، محمد احمد عاشور: 117) ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے بڑھ کر درست رائے اور کامل عقل کے مالک تھے۔

(تاریخ الخلفاء للسیوطی: صفحہ، 61)


صفحہ 2 از 2