سیدہ زینب رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا

  نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 3

خالق ارض و سمٰوٰت نے سیدہ زینبؓ کو یہ اعزاز بھی دیا کہ ان کا جنازہ امام الانبیاءﷺ نے پڑھایا اور روایات میں آتا ہے وصلی علیہا رسولﷺ۔

(حوالہ انساب الاشراف: جلد، 1 صفحہ، 400)

حضورﷺ سیدہ زینبؓ کی قبر میں خود اترے:

سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی صاحبزادی کا انتقال ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضورﷺ کی معیت میں سیدہ زینبؓ کو دفنانے کے لئے حاضر ہوئے ہم قبر پر پنہچے حضورﷺ نے نہایت مغموم تھے۔ ہم میں سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ قبر کی لحد بنانے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی حضورﷺ قبر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور ہم لوگ آپﷺ کے آس پاس بیٹھ گئے اسی اثناء میں آپﷺ کو اطلاع کی گئی کہ قبر تیار ہو گئی ہے اس کے بعد آپﷺ خود قبر کے اندر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد باہر تشریف لائے تو آپﷺ کا چہرہ انور کھلا ہوا تھا اور غم کے آثار کچھ کم تھے اب عشاق عرض کرتے ہیں: یا رسول اللہﷺ اس سے پہلے آپ کی طبیعت بہت مغموم نظر آرہی تھی اب آپﷺ‎ کی طبیعت میں بشاشت ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ آپﷺ نے فرمایا قبر کی تنگی اور خوف ناکی میرے سامنے تھی اور سیدہ زینبؓ کی کمزوری اور ضعف بھی میرے سامنے تھا اس بات نے مجھے رنجیدہ خاطر کیا پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ سیدہ زینبؓ کے لئے اس حالت کو آسان فرما دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لیا اور سیدہ زینبؓ کے لئے آسانی فرما دی۔

(مجمع الزوائد للہیثمی: جلد، 3 صفحہ، 47 کنزالعمال: جلد، 8 صفحہ، 120)

میں نے بڑے اختصار کے ساتھ سیدہ زینبؓ بنتِ رسول ﷺ کے حالات پیدائش تا وفات لکھ دیئے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ حضورﷺ کا اپنی بڑی لختِ جگر کے ساتھ کیسا مشفقانہ معاملہ تھا کہ زندگی میں بھی حضورﷺ کی محبت حاصل رہی اور وفات کے بعد تمام معاملات حضورﷺ کی نگرانی میں ہوئے۔


صفحہ 3 از 3