سیدہ زینب رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3

نبی کریمﷺ نے سیدنا زید بن حارثہؓ کو 71 سواروں کے ہمراہ قافلے کے تعاقب کے لیے روانہ کیا اور مقامِ عیص میں قافلہ ملا کچھ لوگ گرفتار ہوئے اور باقی بھاگنے میں کامیاب ہوگئے سیدنا ابوالعاصؓ سیدہ زینبؓ کے ہاں تشریف لائے تو سیدہ زینبؓ نے ان کو پناہ دے دی اس کے بعد سیدہ زینبؓ کی سفارش پر تمام مال و اسباب ان کے حوالے کر دیا سیدنا ابوالعاصؓ نے مکہ جا کر جس جس کا مال تھا اس کے حوالہ کیا اور پوچھا کسی کا مال تو میرے ذمہ باقی نہیں تو تمام لوگوں نے کہا فجزاک اللہ خیرا فقد و جدناک وقیا کریما۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دیے ہم نے تمہیں بڑا شریف اور وفادار پایا ہے اس کے بعد قریشِ مکہ کے سامنے اسلام کا اعلان کیا اور مکہ سے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو حضورﷺ نے سیدہ زینبؓ کو ان کے حوالے کر دیا۔

سیدہ زینبؓ کی فضیلت:

حضورﷺ کی اس لختِ جگر نے اسلام کے لیے پجرت کی اور تمام مصائب و آلام دین کے لیے برداشت کئے۔اور نبی کریمﷺ کی لختِ جگر جب دربارِ رسالت میں آئیں تو نبی کریمﷺ فرماتے:

خیر بناتی اصیبت فی ھی افضل بناتی اصیبت فی۔ 

ترجمہ: میری بیٹیوں میں سیدہ زینبؓ بہترین بیٹی ہے جس کو میری وجہ سے ستایا گیا۔

یہ افضل بیٹی ہے جس کو میری وجہ سے روکا گیا:

(مجمع الزوائد للہیثمی جلد، 9 صفحہ، 213 دلائل النبوہ للبیہقی: جلد، 2 صفحہ، 426)

سیدہ زینبؓ کی اولاد:

سیدہ زینبؓ کی تمام اولاد سیدنا ابوالعاصؓ بن الربیع سے ہوئی ان میں ایک صاحبزادہ جس کا نام سیدنا علیؓ تھا۔ یاد رہے یہ وہی سیدنا علیؓ ہے جس کو رسولﷺ نے کندھو پر بیٹھایا تھا جس نے کعبہ کے بت توڑے اور ایک صاحبزادی جس کا نام سیدہ امامہ بنتِ ابوالعاصؓ تھا اور ایک صاحبزادہ صغر سنی میں ہی فوت ہو گیا۔

سیدہ زینبؓ کے بیٹے سیدنا علی بن سیدنا ابوالعاصؓ نبی کریمﷺ کی نگرانی میں پرورش پاتے رہے۔

اور جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریمﷺ نے ان کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا تھا اور یرموک کے معرکہ میں شہید ہوئے اور بعض کے نزدیک یہ قریب البلوغ ہو کر فوت ہوئے۔

(اسدالغابہ لابنِ کثیر جلد، 4 صفحہ،41 الاصابہ لابن حجر عسقلانی: جلد، 2 صفحہ، 503)

سیدنا علی بن سیدنا ابوالعاصؓ اور سیدہ امامہ بنتِ سیدنا ابو العاصؓ سے نبی ﷺبڑی محبت فرمایا کرتے۔

ایک دفعہ نبیﷺ نماز کے لیے تشریف لائے کہ سیدہ امامہ حضورﷺ کے گود پر سوار ہیں۔

آپﷺ نے ایسی حالت میں نماز ادا فرمائی جب رکوع میں جاتے تو اتار دیتے جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے۔

(بخاری شریف: جلد، 1 صفحہ، 74 مسلم شریف: جلد، 1 صفحہ، 205 مسند ابو داؤد ظیالسی صفحہ، 85 ابو داؤد شریف: جلد، 1 صفحہ، 132 صحیح ابنِ حبان: جلد، 2 صفحہ، 313)

سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں بیش قیمت ہار بطورِ ہدیہ آیا اس وقت آپﷺ کے پاس تمام ازواجِ مطہرات تشریف فرما تھیں اور یہی سیدہ امامہ صحن میں کھیل رہی تھیں آپﷺ نے ازواجِ مطہرات سے پوچھا یہ ہار کیسا ہے سب نے کہا کہ ایسا خوبصوت ہار تو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں تو آپﷺ نے فرمایا لادفعتھا الی احب اھلی الی۔ یہ ہار میں اس کو دوں گا جو میرے اہلِ بیتؓ میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔

پھر آپﷺ نے وہ قیمتی ہار خود اپنے دست مبارک سے سیدہ امامہؓ کے گلے میں پہنا دیا۔

(اسد الغابہ: جلد، 5 صفحہ، 400 مجمع الزوائد للہیثمی: جلد، 9 صفحہ، 452 الفتح ربانی: جلد، 22 صفحہ، 420 الاصابہ: جلد، 4 صفحہ، 230)

سیدہ امامہ بنتِ ابوالعاصؓ سے سیدنا علیؓ بن ابی طالب کا نکاح:

سیدہ فاطمہؓ نے اپنے انتقال سے قبل سیدنا علیؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ اگر میرے بعد شادی کریں تو میری بڑی بہن کی بیٹی سیدہ امامہؓ کے ساتھ کرنا۔ وہ میری اولاد کے حق میں میری قائم قام ہو گی۔

چنانچہ سیدنا علیؓ نے اس وصیت کے مطابق 12ھ میں سیدہ امامہ بنتِ ابوالعاصؓ سے نکاح کیا اور سیدنا زبیر بن عوامؓ نے اپنی نگرانی میں ان کی شادی سیدنا علیؓ سے کر دی یہ نکاح مسلّم بین الفریقین ہے اہلِ سنت اور شیعہ حضرات اپنے اپنے مقام میں اس کو ذکر کیا کرتے ہیں۔

(مزید تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں: الاصابۃ: جلد، 3 صفحہ، 433، انور النعمانیہ: جلد، 1 صفحہ، 347)

سیدہ زینبؓ کا انتقال پُر ملال:

سیدہ زینبؓ مکہ سے مدینہ تشریف لاتے ہوئے دورانِ ہجرت ہبار بن اسود کے نیزہ سے زخمی ہوئی تھیں کچھ عرصہ کے بعد آپؓ کا وہی زخم دوبارہ تازہ ہو گیا جو ان کی وفات کا سبب بنا اسی وجہ سے بڑے بڑے اکابرین، صاحبِ قلم حضرات نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ فکانوا یرونھا ماتت شھیدہ۔

حافظ ابنِ کثیرؒ نے لکھا کہ ان کو شہیدہ کے نام سے تعبیر کیا جانا چاہیئے۔

سیدہ زینبؓ کی وفات پر نبیﷺ غمزدہ ہوئے اور تمام بہنیں اس حادثہ فاجعہ سے اور تمام عورتیں شدتِ جذبات سے رو دیں۔

سیدنا عمرؓ سیدہ زینبؓ کی وفات کا سن کر حاضر ہوئے عورتوں کو روتا دیکھ کر آپؓ نے منع فرمایا تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اے عمرؓ سختی سے ٹھر جائیں پھر حضورﷺ نے عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا شیطانی آوازیں نکالنے سے پرہیز کریں پھر فرمایا جو آنسو آنکھوں سے بہتے ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کی رحمت سے ہے۔

(مشکوٰۃ شریف: صفحہ، 152)

سیدہ زینبؓ کا اعزاز:

سیدہ زینبؓ کے غسل کا اہتمام حضورﷺ کی نگرانی میں ہوا سیدہ ام ایمنؓ، سیدہ سودہؓ، سیدہ ام سلمہؓ، سیدہ امِ عطیہؓ نے غسل دیا۔

سیدہ امِ عطیہؓ فرماتیں ہیں کہ حضورﷺ سیدہ زینبؓ کے انتقال کے بعد تشریف لائے اور فرمایا کہ سیدہ زینبؓ کے نہلانے کا انتظام کرو پانی میں بیری کے پتے ڈال کر ابالا جائے اور اس پانی کے ساتھ غسل دیا جائے۔ اور غسل کے بعد کافور کی خوشبو لگائی جائے جب فارغ ہو جائیں تو مجھے اطلاع کرنا پس ہم نے اطلاع کر دی تو حضورﷺ نے اپنا تہبند اتار کر جسمِ اطہر سے عنایت فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میرے اس تہبند کو کفن کے ساتھ رکھ دو۔

(بخاری: جلد، 1 صفحہ، 187 مسلم: جلد، 1 صفحہ، 304)

سیدہ زینبؓ کا جنازہ:

جب سیدہ زینبؓ کا جنازہ تیار ہوگیا تو بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ پردہ داری سے میت کو تدفین کے لئے لے جایا گیا۔

سیدہ زینبؓ کا ایک اور اعزاز:

صفحہ 2 از 3